گوری لنکیش قتل کا معاملہ آندھرا پردیش سے قاتل کو پکڑے جانے کی افواہ
04:37PM Wed 13 Sep, 2017
بنگلور( بھٹکلیس نیوز ):۔ صحافی اور متفکر گوری لنکیش کے قتل کے معاملہ میں ہر دن کئی افواہیں اڑائی جارہی ہیں اور اس معاملہ میں اب آندھرا پردیش سے ایک ملزم کو گرفتار کئے جانے کی افواہ ہے اور یہ افواہ ہے یا نہیں اس بارے میں کچھ کہا نہیں جاسکتا اور دوسری طرف یہ بھی کہاجارہا ہے جانچ مکمل ہونے تک او رملزم کے ملوث ہونے کے تعلق سے کچھ ثبوت نہیں مل جاتے جب تک پولیس اسے معاملہ کو پوشیدہ رکھنا چاہتی ہے۔ اگر پولیس نے جلد بازی سے کام لیا تو اسے بدنامی کا سامنا کرناپڑسکتا ہے۔ پہلے معصوم لوگوں کو گرفتار کرکے قتل کاالزام لگا کر اصلی ملزمین ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور بعد میں اصلی ملزمین پکڑے جانے کے بعد معصوم لوگوں کو رہا کیا جاتا ہے ۔اس طرح کے کئی واقعات پیش آئے ہیں اورپولیس کوشرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ گوری لنکیش معاملہ میں کسی بھی طرح کی کوئی جلد بازی نہیں کی جارہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس معاملہ کی جانچ کررہے خصوصی جانچ ٹیم (ایس آئی ٹی ) نے آندھرا پردیش سے ایک ملزم کو گرفتار کیا ہے اور اسے بنگلور لاکر ایک مقام پر پوچھ تاچھ کی جارہی ہے اور اس ملزم کو گرفتار کرنے میںآندھرا پردیش پولیس نے مکمل ساتھ دیا تھا۔ گوری لنکیش کا قتل کرنے والے ملزم کا چہرہ اس ملزم کے چہرے کے موافق ہے اور گوری لنکیش کا قتل کرکے فرار ہوتے وقت گولیوں کی آواز سن کر پڑوسی ایک نوجوان اورچوکیدار نے ملزم کو دیکھا تھا ۔ملزم نے کالا جاکٹ او رہیلمنٹ پہنا تھا۔ اس نوجوان اور چوکیدارنے پولیس کو جانکاری دی تھی اور ان دونوں کے بیانات پر پولیس نے اسکیچ بھی تیار کیا تھا اس اسکیچ کی بنیاد پر ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے۔دوسری طرف ملزم کا موبائل فون گوری لنکیش کے گاندھی بازار میں واقع اخباری دفتر سے لیکر اس کی رہائش گاہ تک آن تھا اور راجہ راجیشوری نگر کی ایک اسکول کے قریب موبائل فون بند تھا ۔ پولیس نے ٹاور کے ذریعہ تمامکالس کی تفصیلات حاصل کی تھیں ۔دوبارہ جانچ کرنے کے بعد ملزم کا موبائل فون آنداھر پردیش میں کام کرنے لگا تھا اور اسی کی بنیاد پر ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے۔ تردید:۔ ایس آئی ٹی کے اعلیٰ افسر اور ڈی سی پی (ایسٹ ) ایم این انوجیت نے کہا کہ گوری لنکیش معاملہ میں ابھی تک کسی کی گرفتاری نہیں کی گئی ہے اور اس تعلق سے جو بھی خبریں شائع ہورہی ہیں وہ تمام بے کار ہیں ۔ ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔ تمام ٹی وی چینل ایک دوسرے پر بازی لے جانے کے مقصد سے اس طرح کی بے بنیاد اور من گھڑت خبروں کو دکھایا جارہا ہے۔