کھلے ذہن اور ترقیاتی سوچ کی حامل سرکار عوامکی ضرورت !نسیم الدین 

12:40PM Wed 15 Feb, 2017

سہارنپور۔(بھٹکلیس نیوز) بہوجن سماج پارٹی کے قومی قائد نسیم الدین صدیقی نے زور دیکر کہاکہ اتر پردیش کی ریاست کے مختلف علاقوں میں رونما ہونیوالے چار سو کے قریب چھوٹے بڑے پری پلان کرائے جانیوالے فسادات کے سچ کو ثابت کرنیکے لئے بھاجپا اور سماجوادی سرکار کی کارکردگی ہی کافی ہے دونوں کی ذہنیت مطلب پرستی اور کنبہ پروری پر مشتمل ہے عوام سے اور عوام کے دکھ درد سے انکو کچھ بھی سروکار نہی بس اقتدار حاصل کرنیکے لئے یہ کچھ بھی کرنیکو تیار رہتے ہیں ؟آج مسلم اور دلت قوم سب سے زیادہ مشکلات میں گھری ہوۂ ہے تنگی اور بیروزگاری کا بول بالا ہے جبکہ اعلیٰ برادریاں اور ان برادریوں کا معاون طبقہ اقتدار کے نشہ میں چور مظلوم عوام کا خون چوسنے سے بھی پرہیز نہی کر رہاہے ۔ بسپاکے سینئر قائد نے کہاکہ بہوجن سماج پارٹی نے ریاست میں گزشتہ عرصہ میں چار مرتبہ سرکار چلائی ہے ہماری سرکار میں غنڈہ گردی کی واردات یا ہندو مسلم فساد کی واردات کہیں بھی نہی ہوئی اور نہ ہی مستقبل میں ہوگی یہی بسپا کی شاندار قیادت کا کمال ہے! بہوجن سماج پارٹی کے لیڈر نسیم الدین صدیقی نے کہاہیکہ جبکہ آج کل دیگر جماعتوں کی سرکاروں کے دور اقتدار میں ملک کے بیشتر حصوں کے علاوہ یوپی میں بھی عوام اپنی جان، مال، بنیادی حقوق اور آبرو کی حفاظت کے لئے سخت مشکلات سید وچارہیں ۔ قابل ذکرہے کل اور آج شہر سہارنپور، مرزاپور ، بہٹ، چھٹملپور، رائے پور ، سٹی سہارنپور اور کیلاشپور کے خاص علاقوں میں اپنی بہت سے اہم عوامی رابطہ تقریبات کو خطاب کرتے ہوئے بہوجن سماج پارٹی کے سینئرقائد نسیم الدین صدیقی نے یہ بھی صاف کر دیاہے کہ ۱۵ فروری کو مغربی اتر پردیش کا مسلمان مرکزی سرکار اور یوپی سرکار کی گزشتہ عرصہ سے عوام کے ساتھ جان بوجھ کر کیجارہی زیادتیوں سے بچنے کا حل نکال لینے کا حل جانتاہے اس لئے ووٹ بسپاکے امیدواروں کو ہی دیگا عوام امن اور ترقیاتی سوچ رکھنے والی سرکار کا قیام چاہتاہے ۔ بسپا قائن نے کہاکہ آج جس طرح سے ظلم و زیادتیاںیوپی کے مظلوم بلخصوص دلت اور مسلم طبقہ کے عوام کو برداشت کرنا پڑ رہی ہیں وہ آج کے قانونی دور میں ریاست کے عوام کے حقوق کی کھلم کھلا پامالی ہے اب عوام اس غنڈہ راج اور بربریت سے لبالب سماجواد ی اور ملک کو بانٹنے والی بیہودہ ذہنیت کو کسی بھی صورت برداشت نہی کریں گے۔ بہوجن سماج پارٹی کے قدآور رہبر نسیم الدین نے کہاکہ اس مفادپرستی اور خد پرستی پرمبنی بیہودہ سیاسی سرکار کی ووٹ کی طاقت پر مخالفت بیحد ضروری ہے بسپاکے سینئر قائد نسیم الدین صدیقی نیکہا کہ وقت سامنے آکھڑاہے کہ اب ریاست کے عوام کی بھلائی اسی میں ہیکہ وہ اپنی بہتری، خوشحالی، امن اور ترقی کیلئے بسپاکے امید واروں کو جتائیں اور موقع پرستوں کو باہر کا راستہ دکھادیں عام چرچہ ہے کہ اس چناؤ میں بہوجن سماج پارٹی ضلع کی سات میں سے پانچ سیٹوں پر سبقت بنائے ہوئے ہے یہاں پر حاجی محمد اقبال کی بیہٹ سیٹ سہی معنوں میں بسپاکی سب سے زائد ووٹوں سے جیتی جانے والی مضبوط ہے دیگر ضلع بھر کی باقی چھ سیٹوں پر ہر پارٹی کے امیدوار کا مقابلہ سیدھے بسپاسے ہی ہونا طے ہے رام پور اور دیوبند سیٹ بھی کافی اہمیت رکھتی ہے یہاں بھی بسپا سب سے بہتر پوزیشن میں ہے ۔ سینئر قائد نسیم الدین صدیقی نے کہاکہ بیہٹ ہی نہی بلکہ کمشنری کے عوام کے بھلے میں جوعملی کام ہماری بہٹ اسمبلی سیٹ کے امیدوار حاجی اقبال نے انجام دئے ہیں انکے عوض وہ آپکے ووٹ کے سہی حقدار ہیں آپ بے لوث خادم اقبال بھائی کو اکثریت سے کامیاب بنائیں۔ ایم ایل سی اور جوجھارو بسپا قائد محمود علی ایمڈی نے اس موقع پر عوام سے گزارش کی کہ وہ بہتر سرکار کے قیام کیلئے بسپا کے امیدواروں کو بھاری ووٹوں سے جتاکتر ہاؤس میں بھیجیں تاکہ اچھی سرکار کی تشکیل ہوسکے ایم ایل سی اور جوجھارو بسپا قائد محمود علی ایم ڈی نے عوام سے اقبال بھائی کو اکثریت کے ساتھ ووٹ دینے کی اپیل کی اور کہاکہ بسپاہی بہتر سرکار دینے کے اہل ہے اسلئے ضروری ہیکہ بسپاکو حمایت دیں بہوجن سماج پارٹی کے نوجوان قائد افضل صدیقی بھی گزشتہ تین ماہ کی مدت کے دوران اسٹیٹ کے رجنوں اضلاع میں بسپا کی حمایت میں ساٹھ سے زائد بڑی ریلیوں کو بھی خطاب کر چکے ہیں بہوجن سماج پارٹی کے نوجوان قائد افضل صدیقی نے صاف طور سے کہا کہ آنیوالا وقت عوام کے لئے بھلائی اور خوشحالی لیکر آئیگا۔ریاست میں ۱۵فروری ۲۰۱۷ کا ہونیوالا اسمبلی چناؤ ہر مذہب اور طبقہ کے پچھڑے پسماندہ اور کمزور عوام کیلئے مسررتیں لیکر آئیگا پانچ سال بعد آپ سبھی کو اپنی پسند کی نئی سرکار چننے کا سنہرا موقع ملیگا اس بار بھی اگر آپ چوک گئے تو آپ خد ہی ذمہ دار ہونگیں۔ چھ کمشنریوں کے انچارج اور بہوجن سماج پارٹی کے قومیلیڈر بھائی نسیم الدین صدیقی کے بیٹے اٖفضل صدیقی نے بہوجن سماج پارٹی کی کامیاب سو سے زائد بھائی چارہ ریلیوں کی شاندار کامیابی پر ایک شاندار استقبالیہ پروگرام میں اپنے خیالاتکے دوران کہا ہے کہ بہوجن سماج پارٹی ملک کے ۸۵ فیصد عوام کی نمائندہ جماعت ہے، مخالفین ہماری مقبولیت سے حسد رکھتے ہوئے کچھ بھی کہیں مگر یہ سچ ہے کہ بہوجن سماج پارٹی ہی فرقہ پرستی ، کنبہ پروری ، برادری واد اور لسانی برائی کی سخت مخالف اور صاف ستھرے ذہن والی عوام کے ذریعہ بنائی گئی عوامی جماعت ہے بہوجن سماج پارٹی کینوجوان قائد سرگرم سیاست داں اٖفضل صدیقی نے زور دیکر کہاکہریاست کی موجودہ سرکار بھائی بھتیجہ واد، فرقہ پرستی اور ہندو مسلمانوں کے بیچ درار پیدا کرنے والی زہریلی سوچ کی دیوار کو گرانے میں پوری طرح سیناکام ہے! ریاستی سطح پر ہندو مسلم فسادات اور لوٹ پاٹ کی بڑھتی وارداتیں اس سچائی کی ضامن ہیں کہ سرکار بھائی چارہ اور امن قائم رکھنے میں فیل ہوچکی ہے عوام مہنگائی اور خوف کے بھوت کا شکار بناہواہے ۔ بسپا قائدصدیقی نے بیباک انداز میں کہاکہ بجنور میں مسلم جوانوں کا قتل مظفرنگر اور سہارنپور کے فساد اور اس میں ہوئے اقلیتی فرقہ کے زبردست جانی اور مالی نقصان کی شرمناک وارداتوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ سرکار پسماندہ ، پچھڑے ، دلت اور اقلیتی فرقہ کی جان و مال کی حفاظت کرنا ہی نہیں چاہتی ، اس سرکار کے زیادہ طر افسر اور وزراء منووادی سوچ کے شکار ہیں، یہ ووٹ تو سب کا لیتے ہیں مگر کام اونچے طبقے اور اونچے گھرانے کے لوگوں کا ہی کرتے ہیں۔ بسپاکے نوجوان لیڈر افضل صدیقی نے کہا کی ریاست فرقہ پرستی ، غنڈہ گردی ، لوٹ پاٹ اور بد امنی سے دو چار ہے ہر ضلع میں تشدد اور لوٹ پاٹ کی وارداتیں عام ہیں۔ مگر سرکار عوام کی حفاظت کرنے میں ساڑھے چار سال بعد بھی بری طرح سے ناکام ہے اسی وجہ سے آج ہر مذہب اور طبقے کا عوام بہوجن سماج پارٹی کی سرکار واپس لانے کی تیاری کر رہا ہے۔