پروفیسر ذکیہ اطہر صدیقی، کامل قریشی اور ڈاکٹر نمیتا سنگھ سرسید ایکسیلینس ایوارڈ کے لئے نامزد

11:47AM Fri 17 Jun, 2016

سرسید کے مشن کو فروغ دینا ایم بی ایم سی کی اولین ترجیحات میں شامل: ڈاکٹر جسیم محمد علی گڑھ17؍جون:(پریس ریلیز) ملت بیداری مہم کمیٹی ( ایم بی ایم سی )علی گڑھ اکتوبر2016میں تین مختلف میدانوں میں سرسید ایکسیلینس ایوارڈ پیش کرے گی۔ ایم بی ایم سی کے سکریٹری ڈاکٹر جسیم محمد نے بتایا کہ سرسید احمد خاں محض ایک ماہرِ تعلیم اور اے ایم یو کے بانی نہیں بلکہ انہوں نے مختلف میدانوں میں اپنی قابلِ ذکر خدمات انجام دیں۔ وہ ایک عظیم مصلح قوم اور محبِ وطن تھے اور ان کے مختلف میدانوں میں کئے گئے کارنامے آج بھی اہمیت کے حامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرسید کے مشن کو فروغ دینا ایم بی ایم سی کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ڈاکٹر جسیم محمد نے بتایاکہ ملت بیداری مہم کمیٹی ( ایم بی ایم سی ) سرسید کی تعلیمات اور ان کے مشن کو زمینی سطح پر نافذ کرنے کے لئے پر عزم ہے جس کے لئے ایم بی ایم سی نے مختلف میدانوں میں قابلِ ذکر خدمات انجام دینے والی شخصیات کو سرسید ایکسیلینس ایوارڈ سے سرفراز کئے جانے کا سلسلہ شروع کیا ہے جس کے تحت اب تک یہ ایوارڈ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر برگیڈیئر ایس احمد علی، دہلی ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس ایم ایس اے صدیقی اور ڈاکٹر شبستاں غفار کو تفویض کیا جاچکا ہے۔ ڈاکٹر جسیم محمد نے بتایا کہ اس سال ملت بیداری ایوارڈ کمیٹی نے تعلیمِ نسواں کے میدان میں اہم ترین خدمات انجام دینے کے لئے علی گڑھ مسلم کے ویمنس کالج کی سابق پرنسپل پروفیسر ذکیہ اطہر صدیقی،بزنس اور صنعت کے میدان میں قابلِ ذکر خدمات کے لئے دہلی کے باوقار صنعت کار مسٹر کامل قریشی اور ادب اور سماجی خدمات کے میدان میں اہم خدمات کے لئے ڈاکٹر نمیتا سنگھ کو سرسید ایکسیلینس ایوارڈ سے سرفراز کئے جانے کا فیصلہ کیاہے۔ ڈاکٹر جسیم محمد نے بتایا کہ مذکورہ ایوارڈ کے لئے نامزدافراد کو ملت بیداری مہم کمیٹی کے زیرِ اہتمام اکتوبر2016میں منعقد ہونے ایک عظیم الشان پروگرام میں سرسید ایکسیلینس ایوارڈ سے سرفراز کیا جائے گا۔ ڈاکٹر جسیم محمد نے کہا کہ ملت بیداری مہم کمیٹی کا قابلِ ذکر اور اہم شخصیات کو سرفراز کئے جانے کا مقصدہے کہ سماج کے دیگر لوگوں میں بھی اپنے اپنے میدانوں کچھ بہتر کرنے کا جذبہ پیدا ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے اعزازات سے نوجوان نسل کی حوصلہ افزائی ہوگی اور وہ ملک کا ایک بہتر مستقبل بن کر ابھرے گی۔