ایس ڈی پی آئی ایک ایسے سماجی نظام قائم کرنے کے لیے پرعزم ہے جس نظام میں عوام کو انصاف، تحفظ اور حقوق حاصل ہوگی۔ اے سعید

05:42AM Mon 1 May, 2017

نئی دہلی(بھٹکلیس نیوز)سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) نے 'دہشت کی سیاست کے خلاف متحد ہوں 'کے نعرے کے تحت گزشتہ 8اپریل کو بنگلور سے ملک گیر مہم کا آغاز کیا تھا۔ اس مہم کے ذریعے پارٹی نے مرکزی حکومت کی متعدد عوام مخالف اور آئین مخالف اقدامات کے مخالفت میں ملک گیر مہم کے ذریعے عوام میں اس بات کی بیداری پیدا کی گئی کہ کس طرح مرکزی حکومت اپنے سیاسی مفادات کے لیے معاشرے کے امن اور ہم آہنگی کو تباہ کررہی ہے۔ ایک ماہ طویل اس مہم کے اختتامی پروگرام کے طور پر 29اپریل کو جنتر منتر ، نئی دہلی میں ایک روزہ احتجاجی دھرنے کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں ملک کے معروف سیاسی و سماجی رہنماؤں اور سرگرم سماجی کارکنان نے شرکت کرکے کثیر تعداد میں جمع پارٹی کارکنان اور عوام سے خطاب کیا۔ ایس ڈی پی آئی قومی جنرل سکریٹری الیاس محمد تمبے نے احتجاجی دھرنے میں شریک مدعوین اور مندوبین کا استقبال کیا۔ انہوں نے اپنے تقریر میں کہا کہ گائے کے تحفظ کے بہانے نام نہاد گؤ رکھشک بلا روک ٹوک بے گناہ غریب مسلمانوں اور دلتوں کو تشدد کا نشانہ بنا نے والے فرقہ پرست عناصر کے ظلم و جبر کو وزیر اعظم نریندر مودی خاموش تماشائی بنے دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے گؤ رکھشکوں کو گؤ راکشش سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ گؤ رکھشک کے نام پر انسانوں کا قتل کررہے ہیں۔ نظامت کے فرائض ایس ڈی پی آئی قومی کوآرڈینٹر ڈاکٹر نظام الدین نے کی۔ ایس ڈی پی آئی قومی نائب صدر اڈوکیٹ شرف الدین احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم مرکزی حکومت کی فسطائی نظام کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ملک کی سا لمیت اور مفاد کے خاطر قربانیاں پیش کرنے کے لیے عوام کو آگے آنا چاہئے۔ جب سے مرکزی حکومت اقتدار میں آئی ملک میں افراتفری کا ماحول پیدا ہوا ہے ۔ انہوں نے ملک بھرمیں جاری فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پر مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کی سخت تنقید کی ۔ نیز انہوں نے پولیس انتظامیہ کی انتظامیہ سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تشدد کے ارتکاب کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے پولیس الٹا متاثرین کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے انہیں مزید ہراساں کررہی ہے۔پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے قومی چیئرمین ای ۔ ابوبکر نے اپنے خطاب میں ایس ڈی پی آئی کی اس تحریک کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی مذکورہ تحریک'دہشت کی سیاست کے خلاف متحد ہوں'کا یہ اختتام نہیں آغاز ہے۔ ای۔ ابوبکر نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور سنگھ پریوار جنہوں نے اس ملک کی تحریک آزادی میں حصہ نہیں لیا تھا وہ اپنے آپ کو 'دیش پریمی 'اوراقلیتی طبقات اور ان کے رہنما جب حکومت کے عوام مخالف اور آئین مخالف سر گرمیوں پر آواز اٹھاتے ہیں تو انہیں 'غدار وطن 'کہاجاتا ہے۔ انہوں نے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ایس ڈی پی آئی اس ملک میں ایک نئی تاریخ رقم کرے گی ۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آ ف انڈیا (SDPI) نے ' دہشت گردی کی سیاست کے خلاف متحد ہوں ' کے نعرے کے تحت گزشتہ 8اپریل کو بنگلور سے ملک گیر مہم کا آغاز کیا تھا۔ اس مہم کے ذریعے ایس ڈی پی آئی عوام کے تئیں مرکزی حکومت کی مختلف عوا م مخالف، کسان مخالف اور غریب مخالف پالیسیوں ، کارپوریٹ نواز پالیسیوں کے تعلق سے عوامی بیداری پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ فرقہ وارانہ منافرت کے ذریعے اور اپنے سیاسی فائدے کے لیے معاشرے کی امن اور ہم آہنگی بگاڑ نے والی مرکزی حکومت کو عوام کے سامنے اجاگر کررہی ہے۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے قومی صدر اے سعید نے جنتر منتر پر جمع کثیر عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک تنگ ذہن رکھنے والوں کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے۔ ملک کے کئی علاقوں میں ہورہے متعدد فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات سے پھیلے خوف وہراس اور عدم تحفظ کے ماحول سے ایسا لگ رہا ہے کہ ثقافت، عقیدے اور گائے ذبیحہ کے نام پر تشدد برپا کرنے والے اور جرم کا ارتکاب کرنے والے مجرمین کے خلاف قانون کے رکھوالے خاموش ہیں۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر اے سعید نے عوام کی آئینی ذمہ داریوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو اس بات سمجھنا ہے کہ سیاست صرف ووٹ ڈالنے تک کے عمل تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ جمہوری سرگرمیوں کے ذریعے اپنے حقوق کی حفاظت کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک طرف مرکزی حکومت یونیفارم سول کوڈ، بابری مسجد ۔ رام مند ر تنازعہ ، تین طلاق اور دیگر دھوکہ دینے والی سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے مسلمانوں پر شدید دباؤ ڈال کر اور ملک کے دیگر جمہوری عمل سے محروم رکھ کر مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک تک محدود رکھ کر ان کی پامالی کر رہی ہے۔ قومی صدر اے سعید نے کہا کہ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا ایک ایسے سماجی نظام قائم کرنے کے لیے پر عزم ہے جس نظام میں عوام کو انصاف، تحفظ اور حقوق حاصل ہوگی۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد نے کہا کہ سنگھ پریوار کی قیادت میں جمہوریت کو کچلنے اور کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہم سب متحد ہوکر فسطائی طاقتوں کے ناپاک ارادوں کو مات دینا ہے اور ہمارے ملک کو ان کے شکنجے سے بچانے کے لیے آگے آنا چاہئے۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے سینئر کانگریس رہنما منی شنکر ایئر نے کہا کہ انصاف ہر ایک فرد کا حق ہے اور بد قسمتی سے ملک کے اقلیتوں کو انصاف سے محروم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ہم وطن ہونے کے باوجود موہن بھاگوت غلط راستے پر ہیں اور ہم صحیح راستے پر ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی سا لمیت کو قائم رکھنے کے لیے ہم سب کو متحد ہونے کی ضرورت ہے ۔ آر پی آئی کنوینر اشوک بھارتی نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہمارے ملک کی جمہوریت کو بحال کرنے کے لیے دلت اور مسلمانوں کا متحد ہونا بہت ضروری ہے۔ ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے کانگریس حکومت پر تنقیدکرتے ہوئے کہا کہ ان کی دور حکومت میں اس ملک میں تشدد اور فسادات برپا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرتے تو آج نریندر مودی وزیر اعظم نہیں گجرات قتل عام معاملہ میں جیل کی سزا کاٹ رہے ہوتے۔ بی جے پی 31فیصد ووٹ حاصل کرکے بھی ملک میں انتخابات جیتتی آرہی ہے۔ بقیہ 69فیصد عوام جب تک متحد ہوکر بی جے پی کی نظریات کی کڑی مخالفت نہیں کریں گے جب تک وہ سیاسی طور پر کامیاب نہیں ہونگے۔ لو ک سنگھٹن صدر سرینیواسن نے اپنی تقریر میں کہا کہ فسطائی طاقتیں صرف ایک مخصوص طبقے پر نہیں بلکہ پورے ملک کے عوام پر حملہ کررہی ہے۔ ہمیں فسطائی طاقتوں کو سیاسی طور پر شکست دینا ہوگا۔ ہمارے ملک کی جمہوریت کو مضبوط کرنے اور سیکولرازم کی بالادستی کے لیے ملک کے عام عوام کا متحد ہونا بے حد ضروری ہے۔اس ایک روزہ احتجاجی دھرنے میں ملک کے معروف شخصیات نے شرکت کی۔ کانگریس سے سینئر لیڈر منی شنکر ائیر، پاپولرفرنٹ آف انڈیا کے قومی چیئرمین ای ۔ ابوبکر، جنتا دل ( یو ) کے لیڈر کے ۔ سی ۔ تیاگی، دہلی مائنارٹی کمیشن کے سابق چیئرمین کمال فاروقی، امبیڈکر سماج پارٹی کے صدر تیج سنگھ، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر حامد نوید، NCHROصدرپروفیسر کویا، کیمپس فرنٹ صدر شعیب، ڈاکٹر ظفر الاسلام خان، اڈوکیٹ اشوک اگروال، کویتا کرشنن، ڈاکٹر انیس احمد، طارق صدیقی، تسلیم رحمانی، اڈوکیٹ مائیکل، فادر جان دیال، لوک راج سنگھٹن صدرسرینیواسن راگھون، سماجی کارکن آر پی۔ پانڈے، RPIکنوینراشوک بھارتی، سماجی کارکن روی نائیر،معروف شاعر و نقاد انور فریدی، معروف صحافی انل سنہا، سپریم کورٹ اڈوکیٹ این ۔ڈی ۔ پنچولی،سمیت ایس ڈی پی آئی کے قومی اور صوبائی عہدیداران اور ہزاروں کارکنان شریک رہے۔ مدھیہ پردیش ریاستی جنرل سکریٹری سلیم انصاری نے تمام مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔