فورم فارمسلم اسٹڈیز اینڈ انالیسس کی طرف سے جنتر منتر پر مظاہرہ
01:06PM Fri 27 May, 2016
علی گڑھ27 مئی: فورم فارمسلم اسٹڈیز اینڈ انالیسس (ایف ایم ایس اے) کے زیر اہتمام قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان میں جاری بدعنوانیوں کے خلاف 30؍مئی2016 کو جنتر منتر ، نئی دہلی پر احتجاجی مظاہر ہ کیا جائے گا جس میں این سی پی یو ایل کے ڈائریکٹر پروفیسر سید علی کریم عرف پروفیسر ارتضیٰ کریم کے خلاف جانچ کا مطالبہ کیا جائے گا۔ مسلم فورم کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جسیم محمد نے بتایا کہ حکومت ہندنے این سی پی یوایل ادارہ اردو زبان کے فروغ اور اردو مصنفین؍شعراء کے امداد کے مقصد سے تشکیل دی تھا جو ایچ آرڈی منسٹری سے منسلک ادارہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ کونسل کے ذریعہ ان اردو مصنفین ؍شعراء کو تقویت دینی تھی جس کی تخلیقات مالی مشکلات کے سبب اشاعت سے محروم رہ جاتی تھیں۔ ڈاکٹر جسیم محمد نے کہا کہ پروفیسر ارتضیٰ کریم کے ڈائریکٹر بننے کے بعد سے این سی پی یو ایل میں جس طرح بدعنوانیاں اور بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں ۔ اس سے این سی پی یو ایل پر انگلیاں اٹھنے لگی ہیں۔ یہاں ہر معاملے میں سودے بازی ہو رہی ہے اور اسکیموں کو فروخت کیا جارہا ہے۔
ڈاکٹر جسیم محمد نے انکشاف کیا ہے کہ ڈائریکٹر ارتضیٰ کریم نے کمپیوٹروں کی خرید اور سافٹویروں کی خرید میں تمام قائدے قانون طاق پر رکھ دیے ہیں۔ کونسل کی اسکیموں کا فائدہ محض انھیں دیا جارہا ہے جو ڈائریکٹر کی خدمت میں مصروف ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈاکٹر ارتضیٰ کریم کے خلاف ان کے پاس پختہ ثبوت موجود ہیں۔ جس سے انھیں جیل پہنچایا جائے گا۔ڈاکٹر جسیم محمد نے کہا کہ یہ ثبوت سی وی سی (چیف وجیلنس کمیشن) کو فراہم کردیے گئے ہیں۔
ڈاکٹر جسیم محمد نے اعلان کیا کہ جنتر منتر پر 30؍مئی 2016 کو صبح 10:30 بجے سے شروع ہونے والا احتجاجی مظاہر ہ تاریخی ہوگا اور اس میں کونسل کے ڈائریکٹر کے خلاف جانچ کا مطالبہ کرنے کے ساتھ انھیں چھٹی پر بھیجنے اور جانچ میں الزام صحیح پائے جانے پر انھیں جیل بھیجنے کا بھی مطالبہ کیا جائے گا۔ اس بارے میں میمورنڈم وزیر اعظم اور وزیر ایچ آرڈی منسٹر اسمرتی ایرانی کو پیش کیا جائے گا۔
ڈاکٹر جسیم محمد نے تمام محبان اردو سے اپیل کی ہے کہ اردو اور این سی پی یو ایل کی فلاح و بقاکے لیے بڑی تعداد میں احتجاجی مظاہرہ میں شرکت کریں۔اس موقع پر ڈاکٹر جسیم کے ساتھ این جمال انصاری بھی موجود تھے۔