اجودھیا دھرم سبھا: اب لڑنا نہیں ہے ڈٹنا ہے، صبربہت ہوا، ہمیں ہرحال میں رام مندرچاہئے: موہن بھاگوت

03:40PM Sun 25 Nov, 2018

لوک سبھا انتخابات میں کچھ ماہ باقی ہیں۔ ایسے میں اجودھیا میں رام مندر کا معاملہ ایک بار پھرگرم ہوگیا ہے۔ رام مندرکو لے کراجودھیا، پنے اوربنگلورومیں دھرم سبھا کا انعقاد کیا گیا اوررام مندرکی تعمیرکو جلد ازجلد یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔  اس موقع پر آرایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ ملک کورام مندرچاہئے۔ انہوں نے کہا کہ صبربہت ہوگیا، اب ملک میں 'جن جاگرن' کرنا ہوگا۔ موہن بھاگوت نے سپریم کورٹ میں معاملے کی سماعت میں تاخیرپرسوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عوامی مفاد سے متعلق معاملوں کو ملتوی کرنے سے کیا ہوگا۔ حالانکہ بھاگوت نے واضح کیا کہ رام مندرپرہمارا مطالبہ ہے اوراس پر لڑنا نہیں اڑنا (ڈٹنا) ہے۔
 اس سے قبل وشو ہندو پریشد نے اجودھیا میں اتوارکودھرم سبھا کا انعقاد کیا۔ اس موقع پردعوی کیا جارہا ہے کہ دوسے تین لاکھ رام بھکت اجودھیا پہنچے۔ اس دھرم سبھا کے ذریعہ سادھو سنت رام مندرتعمیرکی تاریخ طے کرنے کے لئے حکومت پردباوبنانے کی کوشش کی۔ وشوہندوپریشد نے کہا کہ مندرتعمیرکے لئے انہیں پوری زمین چاہئے۔ سنی وقف بورڈ کو زمین پرمالکانہ حق سے متعلق کیس واپس لینا ہوگا۔موہن بھاگوت نے مزید کہا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ آپ صبررکھو اورعدالت کے فیصلہ  کاانتظارکرو۔ ایک سال پہلے میں نے ہی کہا تھا کہ صبررکھو، لیکن اب نہیں کہہ رہا ہوں کہ انتظارکرو۔ ہم ایسا زورلگائیں کہ رام مندرکی تعمیر کے لئے جاگرن ہو۔ آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ حکومت قانون بنائے، اس لئے حکومت پرعوامی دباو بنائے۔ سماج صرف قانون سے ہی نہیں چلتا ہے، من سے بھی چلتا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ ہماری اولین ترجیح نہیں ہے، کورٹ کو سوچنا چاہئے۔ عوامی مفاد کے معاملے کو ملتوی کرنے کا کیا مطلب ہے۔ انہوں نے کہا کہ مندرکی تعمیرکے بعد تمام جھگڑے ختم ہوجائیں گے، جلدی جلدی قانون بننا چاہئے۔ موہن بھاگوت نے کہا کہ 80  کی دہائی سے جو کوشش کرنے والے لوگ ہیں، انہیں کے ہاتھوں سے مندرکی تعمیر ہونی چاہئے۔رام مندربننے کے لئے تمام سماج کوہم اکٹھا کریں گے۔ انہوں نے پورے ہندوستان کومندرکی تعمیر کے لئے کھڑا ہونا ہے، پھر ایک بارپورا ہندوستان جڑے، ہمیں رام مندرچاہئے۔ بھاگوت نے کہا کہ اس معاملے کے لئے لڑنا نہیں ہے، لیکن ہمیں ڈٹنا ہے۔ حکومت بنائے، اس کے لئے عوامی دباو کی ضرورت ہوتی ہے۔ عوامی دباو پرحکومتیں جھک جاتی ہیں۔