ملت بیداری مہم کمیٹی نے تعزیتی جلسہ کا انعقاد کیا

09:51AM Fri 30 Dec, 2016

سرسید کے بعد سید حامد شمالی ہند کی عظیم ترین شخصیت تھے: ڈاکٹر جسیم محمد 29؍دسمبر2016: ملت بیداری مہم کمیٹی(ایم۔بی۔ایم۔سی) علی گڑھ نے مسلم یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ،جامعہ ہمدرد کے سابق چانسلر، عظیم ماہرِ تعلیم اور صحافی سید حامد کی دوسری برسی کے موقع پرمیڈیا سنیٹر میں منعقدہ تعزیتی جلسہ سے خطاب میں اے ایم یو کورٹ کے ممبر پروفیسر ہمایوں مراد نے کہا کہ سرسید کے بعد سید حامد شمالی ہند کی عظیم ترین علمی شخصیت تھے جنہوں نے سرسید کے مشن کو فروغ دینا ہی اپنی زندگی کا نصب العین بنالیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سید حامد نے قوم میں تعلیمی بیداری کی غرض سے تعلیمی کارواں شروع کیا ۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی کارواں کے دوران سید حامد نے یہ فراموش کرکے کہ وہ ملک کی ایک بڑی یونیورسٹی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے ہیں اور جامعہ ہمدرد کے چانسلر تھے اپنے ہمراہیوں کے ساتھ سفر کی تمام صعوبتیں برداشت کیں اور اپنی مہم کو آگے بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ قوم کی تعلیمی ترقی ہمیشہ سید حامد کے پیشِ نظر رہی۔ ڈاکٹر جسیم محمد نے کہا کہ مسلمانوں میں تعلیمی فروغ کی بات کی جائے تو سرسید کے بعد سید حامد کا نام آتا ہے جو قومی ہمدردی کے تعلق سے ان کی عظمت کی دلیل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سید حامد ایک بلند کردار شخصیت تھے جن کے سامنے اس وقت کی وزیرِ اعظم آنجہانی اندرا گاندھی بھی سر ڈھک کر آتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ سید حامد کا سب سے بڑا کارنامہ ہمدرد اسٹڈی سرکل ہے جو ملک میں سب سے زیادہ آئی اے ایس پیدا کرتا ہے۔ ڈاکٹر جی ۔ایف۔ صابری نے کہا کہ سید حامد کا تعلق سارے ملک سے ہونے کے سبب ہندوستان کے ہر شہر میں یومِ سید حامد کا انعقاد کیا جانا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ کسی کی ذات سے تنازعات کا وابستہ ہونا اس ذات کی عظمت کی دلیل ہے اور سرسید سے لے کر سید حامد تک کوئی ایسی بڑی شخصیت نہیں جس کی ذات سے کوئی نہ کوئی تنازعہ وابستہ نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ شخصیت سازی ا ور ادارہ سازی ہی سید حامد کو سب سے بڑا خراجِ عقیدت ہوگا۔ ڈاکٹر شیریں مسرور نے کہا کہ سید حامد جیسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سید حامد کی کوششوں سے ہی اے ایم یو ایکٹ میں دسمبر1980ء میں ترمیم کی گئی جس کے تحت اے ایم یو ایکٹ میں سیکشن(2)5(سی) کو جوڑا گیا جس کی رو سے اے ایم یو کو ہندوستان میں مسلمانوں کے تعلیمی اور ثقافتی فروغ کی ذمہ داری تفویض کی گئی۔ ڈاکٹر فرقان سنبھلی نے کہا کہ سید حامد نے مکمل طور پر خواندہ ہندوستان کا خواب دیکھا تھا جس کے تحت انہوں نے کل ہند سطح پر تعلیمی کارواں شروع کیا جس کے نتیجہ میں بڑی تعداد میں محروم اور پسماندہ طبقات کے بچے اسکول پہنچ سکے۔ انہوں نے کہا کہ سید حامد نے ملک میں مذہبی ہم آہنگی اور مشترکہ ثقافت کو فروغ دینے میں بھی اہم رول ادا کیا جس کے لئے وہ تا دیر یاد کئے جاتے رہیں گے۔