آبروریزی کے الزام پر ایم جے اکبر نے کہا : خاتون صحافی کے ساتھ رضامندی سے بنائے گئے تھے تعلقات

01:29PM Fri 2 Nov, 2018

امریکہ میں رہنے والی ایک ہند نزاد خاتون جرنسلٹ نے سابق مرکزی وزیر ایم جے اکبر پر آبروریزی کرنے کا الزام لگایا ہے۔ پللوی گوگوئی نام کی یہ صحافی نیشنل پبلک ریڈیو( این پی آر ) میں چیف بزنس رپورٹر ہیں۔ انہوں نے واشنگٹن پوسٹ اخبار میں ایک کالم میں پورے واقعہ کا تذکرہ کیا ہے۔ حالانکہ ایم جے اکبر کےو کیل نے ان الزامات کو جھوٹا قرار دیا ہے۔ پللوی گوگوئی نے لکھا ہے کہ ایم جے اکبر ایک شاندار صحافی تھے ، لیکن ایشین ایج اخبار میں ایڈیٹر ان چیف رہتے ہوئے انہوں نے اپنے عہدہ کا غلط استعمال کیا۔ گوگوئی نے جب ایشین ایج میں نوکری شروع کی تھی ،تب ان کی عمر صرف 22 سال تھی ۔
 گوگوئی نے لکھا ہے کہ "میں ان کی لسانی صلاحیت سے کافی متاثر تھی ، میں سوچتی تھی کہ کاش میں بھی ایسا لکھوں ، لہذا میں ان کی کافی عزت کرتی تھی ، ایسے میں ان کی گالیاں بھی برداشت کرلیتی تھی "۔صرف 23 سال کی عمر میں گوگوئی کو اخبار میں اوپینین پیج کا ایڈیٹر بنادیا گیا ، لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس کیلئے انہیں بڑی قیمت چکانی پڑی ۔ اس دن کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے کہ "اکبر نے میری تعریف کی ، لیکن اچانک ہی اس نے مجھے کس کرلیا ، میں بے حد ڈر گئی ... میں شرمندہ ہوگئی "۔ گوگوئی نے پورے واقعہ کو اپنے ایک ساتھی کو بتایا ۔ دوسرا واقعہ کچھ مہینوں بعد ممبئی میں ایک میگزین کی لانچ کے دوران پیش آیا ۔ انہوں نے اس واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا کہ "اکبر نے مجھے تاج ہوٹل کے کمرے میں ایک مرتبہ پھر سے کس کرنے کی کوشش کی ، میں نے انہیں دھکا دیدیا ، اس نے میرے چہرے پر خرونچ مار دی .. میں روتے ہوئے وہاں سے بھاگی ۔ اس دن شام کو ایک دوست کو بتایا کہ میرے چہرے پر اس لئے خرونچ آگئی ، کیونکہ میں ہوٹل میں گر گئی تھی "۔ ایم جے اکبر نے الزامات کی تردید کی
ادھر ایم جے اکبر نے ان الزامات کی تردید کی ہے ۔ نیوز ایجنسی اے این آئی پر اکبر کے بیان کی کاپی شائع کی گئی ہے۔ اس میں کبر نے بتایا کہ" مجھے واشنگٹن پوسٹ میں شائع آرٹیکل کی جانکاری ملی ، جس میں 23 سال پرانے مبینہ واقعہ کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ یہ الزمات جھوٹے ہیں اور میں انہیں خارج کرتا ہوں ۔ 1994 میں پللوی گوگوئی اور میں ریلیشن شپ میں تھے ، جس میں دونوں کی رضامندی تھی ۔ ہمارا ریلیشن شپ کچھ مہینوں تک چلا ، جس کی وجہ سے میری زندگی میں بھی مشکلات آئیں اور ہمارا تعلق ختم ہوگیا "۔