منصوبہ بندی بورڈ کو خود مختاری دی جائے :سی ایم ابراہیم

12:47PM Wed 4 Mar, 2015

بھٹکلیس نیوز/4 ما ر چ ،15 بنگلورو(ایجنسی) سابق مرکزی وزیر اور ریاستی منصوبہ بندی بورڈ کے نائب چیرمین سی ایم ابراہیم نے آج ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ریاستی منصوبہ بندی بورڈ کو مکمل خود مختاری دی جائے۔ تاکہ سرکاری اسکیموں کے نفاذ کی وہ راست طور پر نگرانی کرسکے۔ آج وکاس سودھا میں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور نیشنل لاءاسکول آف انڈیا یونیورسٹی کی جانب سے بجٹ میں مختلف فرقوں کی حصہ داری کے عنوان پر ایک سمینار کا افتتاح کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت نے منصوبہ بندی کمیشن کو ختم کرکے نیتی آیوگ قائم کیا ہے، لیکن ریاستی حکومت کو چاہئے کہ آنجہانی سابق وزیراعظم جواہر لال نہروکی دور اندیشی کے نتیجہ میں قائم منصوبہ بندی بورڈ کو اور مضبوط کرے، اور اس میں سدھار لانے کیلئے ٹھوس تجاویز پرعمل کرے۔ انہوںنے کہاکہ ملک اور ریاست کا جو موجودہ معاشی نظام ہے اس کی مطابقت میں منصوبہ بندی بورڈ کو سرگرم ہونا چاہئے۔ بورڈ کیلئے ماہرین معاشیات پر مشتمل 8ممبران کا تقرر باقی ہے۔ ان ممبران میں ریاستی حکومت کے 36 محکموں کی ذمہ داری تقسیم ہونی چاہئے۔تین ماہ میں ایک بار صوبائی ، ضلعی اور تعلقہ سطحوں پر ترقی کا جائزہ لینے کا اختیار کمیشن کو دیا جائے۔سرکاری اسکیموں کا فائدہ اگر عوام تک پہنچ نہیں رہا ہے تو اس کیلئے ذمہ دار سرکاری افسران کی باز پرس کرنے اور ان کے سرویس ریکارڈ میں ان کی لاپرواہی کے متعلق اندراج کرنے کا اختیار منصوبہ بندی بورڈ کو ملنا چاہئے۔ سماج کا مظلوم طبقہ آج ترقی کا محتاج ہے، لیکن پچھلے بجٹ میں اس طبقے کی ترقی کیلئے دئے گئے 16800 کروڑ روپیوں کی رقم اب تک صرف نہیں ہوپائی ہے۔ ریاستی حکومت کو چاہئے کہ ایک نیا قانون منظور کرے ، جس کے تحت اس بقیہ رقم کا استعمال بھی لازمی طور پر کیا جاسکے۔ اس موقع پر ریاستی وزراءقمر الاسلام، ایچ آنجنیا اوردیگر اعلیٰ عہدیداران موجود تھے۔ ع،ح،خ