سیدنا عمر بن الخطابؓ پر طارق فتح کے ذریعہ کئے گئے نازیبہ تبصروں پر ہرسو غصہ
03:18PM Fri 10 Feb, 2017
متنازعہ زینیوز چینل پرطارق فتح کے ’’فتح کا فتویٰ‘‘کے خلاف ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر سہارنپور ۔(بھٹکلیس نیوز) پاکستان اور کینیڈا سے ہندوستان آکر میڈیا چینلوں کے ذریعہ سے ملک کی سالمیت اور گنگا جمنی تہذیب کو آگ لگانے کی کوشش کرنے والے اور اسلام ،شعائر اسلام اور قرآن وحدیث پر کیچڑ اچھالنے والے مفرور طارق فتح کے پروگرام ’’فتح کا فتویٰ‘‘کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی گئی ہے جس میں اس پروگرام کے گذشتہ پانچوں شو میں مدرسوں ،خانقاہوں،اسلامی کتابوں،علماء کرام اور اس سے آگے بڑھ کر صحابہ کرام بالخصوص سیدنا عمر بن الخطابؓ پر ملعون طارق فتح کے ذریعہ کئے گئے نازیبا تبصروں کو بطور ثبوت پیش کیا گیا ہے ،اس بات کی اطلاع جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ فرنٹ کے قومی کنوینر مہدی حسن عینی قاسمی نے دی انہوں نے بتایا کہ ماہر وکیل حفظ الرحمن خان نے خود عرضی گزار بن کر سپریم کورٹ کے ہی دوسرے وکیل فرحان خان اور فرح ہاشمی کے ذریعہ زی نیوز کے متنازعہ پروگرام فتح کا فتویٰ کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں ایک عرضی داخل کی ہے جس میں فتح کا فتویٰ پروگرام کے ذریعہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کے مجروح ہونے کی بات کہی گئی ہے عرضی گزار نے یہ بھی بتایا کہ طارق فتح جو ماضی میں پاکستان سے ملک بدر کیا گیا تھا اور اس نے کینیڈا میں جاکر پناہ لی ہوئی تھی وہ دراصل منصوبہ بند طریقہ سے تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرکے ملک کے باشندوں کو آپس میں لڑانا چاہتا ہے ،ملک کے سماجی تانے بانے کو توڑنا چاہتا ہے ،اور زی نیوز جیسے چینل نے حق رائے کی آزادی کے نام پر اس مفرور شخص کو باضابطہ طریقے سے ہائر کیا ہوا ہے اور فتویٰ کا اختیار جو شریعت کے ماہرین کے لئے مختص ہے اسے بدنام کرنے کے لئے ایک پروگرام ’’فتح کا فتویٰ‘‘ کے نام سے شروع کیا ہے ،جس میں طارق فتح منصوبہ بند طریقے سے ہندوستانی مسلمانوں کی توہین کرتا ہے عرضی میں عدالت سے اپیل کی گئی ہے کہ فوری طور پر اس پروگرام کو بند کیا جائے اور ز نیوز کے لائسنس کو منسوخ کیا جائے ساتھ ہی باہر سے آکر ہندوستانیوں کو ہندو مسلم میں بانٹنے کی کوشش کرنے والے مفرور طارق فتح کو ملک بدر کیا جائے انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس پروگرام کے خلاف خواجہ غریب نواز فاؤنڈیشن نے بھی ایک رٹ دائر کررکھی ہے جس پر ابھی تک کسی طرح کی پیش رفت کی اطلاع نہیں ملی ہے دوسری جانب تنظیم ابنائے مدارس اسلامیہ کے رکن محمود الرحمن نے بتایا کہ علماء ودانشوروں کے ایک بڑے طبقے نے سوشل میڈیا پرطارق فتح کی دسیسہ کاریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر مہم چھیڑ رکھی ہے اور مفتی یاسر ندیم الواجدی جنہوں نے زی نیوز اور طارق فتح کی سازشوں کو بے نقاب کیا ہے وہ ملعون طارق فتح کو عوامی طور پر مباحثے کے لئے مستقل چیلنج کررہے ہیں جسے آج تک طارق فتح نے قبول نہیں کیا ہے ۔جس سے اس کی شخصیت کا پتہ چلتا ہے وہیں محمود الرحمن نے یہ بھی بتایا کہ تنظیم کے اراکین نے صدر جمہوریہ ہند ،وزیر اعظم ہند اور وزارت اطلاعات ونشریات کو فریق بناکر ایک آن لائن پٹیشن بھی دائر کررکھی ہے اور ان سبھی کو خط لکھ کر اس پروگرام کو بند کرانے اور طارق فتح کو ملک بدر کرنے کی بھی اپیل کی ہے ۔