جمعیۃ علماء ہند جمعیۃ یوتھ کلب اور پرمارتھ نکیتن کے زیر سرپرستی امن وایکتا ہریالی یاترا کے تحت شجرکاری مہم کا آغاز

04:11PM Sun 25 Aug, 2019

نیو دہلی : 25 اگست، 19 (راست)  خوشحال اور متحد ہندستان کا خواب مختلف فرقوں اور مذاہب کے درمیان میل ملاپ اور باہمی محبت سے ہی حقیقت بن سکتا ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ بلاتفریق مذہب و قوم ہر شخص صاف ستھرے، سر سبز اور خوشحال مستقبل مہیا کرانے کے لیے دوش بدوش مل کر کام کرے۔ا س پیغام کے ساتھ جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی اورمعروف ہندو مذہبی رہ نماسوامی چدا نند سرسوتی مہاراج صدر پرمارتھ نکیتن رشی کیش کی قیادت میں ایک قافلہ نے آج مذہبی شہر رشی کیش سے دہلی تک تین روزہ ’امن و ایکتا ہریالی یاترا‘نکالی ہے، جس کے تحت مختلف علاقوں میں شجرکاری کی جارہی ہے۔ یہ تقریب آج صبح آٹھ بجے پرمارتھ نکیتن رشی کیش سے شروع ہوئی، پھر ریلوے اسٹیشن رشی کیش، ہری دوار ریلوے اسٹیشن، مدرسہ دارالعلوم رشیدیہ جوالا پور،مدرسہ جامعہ حسینیہ مرغوب پور،نیشنل ہائی وے بائی پاس پور قاضی، باغوالی، جامعہ الہدایہ نگلہ رائی چرتھاول، جے ہند انٹر کالج چرتھاول، تاؤلی، مدنی یوتھ سینٹر نیشنل ہائی وے مظفرنگر میں ایک تقریب کے انعقاد کے ساتھ ختم ہو ئی، کل دوسرے دن (26اگست) کو دیوبند سے یہ یاترا دوبارہ شروع ہو گی۔یہ پوری شجرکاری مہم جمعیۃ علماء ہند کی آواز پر جمعیۃ یوتھ کلب اور گلوبل انٹرفیٹھ واش الائنس (جیوا) کے زیر اہتمام چل رہی ہے۔ اس موقع پر میڈیا سے اپنے خطاب میں جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے کہا کہ آج کے دور میں اس فکر کی ہر گز گنجائش نہیں ہے کہ ہم باہمی منافرت اورفرقہ واریت میں الجھے رہیں،ہم آج تاریخ کے اس موڑ پر ہیں جہاں ہمیں انسانی زندگی کو خطرے سے بچانا ہے۔ ہمارے سامنے گلوبل وارمنگ، درجہ حرارت،تشدد اور قدرتی آفات میں مسلسل اضافے کا چیلنج ہے، جن کی وجہ سے سمندر، ندیا ں کو خطرہ لاحق ہے حتی کہ پینے کے لیے صاف پانی کی دستیابی دور حاضر کا بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔بایں سبب ہم نے عہد کیا ہے کہ ہم متحدہ طور پر اپنے آلودہ اور سکڑتے ہوئے آبی ذخیروں کی بازیابی اور اپنے جنگلوں، شہروں اور دیہاتوں کے بچانے کے لیے شجر کاری مہم چلائیں گے۔ہم نے یہ یاترا سوامی چد نند سرسوتی مہاراج کی قیادت میں نکالی ہے، ہماری اس تحریک کو کثیر مذہبیت اور تہذیبی تنوع کے مابین ہم آہنگی کو فروغ دینے کے طور پر بھی دیکھا جانا چاہیے۔ سوامی چدا نند سرسوتی مہاراج نے بھی اپنے خطاب میں کہا کہ یہ وطن ہم سب کا ہم اور ہم سب کو مل کر اسے سجانا ہے، آج یہ ضرورت ہے کہ ہم اپنے وطن کے سینے میں پانی اور ہریالی کی زینت لگائیں۔انھوں نے کہا کہ ہریالی کے بغیر صاف پانی کی دستیابی ممکن نہیں ہے۔ اس لیے آج ہم ہندو اور مسلمانوں نے مشترکہ طور سے ہریالی کی تحریک چلائی ہے، ساتھ ہی ہمیں اپنے من اور جل دونوں کو صا ف کرنا ہے، ان دونوں کی آلودگی مانوتا کے شبھ نہیں ہے* ۔اس یاترا میں اتراکھنڈ اور مغربی یوپی کی جمعیۃ علماء کے ذمہ داران اور پرمارتھ نکیتن سے تعلق رکھنے والے کارکنان بڑی تعداد میں شریک تھے۔ مرکز سے جمعیۃ علماء ہند کے سکریٹری اور اس یاترا کے کنوینر مولانا حکیم الدین قاسمی، جمعیۃ علماء اتراکھنڈ کے صدر مولانا عارف قاسمی، مولانا ہارون صدر جمعیۃ علماء ہریداور،قاری شمیم روڑکی، مفتی بنیامین،قاری ذاکر مظفرنگر اورجمعیۃ کے سیئنر آرگنائزر قاری احمد عبداللہ رسول پوری بھی شریک  رہے۔