اونچی ایڑیوں کے سینڈل استعمال کرنے پر خواتین کی صحت کو نقصان کا اندیشہ

03:18PM Wed 28 Aug, 2013

نئی دہلی۔ 28 اگست (یو این آئی) دبلی پتلی اورخوبصورت نظر آنے کی دوڑ میں اونچی ایڑیوں والی جوتیوں کے فیشن کی وجہ سے خواتین کے گھٹنے اور کمر سمیت جسم کے دیگر جوڑ خراب ہورہے ہیں۔نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوکیوپیشنل ہیلتھ کی ریسرچ کے مطابق 68 فیصد خواتین اونچی ایڑی کی جوتیاں پہنتی ہیں جو پیروں کے لئے درست نہیں۔ صرف 10 فیصد خواتین صحت کے نقطہ نظر سے مناسب جوتیاں یا چپلیں پہنتی ہیں۔سروے کے مطابق اونچی ایڑی پہننے والی 90 فیصد لڑکیاں گھٹنے، کمر، کولہے، کندھے اور جوڑوں کے درد سے پریشان رہتی ہیں جن میں 12 سے 18 سال کی لڑکیوں میں 20 فیصد اور 20 سے 39 سال کی عمر کی خواتین میں 40 فیصد تک نقصان ہوتا ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ اونچی ایڑی کے بڑھتے رواج کی وجہ سے خواتین میں گھٹنے اور کمر کے علاوہ مختلف جوڑوں میں درد اور خرابیاں، رگوں میں کھنچاؤ اور کمر کے آس پاس چربی جمنے کے مسائل بڑھ رہے ہیں یہاں تک کہ 12 سے 18 سال کی لڑکیاں بھی ان مسائل کا شکار ہو رہی ہیں اور سنگین معاملوں میں گھٹنے بدلنے جیسی سرجری کی نوبت آرہی ہے۔مقامی اندرپرست اپولو اسپتال کے ہڈیوں کے سینئر سرجن ڈاکٹر راجو ویشیہ کہتے ہیں کہ گزشتہ کچھ عرصے سے ہڈیوں کے سرجنوں کے پاس گھٹنے، کمر اور دیگر جوڑوں کے مسائل کے علاج کے لئے آنے والے مریضوں میں کم عمر کی خواتین کی تعداد بڑھ رہی ہے اور اس کی ایک وجہ اونچی ایڑی کے استعمال میں اضافہ ہے۔ ایسے کئی مریضوں میں گھٹنا تبدیل کرنے کا آپریشن کرنا پڑتا ہے لیکن کم عمر کی خواتین کے گھٹنے تبدیل کرنے کی سرجری کے معاملے میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ ایسے گھٹنے زیادہ سے زیادہ 20 سال تک چلتے ہیں اور دوبارہ ایسے آپریشن کی نوبت آ جاتی ہے۔ اس مسئلہ کے حل کے لئے آج آرتھو گلائڈ نامی تکنیک کا استعمال ہونے لگا ہے۔ اس تکنیک میں ہڈیوں کو کاٹنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس میں ایک بہت چھوٹی سرجری کرکے آرتھو اسکوپی کی مدد سے علاج کیا جاتا ہے۔ اس تکنیک میں گھٹنے تبدیل نہیں کئے جاتے۔ ایسی صورت میں اگر مستقبل میں تکلیف بڑھ جائے تو مریض گھٹنے کی پیوند کاری کرا سکتا ہے۔دس میں سے ایک خاتون ایک ہفتہ میں کم از کم تین دن اونچی ایڑی کی جوتیاں پہنتی ہیں اور حالیہ سروے سے پتہ چلا ہے کہ ان میں سے ایک تہائی خواتین اونچی ایڑی کی وجہ سے گر جاتی ہیں۔ اونچی ایڑی کی جوتیاں پہننے سے ایڑیاں اونچی ہوجاتی ہیں اور جسم کا جھکاؤ آگے کی طرف ہوجاتا ہے جس سے پنجوں اور ایڑی پر زیادہ زور پڑتا ہے اور پنجوں اور ایڑی میں درد ہونے لگتا ہے۔ بعدازاں پیٹھ درد، ایڑیوں میں درد، نسوں میں کھنچاؤ، گھٹنوں میں درد اور فریکچر جیسی شکایتیں سامنے آتی ہیں۔ لڑکیوں کے مختلف جوڑوں میں تکلیف ہونے کی ایک بڑی وجہ اونچی ایڑی ہے۔ڈاکٹر راجو ویشہ نے بتایاکہ کم عمر میں گھٹنے اور جوڑوں کے مسائل نہ صرف لڑکیوں میں بلکہ لڑکوں میں بھی بڑھ رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر آپ ایک۔ڈیڑھ انچ تک اونچی ایڑی کی جوتیاں پہنیں تو کوئی حرج نہیں لیکن جب ایڑی کی اونچائی 5۔4 انچ ہو تو یہ تکلیف کی وجہ بن جاتی ہے۔ اس کے علاوہ پورے دن اونچی ایڑی پہننے سے بچنا چاہئے۔ اگر کسی خاتون کو روزانہ اونچی جوتیاں پہننی ہو تو انہیں ایسی اونچی ایڑی کی فٹ ویئر پہننی چاہئیں جن کا سول بھی اونچا ہو۔اونچی ایڑی کے استعمال کی وجہ موچ یا اسپرین آف دی فٹ عام مسئلہ بن گیا ہے۔ اس مسئلہ سے 20 سے 35 سال تک کی خواتین زیادہ دوچار ہوتی ہیں۔ابتدا میں اس میں پیروں میں سوجن نظر آتا ہے لیکن sandalسال ۔دو سال بعد مسلسل اونچی ایڑی پہننے کی وجہ سے پاوں میں مسلسل درد، نسوں میں کھنچاؤ، پیٹھ اور گھٹنوں میں درد ہونے لگتا ہے۔