نامور شاعر ندا فاضلی کی وفات پر اردو گھر میں تعزیتی نشست کا اہتمام

01:37PM Wed 10 Feb, 2016

نئی دہلی:10 ؍فروری 2016 (پریس ریلیز) اردو کے نامور شاعر اور فلمی نغمہ نگار نداؔ فاضلی کی وفات پر انجمن ترقی اردو (ہند) کے مرکزی دفتر اردو گھر میں پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی کی صدارت میں تعزیتی نشست منعقد ہوئی۔ واضح ہو کہ نداؔ فاضلی کا 8 فروری 2016 کو ممبئی میں حرکتِ قلب بند ہوجانے سے انتقال ہوگیا۔ اس موقعے پر انجمن ترقی اردو (ہند) کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر اطہر فاروقی نے خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے بتایا کہ نداؔ فاضلی صاحب 12 اکتوبر 1938 کو دہلی میں پیدا ہوئے تھے، لیکن ان کا بچپن اور جوانی گوالیار میں گزرا۔ ان کا تعلق قصبہ ڈبائی ضلع بلند شہر سے تھا۔ ان کے والد دعاؔ ڈبائیوی جو خود بھی شاعر تھے، ملازمت کے سلسلے میں گوالیار منتقل ہوگئے تھے اور نداؔ فاضلی کے ذہنی سفر کا ارتقا وہیں ہوا۔ گوالیار کالج سے انھوں نے گریجویشن کیا تھا۔ نداؔ فاضلی نے کم عمری ہی سے لکھنا شروع کردیا تھا۔ نثر و نظم میں اُن کی تقریباً دو درجن کتابیں منظرِعام پر آچکی ہیں۔ وہ مشترکہ تہذیب اور مذہبی رواداری کے علمبرداوں میں شمار ہوتے تھے۔ مذہب کے نام پر فسادات اور سیاست کرنے والوں پر جم کر تنقید کرتے رہے۔ ان کی ادبی و سماجی خدمات کے اعتراف میں انھیں مختلف انعامات کے علاوہ ساہتیہ اکادمی ایوارڈ اور پدم شری سے بھی سرفراز کیا گیا۔ اُن کے انتقال سے ہم ایک سچّے اور ہمدرد انسان سے محروم ہوگئے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رضا حیدر نے اپنے تعزیتی کلام میں کہا کہ نداؔ فاضلی کو غالب انسٹی ٹیوٹ نے 2002 میں غالب انعام براے اردو شاعری سے نوازا تھا۔ اُن کے انتقال اردو دنیا کے ساتھ ساتھ غالب انسٹی ٹیوٹ کے لیے بھی ایک بڑا خسارہ ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ نداؔ فاضلی مرحوم کو غالب انسٹی ٹیوٹ سے بے پناہ قربت تھی اور وہ متعدد دفعہ یہاں کے جلسوں میں شریک ہوکر ادارے کے وقار میں اضافہ کرتے تھے۔ انھیں کمپوزٹ کلچر اور گنگا جمنی تہذیب کا بہت بڑا علمبردار سمجھا جاتا تھا۔ اس کلچر کو فروغ دینے میں انھوں نے بڑا اہم رول ادا کیا ہے۔ انجمن کے صدر پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ نداؔ فاضلی اس عہد کے اردو شاعروں میں سب سے اہم اور مقبول تھے۔ انھوں نے کئی کتابیں لکھیں۔ نثر میں بھی اُن کی یادداشتیں موجود ہیں جو بہت ہی دل چسپ اور پڑھنے کے لائق ہیں۔ انھوں نے اگرچہ فلم سے اپنی وابستگی قائم کی جو مدۃ العمر قائم رہی مگر جدید شاعری میں ان کا مرتبہ بلند ہوتا گیا کیوں کہ انھوں نے غزل اور نظم دونوں طرف پوری توجہ دی۔ ادبی رسائل کے صفحات پر بھی وہ سب سے نمایاں ہوا کرتے تھے اور مشاعروں میں بھی اُن کی آواز منفرد ہوتی تھی۔ اُن کا تعلق انجمن ترقی اردو (ہند) ، غالب انسٹی ٹیوٹ اور دوسرے اداروں سے بہت گہرا تھا۔ ہمیں افسوس ہے کہ وہ اتنی جلد ہمارا ساتھ چھوڑ گئے۔ مگر ان کی تخلیقات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔