انڈونیشیا میں آٹھ مجرموں کی سزائے موت پر عمل درآمد
12:40PM Wed 29 Apr, 2015
بھٹکلیس نیوز/29اپریل ،15
انڈونیشیاء (ایجنسی)عالمی برادری کے شدید دباؤ کے باوجود انڈونیشیا میں منشیات کے آٹھ تاجروں کی سزائے موت پر عمل درآمد کر دیا گیا۔ آسٹریلیا نے احتجاجاً جکارتہ سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے۔ برازیل میں بھی گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
انڈونیشی اٹارنی جنرل محمد پراسیتیو نے بتایا کہ ان تمام مجرموں کی سزاؤں پر ایک ساتھ یعنی مقامی وقت کے مطابق رات 12:35بجے عمل کیا گیا۔ فائرنگ اسکواڈ تیرہ افراد پر مشتمل تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جاوا کی ایک جیل میں سزائے موت پانے والوں میں دو آسٹریلوی، چار نائجیرین، ایک برازیلین جبکہ ایک مقامی شخص شامل ہے۔
پراسیتیو کے بقول فلپائن سے تعلق رکھنے والی خادمہ میری جین ویلوسوکی سزائے موت پر عمل درآمد آخری وقت میں روک دیا گیا۔ اٹارنی جنرل کے مطابق ویلوسو کو اپنا موقف ثابت کرنے کے لیے مزید وقت دیا گیا ہے کیونکہ مبینہ طور پر فلپائن میں ایک خاتون نے یہ کہتے ہوئے خود کو پولیس کے حوالے کیا کہ تقریباً ڈھائی کلو ہیروئن اُس نے ویلوسو کے بیگ میں رکھی تھی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے موت کی سزاؤں پر عمل درآمد پر کڑی تنقید کی ہے۔ آسٹریلیا نے احتجاجاً جکارتہ سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے۔ آسٹریلوی وزیر اعظم ٹونی ایبٹ کے بقول سزائے موت پر عمل درآمد ظالمانہ اور ایک غیر ضروری اقدام تھا:میں یہ بات زور دے کر کہنا چاہوں گا کہ آسٹریلیا اور انڈونیشیا کے مابین بہت اہم تعلقات قائم ہیں لیکن ابھی چند گھنٹے قبل جو کچھ ہوا ہے، وہ ان تعلقات پر ضرور اثر انداز ہو گا۔
آسٹریلیا اور انڈونیشیا کے مابین گہرے اقتصادی اور سیاسی روابط قائم ہیں۔ کینبرا حکومت کے مطابق سزائیں دینے کی وجہ سے دونوں ممالک کے کاروباری روابط پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اسی طرح برازیل اور انڈونیشیا نیبھی دفاعی شعبے میں متعدد اہم معاہدوں پر دستخط کر رکھے ہیں۔ اس سال کے دوران انڈونیشیا میں برازیل کے کسی شہری کو سزائے موت دینے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ برازیل کی حکومت کے مطابق اس بارے میں سوچ بچار جاری ہے کہ اس سلسلے میں مزید کیا اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ نے ان آٹھ افراد کو موت کی سزا دینے کے واقعے کو افسوسناک اور قابل مذمت قرار دیا ہے۔ اس عالمی ادارے نے جکارتہ حکومت سے ایک مرتبہ پھر سزائے موت پر پابندی عائد کرنے کے لیے زور دیا ہے۔ اس سے قبل پانچ سال تک انڈونیشیا میں کسی بھی مجرم کو سزائے موت نہیں دی گئی تھی تاہم گزشتہ برس صدر جوکو ودودو نے بر سر اقتدار آتے ہی یہ پابندی ختم کر دی تھی۔
برازیل کے ایک مذہبی مشیر چارلی بورو نے سزائے موت پر عمل درآمد سے قبل ان آٹھوں مجرموں سے ملاقات کی تھی۔ ان کے بقول ان افراد نے فائرنگ اسکواڈ کے سامنے کھڑے ہونے سے قبل آنکھوں پر سیاہ پٹیاں باندھنے سے انکار کر دیا تھا۔ آسٹریلوی ذرائع ابلاغ کے مطابق سزا پر عمل درآمد کے وقت یہ مجرم مذہبی گیت گا رہے تھے۔
جکارتہ حکومت نے سزائے موت پر عمل درآمد کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ انڈونیشی اٹارنی جنرل محمد پراسیتیو کے بقول ہم منشبات کے گھناؤنے کاروبار اور اپنی قوم کو بچانے کے لیے جنگ کر رہے ہیں۔ کسی کو سزائے موت دینا تفریح نہیں ہے لیکن قوم کو اس خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔ ہم دشمن نہیں بنا رہے بلکہ ہم منشیات کے کاروبار سے منسلک جرائم کے خلاف لڑ رہے ہیں
ع،ح،خ