ہوشیار! نوٹ بدلوانے کے لئے بینکوں کا رخ کرنے سے پہلے رکھیں ان باتوں کا دھیان

02:43PM Thu 10 Nov, 2016

وزیر اعظم نریندر مودی کی زبان میں پرانے نوٹ کاغذ کے ٹکڑے ہو چکے ہیں۔ اس لئے اب انہیں تبدیل کرانے کے لئے لوگ پریشان ہیں۔ پہلے کہا گیا تھا کہ صرف شناختی کارڈ لگے گا اور پیسہ بدل جائے گا، لیکن اب لوگوں کو بینک پہنچنے پر ایک فارم بھی بھرنا پڑ رہا ہے۔ اسے لے کر لوگوں میں غصہ ہے۔ ادھر، بینک ایمپلائیز فیڈریشن نے اس فیصلے سے پہلے بینکوں کا انفراسٹرکچر ٹھیک نہ کروانے پر سوال اٹھائے ہیں۔ ٹیکس چوری کرکے گھروں میں پیسے رکھنے والے تو اس کی کاٹ نکالنے میں لگے ہوئے ہیں لیکن اس سے زیادہ پریشانی عام آدمی کو جھیلنی پڑ رہی ہے۔ عوام کو اپنے ہی کمائے پیسے کے لئے پاپڑ بیلنے کے لیے مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ لوگ کام کاج چھوڑ کر بینکوں کے آگے لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے ہیں۔ پیسہ تبدیل کرنے کے لئے جو فارم بھروايا جا رہا ہے وہ انگریزی میں ہے۔ اس سے دیہی علاقے کے لوگ پریشان ہیں۔ ایک صفحے پر اس فارم میں سات طرح کی معلومات دینی پڑ رہی ہے جس میں سب سے پہلے برانچ اور پیسہ بدلوانے والے کا نام لکھنا ہے۔ اس کے بعد شناختی کارڈ کی معلومات دینی ہے، اس کے ساتھ ہی اس کی فوٹو کاپی منسلک کرنی ہے۔ شناختی کارڈ کے طور پر آپ آدھار کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، ووٹر آئی كارڈ، پاسپورٹ، نریگا کارڈ، پین کارڈ، حکومت کی طرف سے جاری کارڈ اور پبلک سیکٹر یونٹ کی طرف سے جاری آئی کارڈ میں سے کوئی ایک دینا ہوگا۔ اس کے بعد ایک کالم میں شناختی پروف کا نمبر دینا پڑے گا۔ اگلے کالم میں 500 اور 1000 کے پرانے نوٹوں کی تفصیلات لکھیں گے۔ پھر دستخط (آئی کارڈ سے میل کھاتا ہوا) کرنا ہے۔ آخری کالم میں مقام اور تاریخ لکھنی ہوگی۔ جسولا واقع سینٹرل بینک آف انڈیا کی شاخ پر پیسے تبدیل کرانے آئے ناز کا کہنا ہے کہ انہیں تو پہلے فارم کے بارے میں بتایا ہی نہیں گیا تھا۔ انہیں تو صرف شناختی کارڈ کے بارے میں معلوم تھا۔ دہلی میں گول ڈاک خانہ کے باہر لگی بھیڑ میں اس فارم کو لے کر احتجاج کے سر ابھرے، لیکن جب بندوبست یہی ہے تو انہیں مجبورا اسے بھرنا پڑا۔