عالمی قوتوں نے صحافی کی موت پر سعودی وضاحت کو ناکافی قرار دے دیا

12:13PM Mon 22 Oct, 2018

واشنگٹن: برطانیہ، جرمنی، یورپی یونین اور دیگر عالمی قوتوں کے دباؤ کے بعد امریکا نے بھی صحافی کی قونصل خانے میں موت پر سعودی عرب سے مکمل تحقیقات اور پُراسرار موت پر اٹھنے والے سوالات کے ٹھوس جوابات کا مطالبہ کردیا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے صحافی جمال خاشقجی کی موت کی تصدیق پر اپنے اولین بیان سے انحراف کرتے ہوئے برطانیہ، جرمنی اور یورپی یونین کے موقف کے ساتھ کھڑے ہونے کا عندیہ دے دیا ہے۔ صحافیوں سے گفتگو میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ قونصل خانے میں جمال خاشقجی پر کیا بیتی اس کی تفصیلات سے دنیا کو آگاہ کیا جائے، یہ کب، کہاں اور کیسے ہوا؟ یہ سب کچھ سامنے آنا چاہیے اور ہم حقیقت سے تھوڑی ہی دوری کے فاصلے پر ہیں۔ سعودی عرب میں 18 شہریوں کی گرفتاری اور انٹیلی جنس افسران کی معطلی جیسے سعودی اقدامات پر امریکی صدر کا کہنا تھا کہ مزید اقدامات کی ضرورت ہے، یہ تو محض پہلا قدم ہے جو کہ مثبت ہے ہمیں اس سے اچھی امیدیں وابستہ کرنا چاہئیں، میں اس سلسلے میں ولی عہد محمد بن سلمان سے بات کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔ دوسری جانب جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل نے سعودی عرب کے وضاحتی بیان اور اقدامات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کی موت کے ذمہ داروں کو جواب دینا پڑے گا، جس کے لیے شفاف تحقیقات کا ہونا بہت ضروری ہے۔ اس بیان کے ساتھ ہی جرمنی نے اپنے اسلحے کے سب سے بڑے خریدار سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت کا ازسرنو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ دریں اثناء برطانیہ نے بھی سعودی عرب سے شفاف تحقیقات اور غیر واضح صورت حال پر اُٹھنے والے سوالات کے جوابات دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافی کی پُراسرار موت کے ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزائیں بھگتنا ہوں گی اور مکمل تحقیقات کے بغیر سعودیہ و برطانیہ کے درمیان تعلقات دیرپا اور مستحکم نہیں رہ سکتے۔ ادھر یورپی یونین ممالک نے بھی سعودی عرب سے شفاف، قابل اعتماد اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے والی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ داروں کا تعین کرنے اور انہیں سزائیں نہ دینے تک یہ معاملہ ٹھنڈا نہیں پڑے گا، ذمہ داروں کو سزائیں دیئے بغیر تحقیقات کو مکمل نہیں کہا جاسکتا۔