مغربی بنگال میں رتھ یاترا کو لے کر بی جے پی کو جھٹکا ، سپریم کورٹ میں نہیں ہوگی فوری سماعت
12:42PM Mon 24 Dec, 2018
سپریم کورٹ نے مغربی بنگال میں بی جے پی کی رتھ یاترا پر فوری سماعت کے مطالبہ کو خارج کردیا ہے ۔ چھٹیوں کی وجہ سے سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے کیس کی سماعت سے منع کردیا ہے ۔ بتادیں کہ جنوری کے دوسرے ہفتے میں ہی اب اس معاملہ کی سماعت ہوسکے گی ۔
آپ کو بتادیں کہ گزشتہ ہفتہ کلکتہ ہائی کورٹ کی ڈویزن بینچ نے رتھ یاترا کی اجازت پر اسٹے لگادیا تھا ۔ ممتا بنرجی کی حکومت نے سنگل بینچ کے فیصلہ کو چیلنج کیا تھا ، جس پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے سنگل بینچ کو انٹلی جنس رپورٹ پر ایک مرتبہ پھر سے غور کرنے کیلئے کہا تھا ۔ہائی کورٹ کے فیصلہ کو ایک طرح سے ممتا حکومت کی کامیابی کی طرح دیکھا جارہا ہے کیونکہ عدالت کی کارروائی اب جنوری میں ہی دوبارہ شروع ہوگی ۔
ممتا بنرجی حکومت کی دلیل تھی کہ رتھ یاترا سے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔ ریاستی حکومت کی اپیل پر سماعت کے دوران ریاستی پولیس کی جانب سے پیش ہوئے وکیل آنند گروور نے دلیل دی تھی کہ بی جے پی کی رتھ یاترا کو لے کر کثیر تعداد میں سیکورٹی اہلکاروں کی ضرورت پڑے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی کچھ اضلاع میں ریلیاں کرانا چاہتی ہے تو اس کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ لیکن اتنے بڑے پیماے پر ریلیوں کو منظوری نہیں دی جاسکتی ۔