یمنی حوثیوں نے جنیوا مذاکرات میں شرکت کی تصدیق کردی

04:13PM Fri 5 Jun, 2015

بھٹکلیس نیوز / 05 جون، 15 یمن (العربیہ)یمن کے حوثی باغیوں نے اقوام متحدہ کی ثالثی میں جنیوا میں 14 جون کو ہونے والے مذاکرات میں شرکت سے اتفاق کیا ہے۔یمن کی جلاوطن حکومت نے بھی مذاکرات میں شریک ہونے کی دوبارہ تصدیق کردی ہے۔ حوثی تحریک کے سیاسی شعبے کے ایک رکن ضیف اللہ الشامی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ '' ہم نے مذاکرات میں شرکت کے لیے اقوام متحدہ کا دعوت نامہ قبول کر لیا ہے اور حوثی تحریک پیشگی شرائط کے بغیر اقوام متحدہ کے زیر اہتمام یمنی ،یمنی ڈائیلاگ میں شرکت کرے گی''۔ قبل ازیں بھی جنیوا میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہونے والے مذاکرات میں حوثیوں کی شرکت کے حوالے سے یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ انھوں نے یمن کی جلاوطن حکومت کی جانب سے مذاکرات میں شرکت کے اعلان کے بعد جنیوا جانے سے اتفاق کیا ہے۔ یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد گذشتہ چند ہفتوں سے یمنی فریقوں کے درمیان مذاکرات بحال کرانے کے لیے کوشاں تھے اور انھوں نے صنعا میں حوثیوں اور الریاض میں یمن کے جلا وطن صدر عبد ربہ منصور ہادی کے ساتھ مذاکرات کیے ہیں۔اس کے علاوہ انھوں نے مذاکرات کے لیے حمایت حاصل کرنے کی غرض سے خلیجی عرب ممالک کے دارالحکومتوں کے دورے بھی کیے ہیں۔ انھوں نے جنیوا میں یمنی فریقوں کے درمیان مذاکرات کے لیے 14 جون کی عبوری تاریخ مقرر کی ہے۔انھوں نے بدھ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بند کمرے کے اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا تھا کہ یمنی حکومت جنیوا مذاکرات میں شرکت پر آمادہ ہے لیکن حوثی باغیوں نے ابھی اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔ جنیوا مذاکرات کا مقصد تمام فریقوں کے درمیان جنگ بندی کرانا ،حوثیوں کا ان کے زیر قبضہ علاقوں سے انخلاء اور جنگ سے متاثرہ یمنیوں تک انسانی امداد بہم پہنچانا ہے۔اس وقت سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیارے یمن میں حوثی باغیوں اور ان کے اتحادی علی عبداللہ صالح کی وفادار فورسز کے خلاف فضائی حملے کررہے ہیں جبکہ ملک کے مختلف علاقوں میں حوثی باغیوں اور صدر منصور ہادی کی وفادار فورسز کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ سعودی اتحادیوں کے لڑاکا طیاروں نے جمعرات کو صوبہ ایب میں حمزہ ملٹری بیس اور اسلحے کے ڈپوؤں پر بمباری کی تھی۔انھوں نے صوبہ ضامر میں بھی حوثیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے تھے۔ان حملوں سے قبل تعز اور مغربی شہر حدیدہ کے ساحلی علاقوں میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر شدید بمباری کی گئی تھی اور حوثیوں کے مضبوط گڑھ شمالی صوبے صعدہ میں بھی ان کے ٹھکانوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔