ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ اور دارالعلوم ندوۃ العلما نے تین طلاق پر وزیر اعظم کے بیان کو بتایا افسوسناک
03:32PM Wed 26 Oct, 2016
لکھنؤ / رانچی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے تین طلاق پر دئے گئے بیان کو علما نے مسلمانوں کے مذہبی امور میں بے جا مداخلت سے تعبیر کیا ہے۔ دار العلوم ندوۃ العلما کے مہتمم مولانا سعید الرحمان اعظمی نے لکھنئو میں ای ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم بھلے ہی مسلم خواتین کی خیر خواہی میں بیان دے رہے ہیں لیکن شرعی قوانین میں کسی کے کہنے سے تبدیلی نہیں کی جا سکتی ہے۔ وہیں جامعۃ المومنات کے مہتمم مولانا نجیب الحسن ندوی نےبھی وزیر اعظم کے بیان کو افسوس ناک قرار دیا ہے۔۔
ادھر ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ نے تین طلاق معاملہ پر مرکزی حکومت کے رویہ پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ آج رانچی میں علمائے کرام کی میٹنگ کے بعد میڈیا سے بات چیت میں ادارہ کے ناظم اعلی قطب الدین رضوی نے تین طلاق کے تعلق سے مرکزی حکومت کے ذریعہ سپریم کورٹ میں داخل حلف نامہ کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
ایسا نہ ہونے پر انہوں جمہوری طریقہ سے ملک گیر پیمانہ پر احتجاج کرنے کی بات کہی۔ میٹنگ میں اس معاملہ پر ایک قرارداد بھی پاس کیا گیا۔ ادارہ شرعیہ اس تعلق سے ایک خط صدر جمہوریہ کو روانہ کرے گا۔ انہوں نے وزیر اعظم کے بیان پر افسوس کا اظہار کیا۔