سائبر کرائم کی روک تھام کے لئے ملازمین کو جدید ٹکنالوجی کی تربیت دی جائے گی: سنیل کمار

03:24PM Wed 2 Aug, 2017

بنگلور (بھٹکلیس نیوز):۔ بنگلور کے نئے پولیس کمشنر ٹی سنیل کمار نے کہا کہ بنگلور میں سائبر کرائم کی وارداتوں میں اضافہ ہورہا ہے اور اس کی روک تھام کیلئے ملازمین کو جدید ٹکنالوجی کی تربیت دی جائے گی۔انہوں نے کل رات اچانک پولیس کمشنر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا کہ جس طرح بنگلور ترقی کررہا ہے اس طرح سائبر کرائم کی وارداتوں میں اضافہ ہورہا ہے بنگلور میں 10سے زائد سائبر پولیس تھانہ ہیں اور ان پولیس تھانوں میں پولیس اہلکاروں کی تعداد بہت کم ہے اس لئے صرف سائبر معاملات کی جانچ کرنے اورملزمین کو گرفتار کرنے کیلئے علاحدہ پولیس اہلکار اور اسٹاف ہوگا۔ان پولیس اہلکاروں کو دوسری کوئی ذمہ داری نہیں دی جائے گی۔ حال ہی میں بنگلور پولیس نے سائبر معاملات کی جانچ کرکے کئی ملزمین کو گرفتار کرلیا ہے اور پولیس کے اس کارنامہ سے چنئی ۔ حیدرآباد ۔ نئی دہلی ۔ ممبئی اور دیگر اہم شہروں کے پولیس کمشنروں نے بھی ان کے پولیس اہلکاروں کو جدید تربیت دینے کی گذارش کی ہے ۔ان تمام شہروں کے تمام پولیس اہلکار بہت جلد تربیت کیلئے بنگلور آئیں گے۔تربیت دینے کے معاملہ میں بنگلور پولیس کو باعث فخر کی بات ہے ۔انہوں نے کہا کہ بنگلور دہشت گردی کے نشانہ پر ہے اور پولیس کو ہمیشہ چوکنا رہنا ہوگا اور سب سے پہلے امن وامان ۔ نظم اور ضبط کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے اور وہ پولیس کمشنر بننے سے قبل اڈیشنل پولس کمشنر(نظم و ضبط) کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور وہ بنگلور کی تاریخ اور تمام غنڈوں سے بخوبی واقف ہیں۔ جرائم کی روک تھام کیلئے ہر ایک پولیس اہکار کو دن اور رات میں گشتی کرنی ہوگی۔ ان کے لئے پنک ہوئسلا۔ گشتی ہوئسلا ۔ چیتا اور دیگر سواریاں فراہم کی گئی ہیں اور بنگلور کے پولیس اہلکاروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔پہلے صرف 12پولیس اہلکار تھے اور آج اس کی تعداد 16 ہزار ہوگئی ہے پھر بھی یہ تعداد بہت کم ہے اور بنگلور میں 700لوگوں کے لئے ایک پولیس کانسٹیبل ہے جبکہ ممبئی اور نئی دہلی میں 250 لوگوں کے لئے ایک پولیس اہلکار ہے۔انہوں نے کہا کہ بنگلور میں عصمت دری ۔ جنسی استحصال اور دیگر کئی طرح کی ظلم و ستم کی وارداتیں ہورہی ہیں۔ ان کی روک تھام کیلئے پولیس اہلکاروں کو ایمانداری اور دیانتداری سے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔خواتین اور معصوم کمسن عمر کی لڑکیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور جنسی ہراسانی کی وارداتو ں میں اضافہ ہورہا ہے اس کی روک تھام کے لئے عوام کا تعاون بھی ضروری ہے ۔دوسری طرف بنگلور میں عمر رسیدہ لوگوں کی قتل کی وارداتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔اس کے لئے بھی پولیس کو سخت محنت کرنی ہوگی۔ عوا م کو بھی خود کی حفاظت کرنے کے علاوہ گھروں میں رہنے والے والدین یا عمر رسیدہ لوگوں کی حفاظت کے لئے کچھ ضروری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری طرف بنگلور میں عمر رسیدہ لوگوں کی قتل کی وارداتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔اس کے لئے بھی پولیس کو سخت محنت کرنی ہوگی۔ عوام کو بھی خود کی حفاظت کرنے کے علاوہ گھروں میں رہنے والے والدین یا عمر رسیدہ لوگو ں کی حفاظت کے لئے کچھ ضروری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولس تھانوں کو شکایت لیکر آنے والے کا مظاہر ہ کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کاروائی ہوگی۔ دوسری طرف تمام پولیس تھانوں کے پولیس انسپکٹروں کو ہر دن شام 4بجے سے شام 6بجے تک پولیس تھانوں میں رہنا ہوگا اور ہفتہ میں ایک پاسپورٹ عرضیوں کے معاملات کو نپٹانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاملہ میں رشوت طلب کرنے پر سخت کاروائی ہوگی۔ بنگلور میں پولیس تھانوں کی تعداد میں اضافہ ہونے پر پولیس تھانوں کی حدود بندی کم ہوتی ہے اور پولیس اہلکاروں پر کام کا بوجھ بھی کم ہوا ہے ۔لوگوں کے مسائل پولیس تھانوں میں حل ہونا چاہےئے اور انہیں اعلیٰ پولیس افسران تک ملنے کی نوبت نہیں آنی چاہےئے۔ دوسری طرف پولیس تھانے ریل اسٹیٹ کا دھندہ یا غنڈوں کے اڈے نہیں بننا چاہےئے۔ ٹرافک کے مسئلہ کو بہت جلد حل کرلیا جائے گا۔