'میانمار مسلمانوں کے خلاف جاری منافرت بند کرائی جائے'

04:25PM Thu 5 Nov, 2015

مسلمانوں کے خلاف نسلی امتیاز کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے: یو این نیویارک ۔ )ایجنسیاں( برما میں مسلمان آبادی پر بدھ مت دہشت گردوں اور مقامی حکومت کے وحشیانہ مظالم کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اقوام متحدہ نے میانمار کے مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ظالمانہ اور امتیازی سلوک کے سنگین نتائج پر خبردار کرتے ہوئے برما کی حکومت سے مسلمانوں کو ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے دو سینئر عہدیداروں نے میانمار میں اتوار 8 نومبرکو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے دوران مسلمان آبادی کو ہر ممکن تحفظ دینے کا مطالبہ کیا۔ اقوام متحدہ کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ میانمار میں جہاں انتخابی عمل کا پرامن ہونا ضروری ہے وہیں روھنیگیائی مسلمانوں کے خلاف جاری نفرت اور اشتعال انگیز مہم پر بھی لازمی پابندی لگائی جانی چاہیے۔ یو این جنرل سیکرٹری جنرل بان کی مون کے مندوب برائے انسداد نسل پرستی اداما ڈینگ اور منظم مذہبی سیاسی اور نسل پرستی کے خلاف سرگرم کمیٹی کے سربراہ جنیفر ویلز نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ میانمار میں مسلمانوں کے خلاف نسلی امتیاز پر مبنی ظالمانہ سلوک بدستور جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میانمار میں مسلمان اقلیت کے خلاف جاری منظم نسل پرستانہ مذہبی اور نسلی تفریق سنہ 2008ء کے مرتب کردہ دستور کی دفعہ 364 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یو این مندوبین کا کہنا ہے کہ ہم بار بار خطرے سے متنبہ کر رہے ہیں کیونکہ میانمار سے آنے والی رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ وہاں پر مسلمان اقلیت کے خلاف نفرت انگیز مہم ایک بار پھر زوروں پر ہے۔ بالخصوص میانمار کے مذہبی گروہ اور مختلف سیاسی جماعتوں کے مسلح جتھے مسلمانوں کے خلاف نسل پرستانہ مکروہ مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آنے والے دنوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ عالمی ادارے کے عہدیداروں نے خبردار کیا کہ میانمار میں مسلمانوں کے خلاف جاری نفرت انگیز مہمات کے خود برما کے لیے سنگین نتائج مرتب کر سکتے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف جاری مہمات تشدد کی راہ ہموار کر رہی ہیں۔ حکومت کو دستورکے تحت اقلیتوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اٹھاتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف جاری مہمات کو بند کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ خدشہ ہے کہ میانمار میں آئندہ اتوار کو ہونے والے انتخابات میں مسلمان اقلیت کے گرد مزید گھیرا تنگ کرنے کی راہ ہموار ہو گی اور روھنیگیا کے مسلمانوں کے حقوق سلب کیے جائیں گے۔ یو این عہدیداروں نے کہا کہ روھنگیا میں مسلمان اقلیت کے حقوق کی پامالی اور ان پر مظالم نئے نہیں بلکہ عشروں سے جاری ہیں۔ روھینگیا کی حکومتیں ایک منظم منصوبے کے تحت مسلمان اقلیت کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانے کے لیے سخت ترین قوانین کا سہارا لیتی رہی ہیں۔ بدقسمتی سے برما میں تمام طبقات کی نمائندہ حکومت کے قیام کے بجائے بدھ مذہب کے انتہا پسندوں کی نمائندہ قوتیں اقتدار میں آ کر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر وحشیانہ مظالم ڈھاتی رہی ہیں۔