اسلام پسندو ں کے تعاقب میں سپاہیوں کے ساتھ فوج کے حامی اشرار کے ٹولے بھی سرگرم

02:44AM Mon 19 Aug, 2013

اسلام پسندو ں کے تعاقب میں سپاہیوں کے ساتھ فوج کے حامی اشرار کے ٹولے بھی سرگرم قاہرہ ۔ 18 اگست ( رائٹر ) قاہرہ میں اخوان المسلمون پر فوج کے قہر کے بعد کل رات دنیا کا کے مصروف ترین شہروں میں ایک شہر بھوتوں کے شہر میں تبدیل ہوگیا جہاں اسلام پسند گروپ کے ارکان کا پیچھا کرنے میں وردی پوش سپاہیوں کے ساتھ فوجی حکومت کے حامی اشرار کے ٹولے بھی سرگرم دیکھے گئے۔ فوج نے کل قاہرہ کے وسط میں واقع مسجد الفتح کو اخوانی کارکنوں کے ساتھ بندوقوں کے ساتھ لڑائی کے بعد خالی کرادیا جس میں کئی افراد ہلاک ہوگئے۔ فوج نے مسجد کا تقدس پامال کرتے ہوئے میناروں اور مسجد کے احاطہ میں گولیاں چلائیں جہاں تقریباً 700 مرسی حامی افراد پناہ لئے ہوئے تھے۔ اسی دوران اخوان کے تقریباً 250 حامیوں کے خلاف استغاثہ نے قتل ‘ اقدام قتل اور دہشت گردی جیسے سنگین الزامات کے تحت مقدمات درج کردےئے ہیں۔ مسجد سے تخلیہ کروانے کے بعد فوج نے سینکڑوں افراد کو گرفتار کرلیا جبکہ پہلے ہی ملک بھر میں تقریباً 1000 سے زائد اخوانی ہمدردوں کو پولیس گرفتار کرچکی تھی۔ سکیوریٹی فورسس نے کل کے حملوں میں 170 افراد کے ہلاک ہونے کی توثیق کی ہے۔ قاہرہ کی جدید تاریخ کے خونریز ہفتہ کے بعد شہر میں کرفیو کے سبب ویرانی چھاگئی۔ فوج نے اسلام پسند صدر محمد مرسی کو 3 جولائی کو اقتدار سے بے دخل کرتے ہوئے فوج کے زبردستی قبضہ کے خلاف احتجاج کرنے والے اسلام پسندوں کے کیمپوں کو تہس نہس کردیا۔ چاروں طرف سے ان پر فائرنگ کی گئی جس میں اخوان المسلمون کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 4,000 افراد ہلاک ہوگئے۔ کرفیو کے ساتھ ملک میں ایمرجنسی کا اعلان کردیا گیا ہے۔ رات کے وقت جب بیشتر شہری گھروں کو واپس ہوگئے تب فوج نے اہم شاہراہوں پر دبابے اور فوجی گاڑیاں کھڑی کردیں جبکہ تنگ گلیوں میں فوجی حکومت کے حامی جو ’’پاپولر کمیٹیوں‘‘ کے نام سے معروف ہیں‘ اسلام پسندوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے موجود تھے جنہیں دیکھ کر سپاہیوں نے مسرت کا اظہار کیا۔ ان تمام حالات کے باوجود اخوان المسلمون نے فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج ختم نہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ فوج کی حمایت یافتہ عبوری حکومت تازہ مظاہروں کے لئے مظاہرین مصر کی سڑکوں پر واپس ہونے کی تیاری کررہے ہیں۔ دوسری جانب سے عبوری کابینہ کا ہنگامی اجلاس جاری ہے جس میں بحران سے نمٹنے اور اخوان المسلمون پر پابندی عائد کرنے کا اہم ترین فیصلہ کیا جائے گا۔ فوجی بغاوت کے خلاف اخوان کے ساتھ دیگر احتجاجی گروپو ں نے بھی تازہ مظاہروں کا منصوبہ بنایا ہے۔ جمعہ کو ہوئے تشدد اور قاہرہ کی مسجد سے احتجاجیوں کو باہر نکالنے فوجی کاروائی نے مظاہرین کے جذبات بھڑکادئیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق قاہرہ میں اعلیٰ دستوری عدالت کے اطراف سیکوریٹی بڑھادی گئی۔ عبوری کابینہ کا بند کمرے میں اجلاس جاری ہے جہاں عبوری صدر عدلی منصور کی اس تجویز پر غور کیا جارہا ہے کہ اخوان کو قانونی پر تحلیل کردیا جائے۔ فوجی کاروائی پر بین الاقوامی تنقید میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جبکہ جرمنی اور قطر نے مشترکہ طور پر بہیمانہ تشدد کی مذمت کی۔ اقوام متحدہ کے سربراہ بان کیمون نے موجودہ حالات کو مصر کے لئے خطرناک لمحات سے تعبیر کیا۔ مصر کے دوسرے بڑے شہر اسکندریہ میں احتجاج اور جھڑپوں کے جاری رہنے کی اطلاع ہے۔ ذرائع کے مطابق یہاں اخوان کے ایک دفتر کو آگ لگادی گئی جس میں مرسی کے ایک حامی ہلاک ہوگئے۔