prepared mind سعودیوں کی ٹویٹر پر مسجد الاقصیٰ کے دفاع کے لیے مہم

04:06PM Tue 27 Oct, 2015

''مقبوضہ القدس میں قابض فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالیوں کو بھولے نہیں'' جدہ ۔ العربی مسلم حکومتیں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قابض اسرائیلی فورسز کی نہتے مسلمانوں کے خلاف ظالمانہ کارروائیوں کو رکوانے کے لیے ابھی تک عملی طور پر تو کچھ نہیں کرسکی ہیں لیکن سعودیوں نے مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر فلسطینیوں کے حق میں ایک بڑی مہم برپا کی ہے جس کا مقصد اسرائیلی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنا ہے۔ ان سعودی شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس میں رونما ہونے والے خونیں واقعات اور مسلمانوں کے قبلہ اوّل مسجد الاقصیٰ پر قبضے کے لیے اسرائیلی اقدامات کو بھولے نہیں ہیں۔ بعض سعودی شہریوں نے ٹویٹر پر مقبوضہ بیت المقدس کے مکینوں سے اظہار یک جہتی کے طور پر سوموار کی شب ''فاراقصیٰ'' کے ہیش ٹیگ سے عالمی سطح پر مہم شروع کی ہے۔اس کے بعد منگل کی دوپہر تک سعودیوں نے قریباً ساٹھ ہزار ٹویٹس پوسٹ کی ہیں۔ان کا مقصد مقبوضہ بیت المقدس کے مکینوں کے ساتھ اظہار یک جہتی اور مسجد الاقصیٰ کے خلاف اسرائیلیوں کی چیرہ دستیوں کو دنیا کے سامنے لانا ہے۔ مسجد الاقصیٰ کے مدافعین نے ایک ادارے ''بزنس انسائیڈر'' کی اس رپورٹ کے بعد اپنی مہم کے لیے ٹویٹر کا انتخاب کیا ہے کہ سعودی ٹویٹر کو سب سے زیادہ استعمال کرتے ہیں اور اس ادارے کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق چالیس لاکھ سے زیادہ سعودی روزانہ ٹویٹر پرکچھ نہ کچھ پوسٹ کرتے ہیں۔ جامعہ شاہ عبدالعزیز جدہ میں اسلامی تعلیمات کے پروفیسر علی عمر بدہدیٰ نے ٹویٹر پر اس مہم کی حمایت کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ''یہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان کے موقف کی بھی عکاس ہے۔فلسطینی کاز کے لیے بالعموم اور مسجد الاقصیٰ سے متعلق بالخصوص سعودی عرب نے ایک مضبوط مؤقف اختیار کررکھا ہے''۔ اس مہم کے منتظمین مقبوضہ بیت المقدس کے مکینوں سے اپنی حمایت کے اظہار کے لیے سوشل میڈیا کے مختلف ذرائع استعمال کررہے ہیں۔وہ ٹویٹر کے علاوہ فیس بُک ،سنیپ چیٹ اور انسٹاگرام کو رائے عامہ ہموار کرنے کی غرض سے استعمال کررہے ہیں اور اس طرح ان کے حامیوں کی تعداد میں بھی بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔ اس مہم میں سعودی معاشرے کے ہر رنگ ونسل اور عمر وجنس سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہیں جس کی وجہ سے یہ ایک وسیع تر اور مؤثر اپیل کا روپ دھار گئی ہے۔سعودی منتظمین اس مہم کو پورے خلیج ،مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقا تک پھیلانے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ مسجد الاقصیٰ کے دفاع کے لیے عرب اور اسلامی میڈیا کی دفاعی دیوار بنائی جاسکے۔