تملناڈو کو کاویری کا پانی جاری کرنے کے خلاف بنگلور ۔میسور شاہراہ پرکسانوں کا دھرنا

02:27PM Mon 3 Jul, 2017

بنگلورو،3جولائی (ایجنسی) کرشناراج ساگر(کے آر ایس) ڈیم کے ذریعہ تملناڈو کو کاویری کا پانی جاری کرنے کے خلاف منڈیا کے کسانوں نے بنگلور۔میسور شاہراہ پر دھرنا دیا اوررکاوٹیں کھڑی کردیں ۔اتوار کو بنگلور۔میسور شاہراہ پر کسانوں کے دھرنا دینے کی وجہ سے چند گھنٹوں کے لئے شاہراہ پر ٹریفک جام رہا۔ محکمہ آبپاشی کے اس اقدام پر منڈیا میں حالات بگڑنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ منڈیا ضلع کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بی این لاونیا نے بتایا کہ میسور۔بنگلور شاہراہ پرکسانوں کے راستہ روکو احتجاج کی وجہ سے چند گھنٹوں تک ٹریفک میں خلل پیدا ہوگیا تھا۔ کسانوں نے شاہراہ کے گجالا گری اور الوا را دیہات پر احتجاجی دھرنا دیا۔ دو دن قبل کے آر ایس ڈیم میں پانی کے سطح میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے محکمہ آبپاشی کے سپرنٹنڈنٹ انجینئر نے تملناڈو کے لئے پانی بہادیا۔ جس کے بعد مقامی کسانوں اور کاشتکاروں نے ریاستی حکومت کے موقف پر سخت اعتراض کرتے ہوئے اپنے غم وغصہ کا اظہارکیا ۔ اس دوران کاویری نیراوری نگم لمیٹیڈ کے ایگزی کیٹیو انجینئر کے بسواراج گوڈا نے کہاکہ آج کے آر ایس ڈیم سے دوہزار کیوسک پانی بہایا گیا ۔جبکہ 29 جون کی رات 3ہزار کیوسک پانی ڈیم سے بہایا گیا تھا۔اس کے بعد 30 جون کو مقامی کسانوں اورکاشتکار نے ریاستی حکومت کے اس اقدام پرغم وغصہ کا اظہارکرنے لگے ہیں ۔اس دوران کاویری ہتارکھشنا کمیٹی کے صدر وسابق رکن پارلیمان جی مادے گوڈا نے حکومت کے اس اقدام پر سخت ناراضگی جتائی اور فوری تملناڈو کے لئے جاری کئے جانے والے پانی کو روکا جائے ۔اگر پانی کا بہاؤ اسی طرح جاری رکھا گیا تو احتجاج میں شدت لائی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ افسران سے اگر لاپروائی برتی گئی تو حالات کافی بگڑسکتے ہیں ۔اس کی ذمہ دار خود ریاستی حکومت ہی ہوگی ۔انہوں نے کہاکہ پہلے ہی کاویری طاس علاقہ خشک سالی سے گزررہا ہے ۔اس کے باوجود افسران تملناڈو کے ساتھ جو ہمدردی کا مظاہرہ کرنے لگے ہیں وہ ریاست کے کسانوں کے ساتھ ناانصافی کے برابر ہے ۔