قحط سالی کے لئے مرکزی حکومت سے فنڈ حاصل کرنے کے لئے کئی شرائط جاری

03:35PM Fri 21 Jul, 2017

بنگلور(( بھٹکلیس کارناتاکانیوز) ): اگر ریاست کو قحط سالی کا سامنا کرنا پڑا تو مرکزی حکومت سے فنڈ حاصل کرنا آسان بات نہیں ہے اور اس کے لئے کئی شرائط کا سامنا کرنا پڑیگا اور اس سلسلہ میں مرکزی حکومت نے فنڈ حاصل کرنا آسان بات نہیں ہے اور اس کے لئے کئی شرائط کا سامنا کرنا پڑیگا اور اس سلسلہ میں مرکزی حکومت نے فنڈ حاصل کرنے کے لئے نئے شرائط لاگو کردئے ہیں۔ریاستی حکومت نے قحط سالی علاقے قرار دے کر فنڈ حاصل کرنے کیلئے چند نئے سرائط جاری کئے تھے او راس کی تمام تفصیلات مرکزی حکومت کو روانہ کئے تھے ۔مگر مرکزی حکومت نے فنڈ جاری کرنے کے لئے انکار کرتے ہوئے نئے شرائط پر ہی فنڈ جاری کرنے کی بات کہی ہے۔وزیر برائے زراعت کرشنابائرے گوڈا نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ مرکزی حکومت پہلے سے ہی کرناٹک کے ساتھ کئی معاملات میں فنڈجاری کرنے کے لئے سوتیلا پن رویہ اپنا رہی ہے اور یہ شرائط صرف کرناٹک کے لئے ہیں یا تمام ریاستوں کیلئے ہیں اس تعلق سے کوئی وضاحت نہیں کی ہے۔ مرکزی حکومت کے نئے شرائط کو دیکھنے کے بعدریاستی حکومت کو ایک طرح سے جھٹکا لگاہے۔تمام شرائط غیر سائنٹیفک ہیں۔ اگر ان تمام شرائط کو دیکھا جائے تو فنڈ حاصل کرنا بہت مشکل ہوگا۔انہو ں نے بتایا کہ نئے شرائط کے مطابق اگر لگاتارچار ہفتوں تک گنجائش سے کم بارش ہوئی تو اسے قحط سالی علاقہ قرار دیاجاتا ہے ۔اس کے علاوہ گذشتہ سال کے مقابل زیر زمین پانی کی سطح میں کمی۔ باندھ(ڈیم ) اور تالابوں میں پانی کم ہونے پر اسے قحط سالی سے متاثر علاقہ قرار دیا جاسکتا ہے ۔ریاست میں متوازن بارش ہوتی رہتی ہے۔ کھیتی کے موقعہ پر اچھی بارش ہوئی ہے تو فصلوں کے موسم میں بارش کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ ابھی تک اس طرح کی کئی وارداتیں ہوئی ہیں ۔ریاست میں کئی سالوں سے سوکھا پڑا ہے او رلگاتار چھ سالوں سے سوکھا پڑنے کے باوجود 70 سے 80 فیصد تک کھیتی ہوئی ہے ۔ مرکزی حکومت کے نئے شرائط جاریہ سال کے مانسون اور اس کے بعد کے موسم پرلاگو ہوں گے۔ اس مرتبہ اگر 60 فیصدی سے کم بارش ہوئی تو قحط سالی قرار دیا جاسکتا ہے ۔ورنہ ریاست کو فنڈ ملنا بہت مشکل ہے۔ نئے شرائط میں 50فیصدی سے کم کھیتی ہونی چاہےئے 60فیصد سے کم بارش ہونی چاہےئے۔ ڈیم اور تالابوں میں پانی کی سطح کم اور قحط سالی علاقوں کی سروے کی تصاویرروانہ کرنا ہوگا۔