شہر کیرانہ سے ہندوؤں کے انخلا کے بارے میں فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ
11:53AM Fri 17 Jun, 2016
نیو دہلی (پریس ریلیز)ملی گزٹ کی ارسال کردہ سماجی کارکنوں اور صحافیوں کی ٹیم نے مغربی اترپردیش کے شہرکیرانہ کا ۱۴جون ۲۰۱۶ کو دورہ کیا۔ یہ شہر پچھلے دنوں اس وقت سے کافی خبروں میں ہے جب علاقہ کے بی جے پی ایم پی حکم سنگھ نے دعویٰ کیا تھا کہ کیرانہ کے ۳۴۶ ہندو خاندان مسلمانوں کی دھمکیوں کی وجہ سے شہر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ اس دعویٰ کی وجہ سے میڈیا اور سیاسی حلقوں نے کیرانہ کے معاملے میں غیر معمولی دلچسپی دکھائی اور وہیں اترپردیش میں لا اینڈ آرڈر کے مسئلے پر بھی گفتگو ہونے لگی۔
حکم سنگھ کے الزام کے بعد نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن نے حکومت اترپردیش کو مزعومہ انخلاء کے بارے میں رپورٹ بھیجنے کو کہا اور حکومت اترپردیش نے خود بھی اس مسئلے پر انکوائری کا آرڈر دے دیا۔
جب ہماری ٹیم ۱۴جون کو کیرانہ پہنچی تو ہمیں اطلاع ملی کہ پاس کے قصبہ کاندھلہ کے بارے میں بھی بی جے پی اور اس سے جڑی ہوئی ہندوتوا تنظیموں نے ایک لسٹ جاری کرکے دعویٰ کیا ہے کہ وہاں سے بھی ۱۶۳ ہندو خاندانوں کا انخلاء ہوا ہے اور کاندھلہ کے سلسلے میں بھی کیرانہ جیسے الزامات لگائے گئے۔
کیرانہ کی لسٹ میں چار ایسے لوگوں کے نام شامل ہیں جن کا انتقال ہوچکا ہے اور ۶۸ ایسے خاندان ہیں جو کافی عرصہ قبل کیرانہ چھوڑ کر جاچکے ہیں۔ حکم سنگھ کی لسٹ میں ۲۰ (بیس)ایسے خاندان بھی ہیں جو اب بھی کیرانہ میں رہائش پذیر ہیں۔
ان حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ یہ الزامات ایک محکم پلان کا حصہ ہیں تاکہ سوسائٹی کو مذہبی خطوط پر بانٹ کر اگلے سال آنے والے اتر پردیش کے الیکشن میں اس کا سیاسی فائدہ حاصل کیا جاسکے۔
آر ۔ایس ۔ایس خاندان اور اسکی ذہنیت رکھنے والوں نے جھوٹی خبریں اورافواہیں پھیلا کر فرقہ وارانہ تقسیم اور نفرت پھیلا کر بی جے پی کو خوب مضبوط کیا ہے۔ آر ۔ایس۔ایس کے لسان حال آرگنائزر اور پانچ جنیہ نے اپنی حالیہ اشاعتوں میں کیرانہ کو فرنٹ پیج مسئلہ بنایا اور اس کا وادی کشمیر سے پنڈتوں کے انخلاء سے موازنہ کیا۔ اس سلسلے میں کچھ صحافیوں اور میڈیا کی تنظیموں کا رول بھی انتہائی قابل اعتراض رہا۔ انہوں نے اس مزعومہ کہانی کو خوب خوب دہرایا۔ہم نے پایا کہ مسئلے کو قومی سطح پر لانے سے ایک ہفتہ قبل سے ہندی روزنامہ جاگرن نے مسلسل اس جھوٹ کو پھیلایا اور بعد میں زی نیوز اور دوسرے ابلاغی ذرائع نے بھی اس کوپھیلانا شروع کیا جبکہ انہوں نے زمینی حقیقت کو جاننے کی بالکل کوشش نہیں کی۔
جس روز ہم کیرانہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ حکم سنگھ نے اپنا موقف بدل دیا ہے۔ یہ وہی شخص ہے جو ستمبر ۲۰۱۳ کے مظفر نگر فسادات میں بھی ایک ملزم ہے۔اب اس نے دعویٰ کیا کہ کیرانہ کا مسئلہ ’’فرقہ وارانہ‘‘ نہیں ہے بلکہ یہ علاقے میں لااینڈ آرڈر کی خرابی کا مسئلہ ہے۔یہ دعویٰ بھی جھوٹ تھا کیونکہ اگر علاقے میں لا اینڈ آرڈر خراب ہوتا تو آس پاس کے دوسرے قصبوں اور شہر وں سے بھی ہندوؤں کااسی طرح کا مزعومہ انخلاء عمل میں آیا ہوتا۔
سہارنپورینج کے ڈی آئی جی پولیس اشوک کمار راگھو نے ۱۱ جون کو ریاستی حکومت کو بھیجی گئی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مقامی ایم پی کی یہ کوشش درحقیقت علاقے میں فرقہ وارانہ تقسیم کرنے کی ہے تا کہ اس کی بیٹی اگلے سال اتر پردیش کے الیکشن میں کامیاب ہوسکے۔ ڈی آئی جی راگھو نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ مستقبل قریب میں فرقہ وارانہ فساد ہوسکتا ہے۔ ڈی۔آئی جی راگھو نے یہ بھی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مذکورہ گروپ ہر چھوٹے مسئلے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ ایک مسئلے میں جہاں ایک ہندو عورت کو ریپ کرکے ماردیا گیا تھا، دو ہندوؤں کے نام بطور ملزم سامنے آئے تھے لیکن ان لوگوں نے سیاسی دباؤ بنانا شروع کیا کہ صرف مسلمانوں کو اس جرم میں گرفتار کیا جائے۔
دوسری طرف شاملی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے ایس ڈی ایم اور کیرانہ پولیس سرکل آفیسر کو حکم دیا ہے کہ اس الزام کی تحقیقات کریں کہ ’’جہادی عناصر‘‘ نے کیرانہ سے ہندوؤں کا انخلاء کرایا ہے۔ مجسٹریٹ نے یہ حکم ویشوا ہندو پریشد کے جوائنٹ جنرل سکریٹری سریندر جین کے ۱۳ جون کے الزام کے بعدکیا جس میں جین نے کہا کہ علاقہ میں ’’جہادیوں کو اپنے کام کرنے میں شہ مل رہی ہے‘‘۔ کیرانہ نے ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی میں نمایاں کردارادا کیا تھا اور اسے ہندوستانی کلاسیکل سنگیت کے ’’کیرانہ گھرانہ‘‘ کی وجہ سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہاں ۲۰۱۱ کی مردم شماری کے مطابق ۴۷,۸۰ فیصد مسلمان ، ۳۴,۱۸ فیصد ہندو اور کچھ دوسرے مذاہب کے لوگ بستے ہیں۔یہی وہ علاقہ ہے جہاں ستمبر ۲۰۱۳ مظفر نگر فساد میں لٹے پٹے مسلمانوں کی بڑی تعداد نے پناہ لی تھی۔
ہماری ٹیم نے پایا کہ یہاں ایسی بہت سی باتیں ہو رہی ہیں جو باہر نہیں آپاتی ہیں اور فی الحال جو ہنگامہ برپاہے وہ اگلے سال یوپی اسمبلی الیکشن کو کسی بھی طرح سے جیتنے کے لئے ایک پلان کا حصہ ہے۔ جس روز ہم نے کیرانہ کا دورہ کیا وہ آٹھواں رمضان تھا لیکن ہم نے پایا کہ اس مسلم اکثریتی قصبے میں ہوٹل کھلے ہوئے تھے اور لوگ کھلے عام طورسے کھا پی رہے تھے۔ سڑکوں پر اور بازاروں اور محلوں میں تناؤ کا کوئی ماحول نہیں تھا، حالانکہ دورعلاقوں میں خبریں سننے والوں کو ایک دوسری ہی تصویر مل رہی تھی ۔اسی طرح ہم کو کیرانہ کے محلوں میں کسی گھر پر ’’بکا ؤ ہے‘‘ کا سائن بورڈ نہیں نظر آیا حالانکہ اس قسم کی تصویر سارے اخبارات میں چھپ رہی تھی۔
کیرانہ پولیس کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر ایم۔ایس۔گل نے ہم کو بتایا کہ ’’ہندوؤں کے انخلاء کی بات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔جو ہورہا ہے وہ ایک عام بات ہے۔اس علاقے سے نکل کر لوگ دوسرے علاقوں میں بہتر امکانات اور زیادہ اچھی زندگی کے لیے جارہے ہیں ۔ لیکن بعض لوگ ایک خاص مقصد سے اسے دوسرا رنگ دے رہے ہیں کیونکہ ۲۰۱۷ میں الیکشن ہونے والا ہے‘‘۔
کیرانہ پولیس کے سب انسپکٹر تنور نے ہم کو بتایا کہ ’’میڈیا نے اس بات کو بہت اچھا ل دیا ہے۔ دونوں فرقوں کے لیڈر یہاں جمع ہوئے اور انہوں نے بھائی چارے کے لئے اپیل کی ہے‘‘۔
ایک ۵۶ سالہ ہندو حلوائی نے اپنا نام نہ بتاتے ہوئے ہم کو بتایا کہ یہ حقیقت ہے کہ مقیم کا لا گینگ یہاں پروٹکشن کے نام پر پیسے اینٹھتا ہے اور اسی وجہ سے مذکورہ حلوائی کا بھائی کیرانہ چھوڑ کر چلاگیا ہے۔ اس حلوائی نے مزید کہا کہ "یہ گینگ صرف امیر لوگوں کو نشانہ بناتا ہے اور اس میں کسی مذہب اورذات کی بات نہیں ہے‘‘۔
بیالیس سالہ وسیم نامی ایک مقامی آدمی نے ہم کو بتایا کہ ’’حکم سنگھ ۲۰۱۳ سے یہاں فرقہ وارانہ دنگا کرانا چاہتا ہے۔ لیکن اس سے کچھ نہیں ہونے والا ہے کیونکہ دونوں فرقوں میں مضبوط بندھن ہے جسے کوئی توڑ نہیں سکتا ہے‘‘۔
ایک ا ہم بات جو ہم کو معلوم ہوئی وہ یہ ہے کہ علاقے میں بی جے پی اور آر۔ایس۔ایس لیڈروں کے درمیان اقتدار کے لئے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی ہوڑ لگی ہوئی ہے اور اسی وجہ سے ہر گروپ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے لئے فرقہ وارانہ مسائل کھڑا کرتا ہے۔ مقامی لوگوں نے ہمیں بتایا کہ ۲۶مئی کی بی جے پی کی ریلی میں، جس میں وزیر اعظم نریندر مودی شریک ہوئے تھے، مرکزی وزیر سنجیو بالیان اور میرٹھ علاقے کے بی جے پی ایم ایل اے سنگیت سوم نے حکم سنگھ کو اسٹیج پر آکر مودی کے ساتھ بیٹھنے نہیں دیا تھا۔تب سے ہی حکم سنگھ اپنا قد بڑھانے کے لئے کوشاں ہیں۔
ہماری ٹیم کیرانہ کے بازاروں اور پتلی گلیوں میں بہت گھومی اور علاقے کے اعلی پولیس افسران سے بھی بات کی۔ ہم کو معلوم ہوا کہ حالیہ تنازعہ کی وجہ سے ابتک ۲۱ شادیاں ٹوٹ گئی ہیں۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کیرانہ کے ایس۔ایچ۔او مسٹر گل نے کہا کہ اگر ایسی افواہیں پھیلائی جائیں گی تو کون اپنی بیٹی کیرانہ بھیجے گا؟ انہوں نے کہا کہ وہ اس علاقہ میں چارماہ سے تعینات ہیں لیکن ابتک انہوں نے یہاں ایک بھی فرقہ وارانہ حادثہ نہیں دیکھا اور نہ ہی تھانے میں کوئی فرقہ وارانہ جرم یا نفرت کی شکایت آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسلم اکژیتی علاقے سے ستمبر ۲۰۱۳ کے دوران بھی ہندوؤں نے انخلاء نہیں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ناجائز وصولی کے نام پر کچھ تاجروں کے قتل کے بعد یہاں حالات نہیں خراب ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے یہاں اپنی زندگی میں پہلی بار ’’پلاین‘‘ (انخلاء) کا لفظ سنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رام نومی اور بالاجی شوبھا یاترا میں شرکت کرتے ہوئے انہوں نے ہندوؤں سے زیادہ مسلمان دیکھے لیکن اس کے بارے میں میڈیا کا کوئی آدمی بات نہیں کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہاں جرائم پیشہ خصوصا مقیم کالا گینگ کے ہاتھوں جبری وصولی کا کام ہوتا ہے لیکن اس کے زیادہ شکار مسلمان ہی ہیں۔
ہمیں معلوم ہوا کہ مقیم کالا حفاظت مہیا کرنے کے نام پر ریکٹ چلاتا ہے اور جبری وصولی کرتا ہے۔ فی الحال مقیم کالا اور اس کا شارپ شوٹر صابر اکتوبر ۲۰۱۵ سے جیل میں ہیں اور وہ وہاں سے بھی اپنا دھندھا چلا رہا ہے۔
مقامی لوگوں نے ہماری ٹیم کو بتایا کہ صرف جرائم پیشہ لوگ ہی موجودہ صورت حال کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ اسی کے ساتھ یہ بات بھی واضح ہوئی کہ یہ جرائم پیشہ لوگ صرف بہت ہی مالدار لوگوں کو ہاتھ لگاتے ہیں۔ لوگوں نے ہم کو بتایا کہ ایک ڈکیتی میں مقیم کو صرف ۴۰ ۔۵۰ہزار روپئے ہاتھ لگے تو اس نے وہ پیسے اپنے شکار کے منھ پر پھینک دئے۔
مقامی تاجروں نے ٹیم کو بتایا کہ یہاں ترقی کے بہت کم وسائل مہیا ہیں ۔ اس لئے مسلمان اور ہندو دونوں اس قصبے کو چھوڑ کر بڑے شہروں میں بسنے جارہے ہیں جہاں ملازمت اور تجارت کے بہتر امکانات موجود ہیں۔ مقامی لوگوں نے ٹیم کو بتایا کہ حکم سنگھ کی لسٹ میں اکثریت ایسے خاندانوں کی ہے جو اقتصادی وجوہات کی وجہ سے کیرانہ چھوڑ کر گئے ہیں۔ کیرانہ دہلی سے صرف ۹۸ کیلو میٹر دور ہے، اس لئے بہت سے خاندانوں نے دہلی کا رخ کیا ہے جہاں ان کو ترقی کے بہت سے امکانات ملتے ہیں۔
لوگوں نے بتایا کہ سنہ ۲۰۱۴ میں کیرانہ میں ۲۲قتل کے واقعات ہوئے جن میں سے صرف سات ہندو تھے جبکہ ۱۴ مسلمان تھے اور ایک مجہول تھا۔ جب سنہ ۲۰۱۴ میں تین ہندو تاجروں کا قتل ہوا تھا تو پورے بازار نے سات دنوں کی ہڑتال کی تھی حالانکہ بازار میں اکثر تاجر مسلمان ہیں۔
اس دورے کے دوران ایک اور دلچسپ بات سامنے آئی اور وہ یہ ہے کہ مقامی لوگوں کو کیرانہ سے میڈیا کی موجودہ دلچسپی سے یہ امید ہوچکی ہے کہ علاقے کی خراب حالت دیکھتے ہوئے، اس کے لئے بھی کچھ کیا جائے گا۔
مقامی لوگوں نے ہم کو بار بار بتایا کہ لوگوں کا کیرانہ چھوڑ کر جانا ’’انخلاء‘‘ نہیں بلکہ اقتصادی وجوہات کی وجہ سے ہے۔ اس علاقہ میں شہری سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں،جس کی وجہ سے علاج معالجہ اور شاپنگ کے لئے لوگوں کو پانی پت یا میرٹھ جانا پڑتا ہے ۔یہاں ملازمتیں اور کام نہیں ہیں جس کی وجہ سے روزانہ تقریباً ۵۔۷ ہزار لوگ کیرانہ سے پانی پت کام کرنے جاتے ہیں۔
ایک دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ پرانے زمانے سے یہاں جین اور ہندو ساہوکاروں کی چلتی تھی جو لوگوں کو کافی زیادہ بیاج پر قرضے دیتے تھے۔ یہ سلسلہ اب تقریباً ختم ہوگیا ہے کیونکہ لوگوں کو زیادہ آسانی اور کم سود پر بینکوں سے قرضہ مل جاتا ہے۔ بی جے پی کی تائید کرنے والے ایک حلوائی نے ہم کو بتایا کہ کیرانہ میں اب بزنس نہیں رہ گیا ہے۔ پہلے ہریانہ کے علاقوں سے لوگ یہاں خریداری کرنے آتے تھے لیکن ۲۰۱۳ کے فساد کے بعد انہوں نے آنا بند کردیا ہے۔ جب ہم نے اس حلوائی سے اس کے خاندان کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ ایک بیٹا احمد آباد میں بینک مینیجر ہے اور دوسرا چارٹرڈ اکاؤنٹنسی کے امتحان کی تیاری کررہا ہے اور ایک بیٹی ہے جس کی شادی ہوچکی ہے۔ وہ اس انتظار میں ہے کہ اسے اپنی دکان اور گھر کے صحیح پیسے مل جائیں تو جاکر اپنے بچوں کے ساتھ رہنے لگے۔ جو بات اس نے ہم کو نہیں بتائی وہ یہ ہے کہ نئی نسل اب اپنے آباء واجداد کے پیشوں کو نہیں اپنارہی ہے بلکہ زیادہ بہتر زندگی کی تلاش میں دوسرے شعبوں میں جارہی ہے۔ اس حلوائی کی طرح کے اور بھی لوگ موقع کی تلاش میں ہیں اور مناسب موقع ملنے پر اپنے قصبے سے دور کہیں جاسکیں گے۔اوریہ صرف ہندوؤں کا مسئلہ نہیں ہے۔ ہمیں پولیس کے ذرائع سے معلوم ہوا کہ انہیں وجوہات کی وجہ سے ۱۵۰ مسلم خاندان بھی کیرانہ چھوڑ چکے ہیں تاکہ کہیں اور ان کو اور ان کی اولاد کو بہتر مواقع حاصل ہوں۔حکم سنگھ کے موجودہ شوشہ کے بعد کیرانہ کے مسلمانوں نے بھی ایک لسٹ ایسے مسلمانوں کی تیار کی ہے جو بہتر زندگی کی تلاش میں اپنے قصبے کو خیر باد کہہ چکے ہیں۔
دہلی اور لکھنؤ میں حاکم طاقتیں کیرانہ اور اس جیسے چھوٹے مقامات کی آوازیں نہیں سن رہی ہیں۔حکومتوں نے کیرانہ اور اس جیسے چھوٹے شہروں کی ترقی کے لئے کچھ نہیں کیا ہے بلکہ صرف الیکشن جیتنے کے لئے لوگوں کو فرقہ وارانہ لائنوں پر بانٹنے کا کا م کیا ہے ۔وہ ترقی کا نعرہ دے کر نفر ت اور خوف پھیلاتی ہیں اور سوسائٹی کو بانٹ کر ووٹ اور اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ یہ سب عوام کی جہالت اور انتہا پسند جماعتوں کی پھیلائی ہوئی مصنوعی نفرت کی وجہ سے ممکن ہورہا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکومت اترپردیش نے اب تک بی جے پی کے ایم پی کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی ہے، جس کی جھوٹی افواہ کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو اتنی پریشانی ہوئی ہے۔
ہماری سفارشات
۱۔یوپی پولیس بلا تاخیر حکم سنگھ کے خلاف غلط بیانی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو تباہ کرنے کے جرم میں کیس فائل کرے۔
۲۔آنے والے مہینوں میں یوپی پولیس اور ایڈمنسٹریشن پورے صوبے میں الرٹ رہے کیونکہ الیکشن سے پہلے بی جے پی اور اس کی ہمنوا تنظیمیں افواہ پھیلا کر سوسائٹی کو بانٹیں گی اور فسادات کرائیں گی۔
۳۔میڈیا، بالخصوص ہند پریس، کو زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور کسی بھی افواہ کو نشر کرنے سے پہلے زمینی طور پر حقائق چک کرنا چاہئے۔
فیکٹ فائنڈنگ ٹیم
اویس سلطان خان (سماجی کارکن)، پشپ شرما(صحافی)، مازن خان (صحافی)، کوثر عثمان (صحافی)، محمد انور (سماجی کارکن)