ریاستی وزیر اعلی ٰ سدرامیا میسور ضلع کے بائل کپے میں

04:41PM Wed 31 May, 2017

یکم جولائی سے ریاست میں جی یس ٹی کو لاگو کرنے حکومت پوری طرح تیار : ٰ سدرامیا میسور (بھٹکلی نیوز) بنگلور میں کنڑا فلموں کے مشہور اداکارّ آنجہانی ڈاکٹر راج کمار کی بیوہ کو بنگلور مین خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد وزیر اعلی ٰ شری سدرامیا میسور ضلع کے بائل کپے پہنچے۔ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے شری سدرامیا نے کہا کہ ریاستی حکومت ریاست کرناٹک میں یکم جولائی سے جی یس ٹی کو لاگو کرنے کے لئے پوری تیار ہے۔ مرکزی حکومت نے سارے دیش مین یونیفارم ٹیکس سسٹم کو لاگو کر نے کے لئے جی یس ٹی لاگو کیا ہے۔ حالانکہ جی یس ٹی کو مرکز میں سابق کایو پی سے حکومت نے بل پیش کیا تھا۔ اور اب جی یس ٹی کو لاگو کیا جارہا ہے۔ وزیر اعظم پر کری تنقید کرتے ہوئے وزیر اعلی ٰ سدرامیا نے بتایا کہ جب نریندر مودی گجرات کے وزیر اعلی ٰ تھے تو اس وقت انہوں نے جی یس ٹی کی مخالفت کی تھی۔ لیکن نریندر مودی اب کود اس قانون کی وکالت کررہے ہیں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے گائے کی خرید و فروخت پر پاندی عائد کرنے جاری کردہ آرڈیننس کے تعلق سے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سدر سدرامیا نے بتایا کہ ریاستی حکومت 1964 میں منظور کردہ قانون پر سختی کے ساتھ عمل کررہی ہے۔ اور اب ہم نے اسٹیٹ لاء ڈپارٹمنٹ سے گزارش کی ہے وہ مرکزی حکومت کی جانب سے بنائے گئے قانون کی تفصیل سے جانچ کریں۔ اس موقع پر خود وزیر اعلی ٰ سوال کیا کہ خاص کر اس نئے قانون کے عمل سے غریب کسانوں کو کافی نقصان ہوگا ۔ عمر رسیدہ بیلوں اور گائے کیا کسان کیا کریں۔اس موقع پر سری سدرامیا نے ریاست کے سابق وزیر اعلی ٰ ریاستی بھارتیہ جنتا پارتی کے صدر بی یس یڈیورپا پر کری تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی یس یدیورپا کو کسانوں کے تعلق سے بات کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ کیوں کہ 2011 میں جب بی یس یڈیورپا اس ریاست کے وزیر اعلی ٰ تھے اور کانگریس نے کسانوں کے قرضون کو معاف کرنے کا مطالبہ کیا تھا تو شری بی یس یڈیورپا نے تو فلور پر کہا تھا کہ کسانوں کے قرضوں کو معاف کرنے کے لئے ریاستی حکومت کے پاس پرنٹنگ مشین نہیں ہے۔ وزیر اعلی ٰ سدرامیا نے مزید بتایا کہ مرکزی حکومت نے کسانون کے قرضوں کو معاف کرنے کے لئے 1685 کروڑ پروپئے جاری کئے ہیں۔ اور ریاستی حکومت نے اس فنڈ میں سے اب تک 1200 کروڑ روپئے کسانوں میں تقسیم بھی کردئے ہیں۔ افسوس کی رکن پارلیمان بی یس یڈیورپا نے اب تک اس تعلق سے پارلیمان میں اس مسئلہ کو نہیں اٹھا یا ہے۔ میں نے مرکزی حکومت کو لکھے گئے ایک مکتوب میں کسانوں کی جانب سے بقایا 52000 کروڑ روپئیوں میں سیاآدھی رقم منظور کرنے کی گزارش کی ہے ، لیکن اب تک مرکزی حکومت نے کوی بھی جواب نہیں آیا ہے۔ اس کے باوجود ریاستی حکومت نے اب تک کسانون کے 10,000 کروڑ روپئے ادا کرچکی ہے۔ شری سدرامیا صبح 11.30 بجے بذریعہ ہیلی کاپٹر بائل کپے پہنچے۔ وزیر اعلی ٰ کے ہمراء ریاستی وزراء ہچ آنجنیا اور یم بی پاٹل موجود تھے۔ ہیلی پیڈ پر بی ڈے اے کے چیرمین و رکن اسمبلی شری کے وینکتیش اور میسور ضلع کے ڈپٹی کمشنر مسٹر رندیپ نے وزیر اعلی ٰ سدرامیا کا خیر مقدم کیا۔ بعد میں وزیر اعلی ٰ سدرامیاسیدھے پریا پٹنہ پہنچے جہاں پر انہوں نے 200 کروڑ روہپیوں کے مختلف ترقیاتی کاموں کے لئے سنگ بنیاد رکھا۔ جس میں 133 تالابوں کی بھرتی، انڈر گراؤنڈ ڈرائنیج ورکس ، کے یس آرٹی سی بس ڈپو کی تعمیر، اور محکمہ فوڈ اینڈ سیول سپلائز کے لئے ایک گودام کی تعمیر شامل ہیں۔