عدالت سے باعزت بری کئے جانے کے بعد مولانا شبیر بھٹکل پہنچے؛ مخدوم کالونی میں پرتپاک استقبال

04:49AM Tue 11 Apr, 2017

بھٹکلیس نیوز / 11 اپریل،2017 بھٹکل / (نامہ نگار) قریب 8/سال تک مختلف مقدمات کا سامنا کرتے ہوئے جیل کی سلاخوں میں بند بھٹکل کے مخدوم کالونی میں رہنے والے مولانا شبیر گنگاولی کل دیر رات اپنے گھر پہنچے جہاں ان کی والدہ اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ساتھ محلہ والوں نے ان کا پرتپاک استقبال کرتے ہوئے انہیں پھول کے ہار پہنائے اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔ خیال رہے کہ اے ٹی ایس نے  مولانا شبیر پر نقلی نوٹوں کا کیس درج کرتے ہوئے نومبر،  2009/میں انہں پونا کی ایک مسجد سے حراست میں لیا تھا مگر اُنہیں ایک ماہ سے زائد عرصہ کے  بعدیعنی جنوری 2009 میں عدالت میں  پیش کیا گیا اور اُس کی گرفتاری جنوری 2009 کی دکھائی گئی۔ پانچ سال تک ان کو اس معاملہ میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑی جس کے بعد انہیں رہا ہونا ہی تھا کہ اے ٹی ایس نے ممنوعہ دہشت گرد تنظیم انڈین مجاہدین کے رکن ہونے اور انڈین مجاہدین نامی تنظیم کے مبینہ بانیوں بھٹکل برادران کو آندھرا پردیش اور کرناٹک میں ہوئے بم دھماکوں کے ملزمین کو پناہ دینے کے معاملے میں  چھ دیگر نوجوانوں کے ساتھ انہیں بھی بلی کا بکر ا بنا دیا ۔تاہم سپریم کورٹ کے حکم پر مینگلور سیشن کورٹ میں معاملہ تیزی کے ساتھ چلا جس کے بعد بروزپیر 10اپریل کو مینگلور عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے بھٹکل کے  مولانا شبیر گنگاؤلی سمیت  اُلال کے محمد علی (45)، ان کا بیٹا جاوید علی (20) اوربنٹوال کے محمد رفیق  (26) کو دہشت گردی کے تمام الزامات سے بری کرتے ہوئے باعزت رہا کرنے کا حکم دیا۔ واضح رہے کہ اس سلسلہ میں اے سی پی آر کے نمائندوں اور ممبئی میں ملزمین کو قانونی امدا د فراہم کرنے والی تنظیم جمعیت علماء  مہاراشٹر (ارشدمدنی)  نے انہیں بھر پورقانونی امداد فراہم کی ہے اور ان کی رہائی تک ان کے ساتھ رہی ہے۔ دہشت گردی کے الزام سے4 مسلم نوجوانوں کی باعزت بری کا ریکارڈ مدت میں فیصلہ قابل ستائش : ارشد مدنی جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے خصوصی عدالت کے فیصلے پر اپنے رد عمل کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اچھی بات ہے کہ ایک ریکارڈ مدت میں مقدمہ کی سماعت مکمل ہوئی اور عدالت نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ مولانامدنی نے کہا کہ ابھی فیصلہ آنا باقی ہے ۔ 12اپریل کو مکمل فیصلہ سنائے جانے کے بعد ہی وہ اپنے رد عمل کا اظہار کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ چار ملزمان کو با عزت بری کئے جانے کے فیصلے کاہم خیر مقدم کرتے ہیں ۔ مولانامدنی نے کہا کہ باقی ملزمان کو سزا سنائے جانے کے بعد تجزیہ کریں گے تاکہ آئندہ کی کوئی حکمت عملی طے کی جا سکے ۔ IMG-20170411-WA0022