وزیرا عظم کا من کی بات پروگرام میں عوام سے خطاب ، کہا : غیر اعلانیہ آمدنی کی تفصیل مہیا کرکے مشكلوں سے بچیں
11:59AM Sun 26 Jun, 2016
نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی نے 30 ستمبر تک غیر اعلانیہ آمدنی کی تفصیل مہیا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے آج کہا کہ اگر لوگ اپنی غیر اعلانیہ آمدنی کا انکشاف کرتے ہیں تو حکومت ان کے مالی کے ذرائع کی جانچ پڑتال نہیں کرے گی۔
مسٹر مودی نے ’آل انڈیا ریڈیو‘پر ’من کی بات‘ پروگرام میں کہا، ’’میں اہل وطن سے وعدہ کرتا ہوں کہ 30 ستمبر تک رضاکارانہ طور پر اپنی غیر اعلانیہ آمدنی کے بارے میں معلومات دینے والے لوگوں کی آمدنی کے ذریعہ کی حکومت جانچ نہیں کرے گی۔ ایک بار بھی ان سے نہیں پوچھا جائے گا کہ اتنا پیسہ کہاں سے آیا اور کس طرح آیا۔ اس لئے یہ بہتر موقع ہے کہ لوگ اس شفاف نظام کا حصہ بن جائیں‘‘۔
انہوں نے حالانکہ 30 ستمبر تک اپنی آمدنی یا جائیداد کا اعلان نہ کرنے والوں کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا، ’’یہ لوگوں کے لئے آخری موقع ہے۔ اگر آپ ممکنہ مشکلات سے بچنا چاہتے ہیں تو 30 ستمبر تک اپنی غیر اعلانیہ آمدنی کی اطلاع دے دیں۔ میں نے تمام ممبران پارلیمنٹ کو بھی کہا ہے کہ مخصوص تاریخ تک سرکاری قوانین سے نہ جڑنے والے لوگوں کی کوئی مدد نہیں کی جانی چاہئے‘‘۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ایک زمانہ تھا، جب ٹیکس اتنے زیادہ ہوا کرتے تھے کہ ٹیکس چوری لوگوں کا مزاج بن گیا تھا۔ غیر ملکی چیزوں کو لانے پر بہت پابندی تھی کہ اسمگلنگ بڑھتی چلی گئی لیکن، آہستہ آہستہ وقت بدلتا چلا گیا اور اب ٹیکس ادا کرنے والے کو حکومت کے ٹیکس نظام سے شامل زیادہ مشکل کام نہیں ہے پھر بھی لوگوں کی پرانی عادات تبدیل نہیں ہورہی ہے ۔ ایک نسل کو اب بھی لگتا ہے کہ حکومت سے دوری بنائے رکھنا زیادہ اچھا ہے۔
مسٹر مودی نے کہا، ’’یہ چونکانے والے حقائق ہے کہ سوا سو کروڑ آبادی والے اس ملک میں صرف ڈیڑھ لاکھ لوگ ہی ایسے ہیں، جن کی معلوم ٹیکس آمدنی پچاس لاکھ روپے سے زیادہ ہے۔ یہ بات کسی کے گلے اترنے والی نہیں ہے۔ بڑے شہروں میں لاکھوں کی تعداد میں ایسے لوگ نظر جاتے ہیں جن کے پاس ایک دو کروڑ روپے کے صرف بنگلے ہیں۔ اس کا مطلب کچھ تو گڑبڑ ہے۔ ملک کے مفاد میں اس صورت حال کو تبدیل کرنا ضروری ہے اور یہ 30 ستمبر کے پہلے تبدیل کرنا ہے‘‘۔