اسلامک فقہ اکیڈمی کاقیام ہندوستانی علماء واسلامی اسکالرکے لئے نعمت غیرمترقبہ:مفتی احمددیولوی

03:43PM Mon 6 Mar, 2017

فقہ اکیڈمی کاچھبیسواں فقہی سیمینارہندوستان کے مرکزی شہراجین میں جاری،آج کی نشستوں میں دواہم موضوعات پرمناقشہ ہوا اجین۔(بھٹکلیس نیوز)اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیاکے چھبیسویں فقہی سیمینار کی تیسری نشست کاآغاز ہوٹل پریسڈینٹ کے وسیع لان میں ہوا۔اس نشست کامرکزی موضوع ’’زمین کی خریدوفروخت سے متعلق مسائل‘‘ تھا۔نشست کی صدارت گجرات کے مشہورعالم دین مفتی احمددیولوی نے کی جب کہ نظامت کے فرائض اکیڈمی کے جنرل سکریٹری مولاناخالدسیف اللہ رحمانی نے انجام دیئے۔اس موضوع پرتقریبا50?سے زائدمقالات لکھے گئے۔اس نشست میں عرض مسئلہ پیش کرنے کے لئے مولانامحبوب احمدفروغ قاسمی،مولاناعثمان قاسمی بستوی اورمفتی ابصاراحمدقاسمی ڈائس پرتشریف لائے اورانتہائی خوش اسلوبی سے وقت کاخیال رکھتے ہوئے عرض مسئلہ پیش کیا۔عرض مسئلہ کے بعد شرکائے سیمینارکوسوالات وجوابات کاموقع دیاگیاجس میں موضوع کے مختلف شقوں پرسوالات پیش کئے گئے ساتھ ہی بعض اہم تجاویزبھی پیش کی گئیں جنہیں تجاویزکمیٹی کے حوالہ کردیاگیاتاکہ سیمینارکے اختتام پرتجاویزکی تیاری میں ان تجاویزپرغوروخوض کیاجاسکے۔اس موقع پرنشست کوخطاب کرتے ہوئے اکیڈمی کے جنرل سکریٹری مولاناخالدسیف اللہ رحمانی نے کہا کہ زمینوں کی خریدوفروخت عصر حاضر کا بہت اہم مسئلہ اور عصر حاضر میں یہ تجارت بہت اہمیت کی حامل ہے ،ریئل اسٹیٹ کی تجارت شہروں میں بہت مقبول ہے، مختلف انداز سے مختلف طرح کی زمینوں کی خریدوفروخت ہوتی اور کثرت کے ساتھ مسلمان بھی اس سے وابستہ ہیں،ایسے میں شرعی طریقہ جاننا اوراس تعلق سے مسائل کی تخریج وتشریح ضروری ہے ، انہوں نے کہاکہ اس موضوع کو شہر اجین کے مسلمانوں نے ہی سمینار میں شامل کرنے مطالبہ کیا تھا اور انہیں حضرات کی خواہش پر رواں سمینار میں اس موضوع کو بھی شامل کیا گیا۔ نشست کے اخیرمیں صدرمحترم مفتی احمددیولوی نے کہاکہ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ اسلامک فقہ اکیڈمی کے قیام سے لے کراب تک کے تقریباتمام سیمیناروں میں مجھے شرکت کاموقع ملا اوریقینامیں نے محسوس کیاکہ اکیڈمی کاقیام ہندوستان میں اہل علم کے لئے کسی نعمت غیرمترقبہ سے کم نہیں ہے۔اکیڈمی نے نئی نسل کے علماکوسوچنے سمجھنے اورجدیدپیش آمدہ مسائل کے حل کرنے کی سمت نئی روشنی عطاکی ہے۔اس طرح کے سیمیناروں کاجاری رہناتحقیق وریسرچ کے اسکالرکے لئے بہت ہی مفیدہے اوراس سے مسائل کے استنباط واجتہادمیں نئی نئی جہتیں کھلیں گی۔انہوں نے کہاکہ اکیڈمی میں تمام مقالات تحقیق کے ساتھ لکھے جاتے ہیں اور بہت غوروخوض کے ساتھ قرآن وحدیث کی روشنی میں مسائل کا استنباط واستخراج کیا جاتاہے یہی وجہ ہے کہ اکیڈمی کو دنیا بھر میں ایک معتبر فقہی ادارہ کی حیثیت حاصل ہے۔اس کے ساتھ ہی صدرمحترم کی دعاپرچوتھی نشست اختتام پذیرہوئی۔چائے کے وقفہ کے بعدسیمینارکی چوتھی نشست کاآغازہوا۔سمینار کی چوتھی نشست کا مرکزی موضوع ’’ سونا چاندی کی تجارت کے تعلق سے بعض مسائل ‘‘ تھا۔اس نشست کی صدارت معروف عالم دین مولانامفتی محبوب وجیہی مفتی شہررام پورنے کی جب کہ نظامت اکیڈمی کے سکریٹری مولاناعتیق احمدبستوی نے انجام دیئے۔اس نشست میں عرض مسئلہ پیش کرنے کے لئے مفتی محمداشرف قاسمی گونڈوی،ڈاکٹرمفتی محمدشاہجہاں ندوی اورڈاکٹرمولاناظفرالاسلام صدیقی ڈائس پرتشریف لائے اورعرض مسئلہ پیش کیا۔اس موضوع پرتقریبا41مقالے لکھے گئے۔عرض مسئلہ کے بعدشرکائے سیمینارکومختلف مسائل پرسوال وجواب کاموقع دیاگیا۔آخرمیں صدرمحترم مولانا محبوب وجیہی صاحب نے صدارتی خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ فقہی سمینار اسی لئے ہوتاہے کہ سب جمع کرکے نئے مسائل پر غورکریں اور شریعت کے منہج پر چلنے کا عوام کو موقع فراہم کریں۔بہت خوشی کی بات ہے کہ یہاں ہر ایک ا?زادی کے ساتھ اپین بات کہنے کا موقع دیا جاتاہے۔مولانا کی دعاء پراس نشست کا اختتام ہوا۔