ریاستی ٹرانسپورٹ کارپوریشنوں کے ملازمین کی غیر معینہ مدت کی ہڑتال سے عام زندگی متاثر
04:13PM Mon 25 Jul, 2016
حکومت ہڑتالی بس ملازمین سے بات چیت کیلئے تیار: سدرامیا
بنگلورو۔25جولائی(ایجنسی) تنخواہوں میں اضافہ کا مطالبہ کرتے ہوئے ریاستی ٹرانسپورٹ کارپوریشنوں کے ملازمین کی طرف سے شروع کی گئی غیر معینہ مدت کی ہڑتال کی وجہ سے آج پہلے دن عام زندگی پر کافی اثر پڑا ۔ریاست میںنجی بسوں پر پتھراؤ کے واقعات کے علاوہ ریاست بھر میں بس ہڑتال پرامن رہی ۔تنخواہوں میں اضافہ سمیت 44 مطالبات کو لے کر بی ایم ٹی سی ، کے ایس آر ٹی سی ، نارتھ ایسٹ اور نارتھ ویسٹ کے ایس آر ٹی سی کے تمام ملازمین نے ہڑتال کی ہے۔ہڑتال کے نتیجہ میں جہاں سرکاری بسین راستوں سے غائب رہیں وہیں نجی بسوں ، میاکسی کیاب اور آٹو رکشا کے ڈرائیورون نے جم کر کمائی۔ بس ہڑتال کے سبب ریاست کے سبھی اہم بس اسٹانڈوں میں معقول پولیس بندوبست کیاجاچکا ہے۔ بس ڈپوز کے پاس بھی سیکورٹی بڑھادی گئی ہے۔ احتیاطی طور پر دو دنوں کیلئے تعلیمی اداروں کو چھٹی کا اعلان کیا جاچکا ہے۔ اس دوران ٹرانسپورٹ ملازمین کی طرف سے مزدور انجمن کے لیڈر ایچ وی اننت سبا رائو نے اعلا ن کیا ہے کہ حکومت کی طرف سے جب تک تمام مطالبات تسلیم نہیں کئے جاتے ہڑتال واپس نہیں لی جائے گی ۔انہوں نے حکومت سے بات چیت پر آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ عوام کو پریشانی میں ڈالنا ٹرانسپورٹ ملازمین کا مقصد قطعاً نہیں ہے، اپنے مطالبات پرزور دینے کیلئے یہ ہڑتال ناگزیر ہے۔ اس دوران وزیر ٹرانسپورٹ رام لنگا ریڈی نے بھی ٹرانسپورٹ انجمنوں سے بات چیت پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ہی ایسما لاگو کرنے پر غور کیا جائے گا۔ فی الوقت حکومت کی توجہ اس ہڑتال کی وجہ سے شہریان کو متبادل سہولت فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔
وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کہاکہ سرکاری بسوں کے ملازمین اپنی ہڑتال ترک کرکے ڈیوٹی پر حاضر ہوں ،بعد میں ان کے مطالبات پر بات چیت کی جاسکتی ہے۔ فی الوقت حکومت کی طرف سے خدمات ضروریہ قانون ایسما لاگو کرنے کی کوئی تجویز نہیں ہے۔