مسلم تنظیموں پر پابندی کا مطالبہ ۔۔۔۔۔کونسل میں عبدالجبار نے ایشورپا کو لتاڑا

02:15PM Sun 12 Feb, 2017

بنگلور:(عبدالخالق)کرناٹکا لیجسلیٹیو کونسل میں بی جے پی لیڈر ایشور پانے الزام لگایا کہ چند ایک مسلم تنظیمں ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں ان مسلم تنظیموں پر پابندی لگائی جائے اس مطالبہ پر کانگریس کے رکن جناب عبدالجبار اٹھ کھڑے ہوئے اور مطالبہ کیا کہ آریس یس بحرنگ دل ، وی ہچ پی جیسی تنظیموں پر پابندی لگائی جائے جو ریاست میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرکے لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پید اکررہے ہیں جنا ب عبدالجبار کی بات پر ایشور پا اور بی جے پی کے اراکین اٹھ کھڑے ہوگئے چلاتے ہوئے ایوان میں ہنگامہ کھڑا کردیا ایوان کی کاروائی کو چلنے نہیں دیا۔ گذشتہ ہفتہ ایوان میں گورنر کے خطبہ پر بحث کے دوران کونسل میں اپوزیشن لیڈر ایشورپا نے کہا کہ شمیوگہ میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے گئے ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی کئی ایک مسلم تنظیم ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ ان پر پابندی لگائی جانی چاہئے ۔ جناب عبدلجبار نے ایشورپا سے کہا کہ جب پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے جارہے تھے تو آپ خاموش کیوں تھے اسی وقت آپ پولیس کے ذریعہ کاروائی کرسکتے تھے لیکن ایسا نہیں ہوا آپ جیسے آریس یس کے لیڈر جھوٹ کو سچ بنانے کی کوشش کرتے ہیں اس پر بی جے پی کے ارکان اور ناراض ہوئے اور کونسل کے ڈپٹی چیرمین سے مطالبہ کیا عبدالجبار کے ریمارکس کو ریکارڈ سے خارج کیا جائے عبدالجبار نے کہا کہ میں میرے ریمارکس پر قائم ہوں فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے والی تنظیموں پر پابندی لگنی چا ہئے۔ ایک موقع پر ایشور پا نے کہاکہ میں پی کر آنے والوں سے منہ نہیں لگتا (انُ کا شارہ شراب پی کر) اس جملہ پر کانگریس پارٹی کے تمام ممبرس اٹھ کھڑے ہوگئے اور ایشورپا کے اس جملہ کو ریکارڈ سے خارج کرنے کا مطالبہ شروع کردیا اور کہاکہ کون شراب پی کر آیا ہے اس کی جانچ کی جائے طویل بحث کے بعد ایشورپا نے اپنے ریمارکس کو واپس لے لیا۔