کرناٹک میں کورونا کے بڑے حملے کا اندیشہ :عوام کی بے احتیاطی پر ماہرین صحت فکر مند:وزیرطبی تعلیم
06:30AM Thu 11 Jun, 2020
بنگلورو-11جون(سالار نیوز) کرناٹک میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافے کا سلسلہ جاری ہے- ہر دن اوسطاً 100سے 300تک کے کیس سامنے آتے جا رہے ہیں - حالانکہ صحت یاب ہونے والوں کی تعداد میں بھی اسی رفتار سے اضافہ ہو تا جا رہا ہے لیکن جس طرح سے دن بہ دن کیس بڑھ رہے ہیں یہ محکمہ صحت اور ماہرین کے حلقوں میں تشویش کا سبب بنے ہو ئے ہیں - ماہرین صحت نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آنے والے چند ہفتو ں کے دوران ملک کے مختلف شہروں سمیت کرناٹک کے مختلف مقامات پر بھی کورونا وائرس عوامی شکل اختیار کر سکتا ہے- ان خدشات کی تصدیق چہارشنبہ کو ریاست کے وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹر سدھاکر نے بھی کردی - انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین چار ماہ کے دوران ملک میں جس طرح لاک ڈاؤن او ر دیگر طریقوں سے کورونا وائرس کو روکنے کی کوشش کی گئی ہے اس کے نتیجے میں اس وباء کو پھیلنے میں کچھ حد تک کامیابی ملی لیکن اب عالمی صحت تنظیم اور ماہرین صحت کا یہ ماننا ہے کہ جس رفتار سے کورونا وائرس کے کیسوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے ان کو روکنے کے لئے اب تک کئے گئے سارے قدم ناکافی ہیں –
انہوں نے کہا کہ اب تک ریاست میں کورونا وائرس کے نئے کیسوں کی رفتار کو محدود رکھنے میں کامیابی ملی ہے لیکن اب ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ڈھائی ماہ کے لاک ڈاؤن کے بعد اچانک جس طرح سے تمام سہولتوں کو ان لاک کردیا گیا ہے اس سے کورونا وائرس کے عوامی شکل اختیار کرجانے کا خطرہ پہلے سے کافی زیادہ بڑھ چکا ہے- ڈاکٹر سدھاکر نے ماہرین کے حوالے سے بتایا کہ عوام کے کھل کر سڑکوں اور بازاروں میں آجانے اور کورونا وائرس سے بچنے کے لئے عالمی صحت تنظیم کے وضع کردہ معیارات کو نظرانداز کئے جانے سے یہ اندیشہ ہے کہ کورونا وائرس کا جو اصل حملہ دنیا کے دیگر ممالک میں دیکھنے کو ملا ہے وہ ہندوستان پر بھی ہو سکتا ہے - سدھاکر نے کہا کہ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ رواں ماہ کے آخری ایام اور جولائی کے ابتدائی ہفتوں کے دوران کرناٹک میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ممکن ہے- انہوں نے مزید کہا کہ کورونا کے اس قدر بڑے حملے سے اگر بچنا ہے تو آنے والے دنوں میں احتیاط کو اور زیادہ سختی سے اپنانے کی ضرورت ہے- انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کو روکنے کے لئے اب تک حکومتوں کی طرف سے جو بھی تدبیریں اپنا ئی گئی ہیں ان کو کئی حلقوں سے عوام کا تعاون نہیں مل پایا اب اگر آنے والے دنوں میں بھی غفلت کا یہی سلسلہ جاری رہا اور بے احتیاطی برقرار رہی تو کورونا وائرس کو عوامی شکل اختیار کرنے سے روکنے میں حکومت بھی بے بس ہوسکتی ہے-
ڈاکٹر سدھاکر کا کہنا تھا کہ دنیا کے دیگر ممالک میں کورونا وائرس نے دو تین ماہ میں ہی بڑا حملہ کردیا ہندوستان بالخصوص کرناٹک میں اب تک اس حملہ کو روکا جا سکا ہے لیکن اب لاک ڈاؤن میں مسلسل نرمی کے بعد سلسلہ وار کورونا وائرس کے متاثرین میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے- لاک ڈاؤن میں نرمی کو لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ کورونا جا چکا ہے لیکن ایسا نہیں ہے کورونا پہلے سے زیادہ خطرناک شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے اس لئے پہلے سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے- انہوں نے کہا کہ عوام نے اگر احتیاط برت کر حکومت کی ہدایتوں پر سختی سے عمل کے ذریعے تعاون نہ کیا تو آنے والے دن اور زیادہ آزمائشی ہو سکتے ہیں -