یکم مئی سے آپ نہیں نکال پائیں گے پروویڈنٹ فنڈ کا پورا پیسہ
01:03PM Sun 17 Apr, 2016
نئی دہلی : بیٹی کی شادی ،گھر -مکان بنانے ،بہتر تعلیم کےلئے بیٹے کا کسی بڑے ادارے میں داخلہ کرانے یاکوئی اور مشکل آجانے پر بھی اب آپ یکم مئی سے پروویڈنٹ فنڈ میں جمع پورا پیسہ نہیں نکال سکیں گے۔ تمام شہریوں کو سماجی تحفظ فراہم کرانے کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت نے پروویڈنٹ فنڈ میں رقم کے نکالنے کے ضابطوں کو سخت بنا دیا ہے۔ نیا پروویژن ایک مئی سے نافذ ہو جائے گا۔ نئے ضابطے کے مطابق پروویڈنٹ فنڈ کے شراکت دار 58 سال کی عمر پوری ہونے پر ہی پورا پیسہ نکال سکیں گے۔
ملازمین پروویڈنٹ فنڈ تنظیم کے نئے ضابطوں کے مطابق پرووینڈنٹ فنڈ کے شراکت دارغیر معمولی حالات میں ہی اپنی پوری رقم نکال سکتے ہیں۔ ان میں 58 سال کی عمر مکمل کرنے کے علاوہ، بیرون ملک بسنے، نوکری سے برطرف ہونےکی وجہ سے روزگار ختم ہونے، کام کرنے میں مستقل طور پر غیر فعال اور باہمی رضامندی کی بنیاد پر رضاکارانہ ریٹائرمنٹ کی اسکیم کے تحت سروس ختم ہونا شامل ہے۔
موجودہ ضوابط کے تحت شراکت دارنوکری کے دوران اپنی جمع رقم کا 90 فیصد تک حصہ کبھی بھی نکال سکتے ہیں۔ اس کیلئے تقریباً 15 پروویژن ہیں جن میں شادي، گھر بنانے، مکان کی مرمت کرنے، بیماری کا علاج کرانے، مسلسل تین ماہ تک تنخواہ نہ ملنا اور کام ختم ہونا وغیرہ شامل ہیں۔ پروویڈنٹ فنڈ میں تقریباًپانچ کروڑ شراکت دار ہیں۔ حکومت کی دو فروری کو جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ملازمین پروویڈنٹ فنڈ ادارہ کی پرووینڈنٹ فنڈ نکالنے کے ضابطوں میں تبدیلی کی گئی ہے اور یہ نیا ضابطہ یکم مئی سے نافذ ہوجائے گا۔
پروویڈنٹ فنڈ ادارہ کے دہلی (شمالی) کے کمشنر ابھے رنجن نے بتایا کہ نئے ضابطے کے مطابق ملازمین پروویڈنٹ فنڈ میں جمع اپنے حصے کی رقم نکالنے کے لئے مکمل طور پر آزاد ہیں لیکن آجر دار کی جانب سے جمع کرائے گئے حصے کو نہیں نکال سکے گا۔ پروویڈنٹ فنڈ میں ایک حصہ ملازم کا اور دوسرا حصہ آجر کی طرف سے جمع کرایا جاتا ہے۔
انهوں نے بتایا کہ ملازم اپنے حصے کی جمع رقم کبھی بھی سود کےساتھ نکال سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے قانون سے سوشل سیکورٹی میں اضافہ ہوگا اور بڑھاپے میں لوگوں کے پاس اپنا پیسہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ فوری ضرورتوں کے پیش نظر پروویڈنٹ فنڈ میں جمع رقم نکال لیتے ہیں،لیکن یہ طویل مدتی ضروریات کو ذہن میں رکھ کر بنائی گئی اسکیم ہے اور اس کا استعمال اسی شکل میں ہونا چاہئے۔