میانمار میں مسلمانوں کے خلاف نفرت میں مسلسل اضافہ، اتوار کو بدھ مت کے پیروکاروں کا مظاہرہ

12:14PM Mon 4 Jul, 2016

ینگون۔ میانمار کی ریاست رہائن میں مسلمانوں کے خلاف نفرت مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ اتوار کو بدھ مت کے ہزاروں پیروکاروں نے یہاں مسلمانوں کے خلاف مظاہرہ کیا۔ حال میں مسلم مخالف لہر پورے میانمار میں پاؤں پسار چکی ہے۔ ایک ہفتے کے اندر دو مسجدوں میں بدھ مت کے پیروکاروں نے آگ لگا دی۔ 2012 کے بعد میانمار میں فرقہ وارانہ تشدد کی جڑیں گہری ہوتی گئیں۔ اس میں اب تک بہت سے لوگوں کی جان جا چکی ہے۔ نوبھارت ٹائمس میں چھپی خبر کے مطابق، میانمار میں تقریبا 10 لاکھ روہنگیا مسلم بے گھر ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے پاس شہریت بھی نہیں ہے۔ مذہبی تشدد کے معاملے میں رہائن اسٹیٹ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ یہاں دسیوں ہزار مسلمانوں کو کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کو رہائن کے بدھ مت کے پیروکاروں سے زبردست نفرت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ نہیں چاہتے کہ ریاست کی طرف سے انہیں کسی بھی طرح کا کوئی حق ملے۔ یہ انہیں غیر قانونی بنگلہ دیشی پراوسی کہتے ہیں۔ انہوں نے روہنگیا لفظ کے استعمال پر بھی اعتراض کیا ہے۔ آنگ سان سو کی کی حکومت نے بھی روہنگیا لفظ کے استعمال کو روکنے کی ہدایت دی ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ ان کے لئے رہائن کی مسلم کمیونٹی ٹرم کا استعمال کیا جائے۔ لیکن مظاہرین نے اتوار کو کہا کہ انہیں اس ٹرم پر بھی اعتراض ہے۔ اس اسٹیٹ کے بدھ مت کے پیروکاروں کا کہنا ہے کہ اس ٹرم سے مسلمانوں کو بدھ مت ملک میں منظوری ملے گی۔ مسلمانوں کے خلاف بدھ مت کے پیروکاروں کی اس ریلی میں نعرے لگائے جا رہے تھے- 'رہائن اسٹیٹ کو بچاو'۔ اسی طرح کا مظاہرہ تھانڈوے میں بھی دیکھنے کو ملا۔ یہاں بھی بھاری تعداد میں مظاہرین شامل ہوئے تھے۔