کولار کو اسپیشل ایکنامکس زون بنایا جائے گا تمام اضلاع میں روزگار کے مواقع فراہم ہوں گے : سدارامیا
03:13PM Wed 20 Sep, 2017
کولار( بھٹکلیس نیوز): وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ حکومت کولار شہر کو اسپیشل ایکنامکس زون ( ایس ای زیڈ) قرار دینے کے ذریعہ اس کی ترقی او رلوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرانے کا فیصلہ لیکر اس کے لئے ایک منصوبہ بندی تیار کی جائے گی۔انہوں نے کولار میں مختلف ترقیاتی کاموں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھنے کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہر شہر اور ضلع کی ترقی کاموں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھنے کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہر شہر اور ضلع کی ترقی کے لئے سب سے پہلے پانی کی ضرورت پڑتی ہے اور کولار ضلع کے لئے پانی کی سہولت فراہم کرانے کے مقصد سے ایتینا ہولے پروجکٹ کو شروع کیا اور اس کے لئے ابھی تک 17ہزار کروڑ روپئیے خرچ کئے گئے۔ ابھی تک جتنی بھی حکومتیں آتیں انہیں کولا ر اور چک بالاپور ضلع کو مستقل طور پر پانی کی قلت سے نجات دلوانے کا خیال نہیں آیا اور حکومت کوئی بھی پروجکٹ شروع کرنا چاہتی ہے تو پہلے ہی کمیشن حاصل کرنے یا رشوت حاصل کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے ۔ حکومت اس طرح کے الزامات کی پرواہ کئے بغیر پروجکٹوں کا کام جاری رکھے گی اگر حکومتیں مستقبل کو سامنے رکھ کر بنیادی سہویات فراہم نہیں کیں تو آنے والی نسلیں بددعائیں دیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کے جی ایف کو تعلقہ کا درجہ دیا ہے اور یہاں سرکاری دفاتر کے لئے زیادہ رقم خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں پہلے سے ہی پولیس سپرنٹنڈنٹ درجہ کا افسر اور دفتر بھی ہے۔یہاں بہت جلد سیٹلائٹ ٹاؤن تعمیر کیا جائے گی۔یہاں انگریزوں کے زمانہ سے سونے کی کانوں کو چلائے جانے کی وجہ سے 139سے زائد بڑی عمارتیں اور بنگلے ہیں اور ساتھ میں کئی تویلیاں اور کوٹھریاں بھی ہیں۔ یہاں نوہزار ایکٹر سے زائد کی زمین مرکزی حکومت کے قبضہ میں ہے اور اس زمین کو قبضہ میں لینے کی کوشش کی جارہی ہے ۔قریب ہی ایراگول ڈیم کا تعمیرائی کام زیر التواء ہے اور اسے فوری مکمل کرنے کے لئے فنڈجاری کیا جائے گا۔ضلع میں حال ہی میں ہوئی بارش کا پانی ٹمل ناڈو کے لئے بہہ گیا۔اگر اس پانی کو جمع کیا جاتا تو شاید پانچ ٹی ایم سی پانی حاصل ہوسکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بنگلور کے ہیبال ، ناگوار ، پٹینا ھلی اور دیگر تالابوں کے گندے پانی کو دی سائیکلنگ کے دریعہ صاف اور شفاف کرکے کولار ضلع کے تالابوں کو بھرا جائے گا اور ضلع کے تالابوں سے کیچڑ نکال کر زیر زمین پانی کی سطح میں اضافہ کرنے کے لئے 40 کروڑ روپےئے جاری کئے جائیں گے ۔کولار کے قریب ہیراپور کے پاس تاریخی ایرپورٹ بھی ہے اور اس کا بھر پور استعمال کرکے اس ایر پورٹ کو دیون ھلی کے قریب واقع کیمپے گوڈا انٹرنیشنل ایرپورٹ سے رابطہ قائم کیا جائے گا ۔کولار ضلع کو آموں کی راجدھانی کہا جاتا ہے۔ یہاں بڑی مقدار میں ترکاریوں اور پھولوں کی پیداوار کی جاتی ہے اس کے علاوہ دودھ کی پیداوار میں بھی ضلع کو پہلا مقام حاصل ہے۔ضلع سے دودھ سے بنی مٹھائیاں، دہی، پینر ،مکھن اوردیگر چیزوں کو برآمد کرنے میں سہولت ہوگی۔ بہت جلد کولار ضلع کوایک ترقی یا فتہ ضلع کو دیکھنے کا موقعہ ملیگا۔ ہاتھ میں اقتدار رہنے تک عوام کی خدمات کو انجام دینا تمام عوامی نمائندوں کا فرض ہے ۔ چامراج نگر ضلع کا دورہ کرنے پر ایک نجومی نے ان کی حکومت چلے جانے کی بات کہی تھی وہ اس طرح کی من گھڑت او راندھی تقلید پر یقین نہیں رکھتے اور وہ ابتک چار سال میں 13مرتبہ چامراج نگر ضلع کا دورہ کیا ہے اور ان کی حکومت نہیں گری۔ آنے والے کرناٹک لیجس لیٹیو اجلاس کے دوران ریاست میں مکمل طور پر اندھی تقلید اور بے کار کی رسومات پر پابندی لگانے کے تعلق سے مسودہ کو پیش کیا جائے گا۔ دوسری طرف ٹی وی چینلوں پر بھی بے کار کی رسومات کودکھا کر لوگوں کو گمراہ کیا جارہا ہے ۔ ریاست میں کئی لوگ معصوم لوگوں کو گمراہ کرکے انہیں لوٹ رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے شہر کولار میں ڈپٹی کمشنر کے نئے دفتر ڈی دیواراج ارس بھون، سرکاری ریکارڈس روم ، چیکس ڈیم، بنگلور نارتھ یونیورسٹی کا افتتاح اور دیگر ترقیاتی کاموں کے لئے سنگ بنیاد بھی رکھا ان تمام پروگراموں میں وزیر برائے اعلیٰ تعلیم بسواراج وایا ریڈی، وزیر برائے داخلہ رام لنگا ریڈی، وزیر برائے بنگلور ڈیولپمنٹ کے جے جارج، وزیر برائے چھوٹی اور بڑی صنعتیں آر وی دیش پانڈے ، وزیر برائے زراعت کرشنا بائرے گوڈا اور عوامی نمائندوں نے شرکت کی تھی اور اس کی صدارت ضلع کے نگران کار وزیر کے آر رمیش کمار نے کی تھی۔اس موقعہ پر مقامی رکن اسمبلی ورتورپرکاش دور کولار ضلع پنچایت کی صدر گیتا نند ریڈی حاضر تھیں۔