سات مسلم ملکوں کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی
03:22PM Sat 28 Jan, 2017
فیصلے سے امریکا کو دہشت گردی کے حملوں سے بچاؤ میں مدد ملے گی: صدر ٹرمپ
واشنگٹن ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ ،ایجنسیاں
امریکی صدر براک اوباما نے چارماہ کے لیے مہاجرین کے ملک میں داخلے پر پابندی عاید کردی ہے اور شام سمیت سات مسلم اکثریتی ممالک سے آنے والے باشندوں کے داخلے پر بھی پابندی عاید لگا دی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے دہشت گردی کے حملوں سے بچاؤ میں مدد ملے گی۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق صدارتی حکم کے تحت شام کے علاوہ ایران ،عراق ،لیبیا ،صومالیہ ،سوڈان اور یمن سے تعلق رکھنے والے زائرین پر 90 روز کے لیے امریکا میں داخلے پر پابندی عاید کی گئی ہے۔
اس حکم کے اجرا سے قبل صدر ٹرمپ نے جمعے کے روز پینٹاگان کے دورے کے موقع پر کہا تھا کہ '' میں ریڈیکل اسلامی دہشت گردوں کو امریکا سے باہر رکھنے کی غرض سے جانچ پرکھ کے لیے نئے اقدامات کررہا ہوں۔ میں انھیں یہاں نہیں دیکھنا چاہتا ہوں''۔
انھوں نے کہا کہ ''ہم صرف ان لوگوں کو اپنے ملک میں داخل ہونے کی اجازت دینا چاہتے ہیں جو ہمارے ملک کی مدد کریں اور ہمارے لوگوں سے گہری محبت کریں''۔
شہری حقوق کے گروپوں نے اس اقدام کو امتیازی قرار دے کر اس کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس کے نتیجے میں مہاجرین خطرناک جگہوں پر پھنس کر رہ جائیں گے اور اس سے امریکا کی تارکین وطن کو قبول کرنے والے ملک کے طور پر شہرت کو بھی نقصان پہنچے گا۔
جمعے کی شب تک امریکی صدر کے اس نئے حکم کی تفصیل دستیاب نہیں ہوئی تھی جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ اس سے کیا مراد ہے۔تاہم اس کے فوری اثرات مرتب ہونا شروع ہوگئے ہیں اور خاندانوں کے ہمراہ امریکا آنے والے عربوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
امریکا ،عرب امتیاز مخالف کمیٹی کے قانونی اور پالیسی ڈائریکٹر عبد اے ایوب کا کہنا ہے کہ ''اس کے فوری اثرات مرتب ہوئے ہیں اور ان عرب امریکیوں کے لیے افراتفری کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے جن کے خاندان کے ارکان عارضی قیام کے لیے آرہے تھے۔
عبد ایوب کا کہنا تھا کہ اس حکم سے گرین کارڈ کے حاملین ،طلبہ اور علاج معالجے کے لیے امریکا آنے والے لوگ بھی متاثر ہوں گے۔
تارکین وطن کے لیے کام کرنے والی ایک پروٹیسٹنیٹ تنظیم چرچ ورلڈ سروس کی خاتون عہدے دار جین سمائرس کا کہنا ہے کہ اس حکم سے تو پہلے ہی مہاجرین اور ان کے خاندان متاثر ہورہے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ انھوں نے ایک عراقی ماں سے بات کی ہے۔اس کی 18 سال کی دو جڑواں بچیاں اس وقت عراق میں ہیں اور وہ پہلے کاغذات مکمل نہ ہونے کی وجہ سے امریکا نہیں آ سکی تھیں اور اب تو وہ بالکل بھی اپنی ماں کے پاس نہیں آسکیں گی۔