تحویل میں لی گئی سرکاری زمینات میں خط غربت کے خاندان کو رہائش کی سہولت: سدارامیا
02:16PM Sun 9 Jul, 2017
بنگلور( بھٹکلی نیوز ):۔ وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ حکومت تحویل میں لی گئی سرکاری زمینات میں خط غربت کے خاندانوں کو رہائش کی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ لیکر اس کا آغاز کردیا ہے ۔ انہوں نے آج بروز ہفتہ شہر کے بیپن ھلی کے این بی ای ایف لے آؤٹ علاقہ میں کرناٹک ہائی کورٹ کے ججوں اور دیگر عدلیہ ملازمین کو رہائش کی سہولت اور کئی فلیٹوں کے اپارٹمنٹس کا افتتاح کرتے ہوئے کہاکہ ریاست بھر میں کئی لوگوں نے خصوصی طور پر ریل اسٹیٹ کا دھندہ اور ڈیولپرس نے سرکاری زمینات پرناجائز قبضہ کررکھا تھا۔ محکمۂ مالگذاری کے ذریعہ دوبارہ سروے کرانے کے بعدحکومت نے اپنی زمینات کو قبضہ میں لیا ہے اور ناجائز قبضہ جات کئے لوگوں کو بھاری جرمانہ لگانے کے ساتھ ہی ان کے خلاف فوجداری مقدمے دائر کئے ہیں۔ کئی معاملات میں چند افراد کو سزا بھی ہوئی ہے ۔ تحویل میں لی گئی زمینات پر خط غربت کے خاندانوں کے مکانوں کی سہولت فراہم کرانے کے علاوہ سرکاری اسکول۔ اسپتال ۔ مارکیٹ ۔بس اسٹانڈ ۔دھوبی گھاٹ اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ خصوصی طورپر عمر رسیدہ لوگوں کے قیام کے لئے زیادہ تعداد میں آشرم تعمیر کئے جائیں گے۔بنگلور میں 22ہزار ایکٹر سے زائدسرکاری زمینات پرناجائز قبضہ جات کیا گیا ہے اور اس میں سے حکومت نے آٹھ ہزار ایکٹرسے زائدزمینات کو قبضہ میں لیا ہے اور یہاں ایک لاکھ سے زائد رہائشوں کی کالونیاں تعمیر کی جائیں گی اور اس کی ذمہ داری کرناٹک ہاؤزنگ بورڈ کودی گئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے ریاست کی جملہ9,644 کلومیٹر طویل ریاستی شاہراؤں کے لئے جملہ10 ہزار کروڑ روپےئے خرچ کئے ہیں۔گذشتہ چار سالوں میں ایک ہزار 854 کلومیٹرطویل ریاستی شاہراہ کو قومی شاہرہ میں تبدیل کیا گیا ہے۔اسی طرح مرکزی حکومت نے6ہزار262 کلو میٹر طویل ریاستی شاہراہ کو قومی شاہرہ میں تبدیل کرنے کیلئے منظوری دینے کے ساتھ ہی فنڈبھی جاری کیا ہے۔تمام اضلاع کے جملہ 20,733 کلومیٹر اہم سڑکو ں کی ترقی کے لئے جملہ 8,910کروڑ روپےئے خرچ کئے گئے ہیں۔اضلاع کی حدود میں 136 پل او رریاستی شاہراؤں پر163 پل تعمیر کرنے 372کروڑ روپےئے خرچ کئے گئے ہیں۔ نایارڈ کے تعاون سے آر آئی ڈی ایف اسکیم کے تحت دیہی علاقوں میں 1,210 کروڑ روپےئے خرچ کرکے 2,430 کلومیٹر تک سڑکوں کی تعمیر اور 307پل تعمیر کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کورروڈ نٹ ورک کی ترقی دینے کے مقصد سے ریاست کی اہم سڑکوں کو ترقی دی جارہی ہے ۔پہلے مرحلہ میں418کلو میٹر تک سڑکوں کی ترقی کیلئے 5,130کروڑ روپئے خرچ کئے جائیں گے۔ بنگلور میں ٹرافک کم کرنے اور سڑکوں کی ترقی کے لئے کے آر ڈی سی ایل کے ذریعہ بنگلور کے مضافات میں 150 کلو میٹر کی سڑکوں کو کانکریٹ سڑکوں میں تبدیل کرنے 1455کروڑ روپئے خرچ کئے جائیں گے۔ میسور میں 22کلومیٹر طویل سڑکوں کی ترقی کیلئے117کروڑ روپےئے خرچ ہوں گے۔اس موقعہ پر وزیر برائے تعمیرات عامہ ڈاکٹر ایچ سی مہادیوپا نے کہا کہ یہاں رہائش کی سہولت کے علاوہ بی سی اور ڈی درجہ کہ ملازمین کو 675فلیٹ تعمیر کئے گئے ہیں یہاں جملہ12منزلہ کے جملہ نو اپارٹمنٹ تعمیرکئے گئے ہیں۔ ہر فلیٹ میں دوسے تین کمرے ہیں اور یہاں سے نو کلو میٹر دور ہائی کورٹ کے لئے میٹروریل کی سہولت بھی ہے۔ تمام فلیٹوں کو بنیادی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔اب تمام اضلاع اور تعلقہ جات میں اسی طرز کے فلیٹ سرکاری ملازمین کو فراہم کرانے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ اس موقعہ پروزیر برائے قانون اور پارلیمانی امور ٹی بی جئے چندر ۔ بنگلور ڈیولپمنٹ وزیر کے جے جارج ۔ سپریم کورٹ کے جج ین ایم شانتاگوڈا۔ جج ایس عبدالنظیر۔کرناٹک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ایس کے مکھرجی۔جج اے ایس بوپنا ۔ روی ملی مٹھ۔ بی ایس دینش کمار۔جج مائیکل کنہا اور دیگر جوڈیشیل افسران حاضر تھے۔