مولانا ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی کو حدیث کے ادبی پہلو پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض

03:32PM Sun 14 Dec, 2014

بھٹکلیس نیوز / 14 دسمبر، 14 ریاض/ (راست) جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ عربی کی جانب سے مولانا ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی کو ’’الجوانب الادبیۃ والبلاغیۃ والجمالیۃ فی الحدیث النبوی‘‘ یعنی حدیث کے ادبی وبلاغی وجمالی پہلو پرڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض کی گئی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر جناب پروفیسر طلعت احمد صاحب کے بدست جامعہ ملیہ اسلامیہ المنائی ایسوسی ایشن، ریاض کی جانب سے جامعہ کے ۹۴ ویں یوم تاسیس کی مناسبت پر ریاض شہر میں منعقد ہونے والی پروقار تقریب میں ڈاکٹر نجیب قاسمی نے اپنی پی ایچ ڈی کی تکمیل پر میمنٹو حاصل کیا۔ اس موقع پر اترپردیش سرکار میں پنچایتی راج کے وزیر جناب کمال اختر اور راجیہ سبھا کے ممبر جناب جاوید علی خان بھی موجود تھے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ المنائی ایسوسی ایشن، ریاض کی جانب سے منعقد ہونے والی تقریب میں ہندوستان کی اہم سرکردہ شخصیات کے علاوہ ۵۰۰ سے زیادہ برادران جامعہ مع اہل وعیال موجود تھے۔ ڈاکٹر نجیب قاسمی نے مایہ ناز عربی ادیب جناب ڈاکٹر شفیق احمد خان ندوی سابق صدر شعبہ عربی اور پروفیسر رفیع العماد فینان کی سرپرستی میں عربی زبان میں ۴۸۰ صفحات پر مشتمل اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا۔ ڈاکٹر نجیب قاسمی کے مناقشہ کے لئے دہلی یونیورسٹی کے سابق صدر شعبہ عربی ڈاکٹر نعمان خان ممتحن کی حیثیت سے مدعو کئے گئے تھے جس میں موصوف نے خود اعتمادی کے ساتھ ممتحن کے سوالات کے جوابات عربی زبان میں دئے۔ ڈاکٹر نجیب قاسمی نے ڈاکٹر شفیق احمد خان ندوی کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا جن کی خاص توجہ اور عنایت میں یہ قیمتی تحقیقی مقالہ پیش کیا گیا۔ موصوف نے ڈاکٹر سید خالد حامدی، ڈاکٹر نعمان خان اور جامعہ ملیہ اسلامیہ شعبہ عربی کے اساتذہ کا بھی شکریہ اداکیا۔ موصوف نے اپنے مقالہ کا اردو زبان میں ملخص ترجمہ شائع کرنے کے لئے کام بھی شروع کردیا ہے۔ ڈاکٹر نعمان خان نے اس تحقیقی مقالہ کو عربی زبان میں بھی شائع کرنے کا مشورہ دیا۔ ڈاکٹر نجیب قاسمی کا تعلق اترپردیش کے شہر سنبھل کے ایک علمی خانوادہ سے ہے، آپ کے دادا مجاہد آزادی مولانا محمد اسماعیل سنبھلی ؒ نے تقریباً ۱۷ سال مختلف اداروں میں بخاری شریف پڑھائی۔ ڈاکٹر نجیب قاسمی کی اب تک سات کتابیں (حج مبرور ،حی علی الصلاۃ، اصلاحی مضامین، تحفہ رمضان المبارک، مختصر حج مبرور، عمرہ کیسے کریں اور معلومات قرآن) منظر عام پر آچکی ہیں۔ نیز موصوف کے مضامین مختلف اخباروں وجرائد میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ دین اسلام کی خدمت کے لئے ان کی ویب سائٹ (www.najeebqasmi.com) کافی مقبولیت حاصل کرچکی ہے۔ ڈاکٹر نجیب قاسمی نے دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد بی اے عربی جامعہ ملیہ اسلامیہ سے اور ایم اے عربی دہلی یونیورسٹی سے کیا ہے۔ ڈاکٹر نجیب قاسمی نے اپنے پی ایچ ڈی مقالہ میں ذکر کیا ہے کہ شرح حدیث، سند حدیث اور اقسام حدیث پر بہت کام ہوا ہے مگر حدیث کے ادبی پہلو پر کام بہت کم ہوا ہے ، اردو زبان میں تو کوئی قابل قدر کام ابھی تک نہیں ہوسکا ہے۔ ڈاکٹر نجیب قاسمی نے اپنی ریسرچ کے ذریعہ بتایا کہ قرآن کریم کا اعجاز حدیث کے ادبی پہلو پر فوقیت لئے ہوئے ہے مگر قرآن کریم کے بعد احادیث نبویہ کے عظیم علمی ذخیرہ سے نحو وصرف میں استدلال کیا جاتا ہے نیز انہوں نے حدیث نبوی کے ذریعہ عربی زبان پر پڑے اثرات کو دلائل کے ساتھ ذکر کیا۔ موصوف نے روایت الحدیث باللفظ یعنی احادیث قولیہ میں نبی اکرم ﷺ کے الفاظ ہونے پر مدلل بحث فرمائی ہے۔ ڈاکٹر نجیب قاسمی نے اپنے مقالہ میں حضور اکرم ﷺ کے کلام کی خوبیوں کو ذکر فرماکر فصاحت وبلاغت کے پیکر اور ادیب اسلام حضور اکرم ﷺ کے اقوال زریں کا ادبی وعلمی تحلیل کیا جس میں ایمانیات، معاملات، اخلاقیات اور معاشرت سے متعلق حضور اکرم ﷺ کے اقوال کا سب سے پہلے مفہوم ذکر کیا پھر الفاظ کے استعمال کی خوبیوں کو دلائل کے ساتھ ذکر کیا۔ حضور اکرم ﷺ کے جوامع الکلم پر بھی اس تحقیقی مقالہ پر روشنی ڈالی گئی ہے یعنی بڑی بڑی بات کو ادیب عرب محمد ﷺ نے کس طرح مختصر وجامع الفاظ میں بیان کیا ہے۔ ڈاکٹر نجیب قاسمی نے مقالہ کے آخر میں تحریر کیا کہ اس موضوع کے مختلف پہلوؤں پر مزید کام کیا جانا چاہئے کیونکہ حدیث نبوی ایسا علمی ذخیرہ ہے جس سے رہتی دنیا تک موتی نکلتے رہیں گے ۔