علما اورمسلم رہنماؤں کا آسٹریلوی وزیراعظم کی گول میز کانفرنس کا بائیکاٹ

03:25PM Wed 21 Nov, 2018

سڈنی: آسٹریلیا کے مفتی اعظم اور ممتاز مسلم رہنماؤں نے وزیراعظم اسکاٹ موریسن کی جانب سے بلائی جانے والی گول میز کانفرنس کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق آسٹریلیا کے مفتی اعظم ابراہیم ابو محمد اور دیگر سینئر علما نے ایک کھلے خط کے ذریعے وزیراعظم موریسن کی گول میز کانفرنس میں شرکت کی دعوت کو مسترد کردیا ہے۔ آسٹریلوی وزیراعظم کے نام لکھے گئے کھلے خط میں مفتی اعظم کا کہنا تھا کہ میری اور پوری مسلم کمیونٹی کی آسٹریلوی وزیراعظم کے حالیہ بیان سے دل آزاری ہوئی ہے جس میں انہوں نے کسی ایک دہشت گرد کے منفی عمل کو بنیاد بنا کر پوری امت مسلمہ کو مجرم ٹھہرادیا تھا۔ مسلم علما کے کھلے خط کو آسٹریلوی میڈیا میں جگہ دی گئی جس میں علما نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم اور چند وزرا کے تعصبانہ بیانات سے حالات مزید کشیدہ ہوجائیں گے جن میں نیک نیتی کے فقدان کا صاف اظہار ہوتا ہے۔ وزیراعظم اسکاٹ موریسن نے سوشل میڈیا کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ آسٹریلیا کو محفوظ بنانے کی ذمہ داری ہم سب کی ہے جس کے لیے مسلم کمیونٹی کو شدت پسندانہ نظریات سے اجتناب برتنا ہوگا اور اگر ایسا نہیں کیا گیا تو خود مسلمان بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔ واضح رہے کہ رواں برس 9 نومبر کو میلبورن میں صومالی نژاد مسلم نوجوان نے چاقو کے وار کرکے ایک شخص کو ہلاک اور دو کو زخمی کر دیا تھا، حملہ آور پولیس کی جوابی فائرنگ میں مارا گیا تھا۔ نوجوان داعش سے متاثر تھا جب کہ پولیس نے دہشت گردی کی واردات کی منصوبہ بندی کرنے والے مزید 3 نوجوانوں کو حراست میں لے لیا تھا۔