اُلال میں ا یل کے جی طالبہ کے ساتھ جنسی ہراسانی ؛عوام برہم: پتھراﺅ کے بعد پولیس لاٹھی چارج

03:47PM Sat 14 Mar, 2015

بھٹکلیس نیوز / 14 مارچ، 15 ینگلور/(ایجنسی) ہاں سے قریب اُلال میں ایک ساڑھے تین سال کی بچی کے ساتھ جنسی ہراسانی کا معاملہ منظر عام پرآنے کے بعد عوام کی بڑی تعداد پہلے اسکول،پھر اسپتال اور بعد میں پولس اسٹیشن جمع ہوگئے اور سخت ناراضگی کاا ظہار کیا۔ جب پولس نے اسپتال کے باہر لوگوں کی بھیڑ کو اسپتال کے اندر جانے سے روکنے کی کوشش کی تو عوام مشتعل ہوگئے اور پولس پر پتھراﺅ شروع کردیا۔ عوام پر قابو پانے کے لئے پولس نے لاٹھی چارج شروع کردی ، ناراض عوام جب پولس اسٹیشن کے باہر جمع ہوکر احتجاج کرنے کی کوشش کی تو یہاں پر بھی پولس نے لاٹھی چارج کرتے ہوئے عوام کو منتشر کردیا۔اس دوران بسوں اور پولس جیپ پر پتھراﺅ سے نقصانات کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہے، جبکہ واقعے کے بعد اُلال میں حالات کشیدہ ہوگئے ہیں اور شام ہوتے ہوتے پورے شہر میں اندھیرا چھاگیا ہے۔ گڑبڑی کی اطلاعات پھیلتے ہی اُلال، تھوکوٹو اور اطراف کے علاقوں میںلوگوںنے دکانیں بند کرنی شروع کردی،جبکہ چند علاقوںسے خبریں ملی ہیں کہ پولس نے بھی لوگوں کو دکانیں بند کرنے کی ہدایت دی۔ذرائع سے موصولہ اطلاع کے مطابق ایل کے جی کی بچی اسکول سے جب گھرپہنچی تو ماں نے دیکھا کہ بچی کو پیشاب کرنے کے دوران خون بہہ رہاہے، ماں نے جب بچی سے گفتگو کی تو پتہ چلا کہ اسکول ٹمپو کے ڈرائیور نے بچی کے ساتھ جنسی کھلواڑ کیا ہے۔ اس بات کی جانکاری ہوتے ہی گھروالے اسکول پہنچے اور اسکول انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیا، بتایا گیا ہے کہ موقع پر موجودڈرائیور کی بھی خوب خبر لی گئی ، بعد میں پولس نے موقع پر پہنچ کر حالات پرقابو پایا اورٹمپو ڈرائیور کو حراست میںلے لیا۔ ڈرائیور کی شناخت مدھوکر شٹی (35) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔بچی کو جب تھوکوٹو اسپتال لے جایا گیا تو جنگل کی آگ کی طرح خبر پورے شہر میں پھیل گئی، جس کے ساتھ ہی عوام کی ایک بھیڑ اسپتال کے باہر جمع ہوگئی۔ لوگ بچی کی حالت دیکھنا چاہتے تھے، مگر اسپتال کے عملے نے بچی کو دکھانے سے انکار کیا،جس پر عوام مشتعل ہوگئے۔ یہاں پرعوام پر قابو پانے کے لئے پولس کو لاٹھی چارج کرناپڑا۔ اس موقع پر جب عوام نے پولس پر پتھراﺅ کیا تو میڈیا کے کچھ لوگوںنے وڈیو گرافی کرنے کی کوشش کی،جس پر عوام نے کچھ میڈیا والوں پر بھی اپنا غصہ اُتارا۔ لاٹھی چارج سے منتشر ہونے والی یہ بھیڑ بعد میں نیشنل ہائی وے پر جمع ہوگئی اور سواریوں پرپتھراﺅ شروع کردیا، ذرائع کے مطابق تھوکوٹو کی طرف جانے والی کچھ پرائیویٹ بسوں کو پتھراﺅ سے نقصان پہنچا ہے، مشتعل ہجوم نے یہاں پولس کی سواری پر بھی پتھراﺅ کیا۔ تھوکوٹو میں پتھراﺅ کی خبر پھیلتے ہی حالات کشیدہ ہوگئے جس کی بناءپر لوگوںنے اپنی دکانیں بند کرنی شروع کردی۔ یہاں سے عوام اُلال پولس اسٹیشن پہنچ گئے اور اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کرنے لگے، مگر جمع ہجوم کودیکھتے ہوئے پولس نے یہاں پر بھی لاٹھی چارج شروع کردی اور عوام کو منتشر کردیا، اس واقعے کے بعد اُلال میں بھی دکانیں بند ہونی شروع ہوگئی اور دیکھتے ہی دیکھتے تمام علاقے سنسان ہوگئے۔گڑبڑی کی اطلاع ملتے ہی پولس کی زائد فور س موقع پر منگوائی گئی ہے، اسسٹنٹ کمشنر آف پولس کلیان شٹی، سب انسپکٹر سویتا تیجا سمیت دیگر پولس اہلکار وں نے جائے واردات پر پہنچ کر حالات کو قابو میں کیا۔ بچی کو بعد میں مینگلور کے لیڈی گوشن اسپتال میں داخل کیا گیا، بتایا گیا ہے کہ یہاں بھی عوام کی کثیر بھیڑ جمع ہوگئی، بعد میںپولس نے یہاں بھی عوام کو ہٹاکر حالات کو قابومیں کیا۔ پولس واقعے کی چھان بین کررہی ہے۔ Share !