ڈاکٹر ذاکر نائک کو بحث کا موضوع بنانا دستوری تحفظ کے خلاف: جماعت اسلامی ہند
01:06PM Sat 9 Jul, 2016
نئی دہلی۔ عالمی شہرت کی حامل، ہندستان کی معروف شخصیت ڈاکٹر ذاکر نائک کو حکومت کے بعض افراد اور میڈیا کے کچھ گوشوں کے ذریعہ منفی انداز میں موضوع گفتگو بنانے کی جس طرح کوشش کی جا رہی ہے اس کو جماعت اسلامی ہند نے دستور میں عقیدہ واظہار خیال کی ضمانت و تحفظ سے متصادم ، غیر ضروری ، لایعنی اور افسوس ناک عمل قرار دیتے ہوئے اس سے اجتناب کا مشورہ دیا ہے۔ نائب امیر جماعت جناب نصرت علی نے فرمایا کہ ڈاکٹر ذاکر نائک ملک کے دیگر مذاہب کی سینکڑوں معروف شخصیات کی طرح اس دور کے تمام ممکن ذرائع ابلاغ کے توسط سے ملکی اور عالمی سطح پر دستور ہند کے حدود کی پاسداری کرتے ہوئے شائستہ ، مہذب اور علمی انداز میں اسلام کے پیغام توحید ، رسالت اور آخرت کو انتہائی خوش گوار ماحول میں پیش کرتے رہے ہیں، جس کو ملک ہی نہیں بلکہ دنیا کے کروڑوں افراد برسوں سے توجہ اور دلچسپی کے سے سنتے رہے ہیں اور ان میں کبھی دستور و اخلاقیات کے خلاف کوئی بات محسوس نہیں کی گئی ۔ حیرت ہے کہ اب اچانک ان کی انسانی خدمات کے تجزیہ کی ضرورت کا ذکر کرکے اور اسے ایک خاص رنگ دے کرملک میں پہلے سے کشیدہ فرقہ وارانہ ماحول کو مزید خراب کرنے کی ناروا کوشش کی جارہی ہے۔ اگر اس مشق کو بعض حلقوں کی جانب سے وقتی سیاسی مفادات کے پیش نظر دادری ، اٹالی، کیرانہ، مسلم اداروں کے اقلیتی کردار ، یکساں سول کوڈ وغیرہ جیسے عنوانات کا تسلسل قرار دیا جائے تو شاید غلط نہ ہو۔
جماعت کے کل ہند نائب امیر نے کہا کہ حکومت اور میڈیا کے لیے وقتی اور عارضی مفادات کے حصول کی غرض سے ایسے اقدامات اور طرز عمل مناسب نہیں ہیں، جن سے دستور کی روح پر ضرب پڑتی ہو، ملکی روایات کی خلاف ورزی ہوتی ہو اور ملکی و عالمی سطح پر وطن عزیز کی تصویر مسخ ہو تی ہو۔ جناب نصرت علی نے فرمایا کہ ملک میں بنیادی نوعیت کے کئی مسائل ہیں ۔ مثلاً بیرون ملک سے کثیر کالا دھن ملک میں لانے سے لے کر غربت و افلاس کے ازالہ اور تعمیر و ترقی کے سینکڑوں ادھورے کام جن کی طرف توجہ دینے کی زیادہ ضرورت ہے۔ حکومت ان کی طرف مخلصانہ توجہ کرے تو زیادہ مناسب ہے اور یہ اس کی ذمہ داری بھی ہے۔ ( پریس ریلیز)۔