زخموں کی نوعیت کا پتا لگانے والی اسمارٹ پٹی تیار

04:41PM Tue 17 Nov, 2015

لندن: ایک معمولی زخم کی درست تشخیص نہ ہونے کے باعث بعض اوقات مریض کئی قسم کی اینٹی بائیوٹیکس کا استعمال کرتا ہے جس سے کئی سائیڈ ایفکٹس سامنے آتے ہیں اور وہ لمبے عرصے تک زخم سے نجات حاصل نہیں کرپاتا لیکن اب اس پریشانی کا حل نکال لیا گیا ہے اور ایک ایسی اسمارٹ پٹی تیار کرلی گئی ہے جس کے بدلتے رنگوں سے زخم کی نوعیت کی تشخیص کر کے درست دوائی تجویز کی جاسکے گی۔ باتھ یونیورسٹی میں تیار کردہ یہ پٹی زخم میں پیدا ہونے والے بیکٹریا کی درست نشان دہی کرے گی جس کی بدولت ڈاکٹرز بہتر دوائی تجویز کر کے علاج کے عمل کو تیز کر سکتے ہیں اور انفیکشن کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جب پٹی کو زخم پر لگایا جاتا ہے تو زخم میں موجود بیکٹریا کا زہریلا مادہ پٹی میں لگے چھوٹے چھوٹے بلبوں سے ٹکراتا ہے جس سے پٹی بنفشی رنگ بکھیرنا شروع کردیتی ہے اور اس سے پتا چل جاتا ہے کہ بیکٹریا کی نوعیت کیا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا یہ پٹی جلے ہوئے مریضوں بالخصوص بچوں کے لیے بہت مدد گار ہے کیوں کہ بچوں کے کمزور مزاحمتی نظام کی وجہ سے زخموں میں جلد انفیکشن ہوجاتا ہے جس کے باعث مریض کو ایک لمبے عرصے تک اسپتال میں رہنا پڑتا تھا اور بعض اوقات یہ زخم زندگی بھر کا روگ بن جاتا ہے تاہم اس پٹی کی مدد سے بیکٹریا کی درست تشخیص سے اس بڑے مسئلے کا حل نکل آیا ہے اور اب ایسے مریضوں کے زخم جلد مندمل ہوسکیں گے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ عام پٹی ہٹاکر بہت آسانی سے اور بہت جلدی انفیکشن کا پتا نہیں چل پاتا اور پٹی کا ہٹانا درد اور مزید زخم کا باعث ہو سکتا ہے اس لیے اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے احتیاط کے طور پر انفیکشن کی تصدیق ہونے سے قبل ہی ڈاکٹر اینٹی بایوٹکس ادویات دیتے ہیں جوبیکٹیریا اینٹی بایوٹکس کے خلاف مدافعت پیدا کرتا ہے اور ایسے بیکٹیریا صحت کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔ باتھ یونیورسٹی میں بائیو فزیکل کیمسٹری کے شعبے ریڈر اور اس پراجیکٹ کے انچارج ڈاکٹر ٹوبی جینکنس کاکہنا تھا کہ اس اہم ایجاد سے مریض کی جان بھی بچائی جا سکتی ہے۔