’اے ڈی آر سروے‘ نے مودی حکومت کی ناکامی پر لگائی مہر
01:57PM Tue 26 Mar, 2019
ملک میں لوک سبھا انتخابات کی تاریخوں کے اعلان کے بعد انتخابی عمل شروع ہو گیا ہے۔ لیکن عین انتخابات سے قبل آئی اے ڈی آر کی ایک رپورٹ بی جے پی و مودی حکومت کے لیے مسئلہ کھڑا کر رہی ہے۔ دراصل انتخابات اور انتخابی عمل پر ریسرچ اور سروے کے ساتھ نظر رکھنے والے ادارہ ایسو سی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس (اے ڈی آر) کے تازہ سروے میں سامنے آیا ہے کہ ملک کے لوگ مودی حکومت کے کام سے مطمئن نہیں ہیں۔
پیر کے روز جاری اے ڈی آر رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ووٹروں کی 10 ترجیحات کی بنیاد پر مودی حکومت کے کاموں کا اسکور اوسط سے بھی کم آیا ہے۔ اس کے مطابق ’روزگار کا اچھا موقع‘ ہندوستانی ووٹروں کی اعلیٰ ترجیح ہے۔ ووٹروں کی ترجیحات کے دو دیگر ایشوز ’بہتر صحت خدمات‘ اور ’پینے کا پانی‘ کے معاملے میں بھی حکومت کی کارکردگی اوسط سے کم رہی ہے۔
سروے کے مطابق ووٹروں میں روزگار کو لے کر زیادہ امیدیں مودی حکومت سے تھیں اور اس شعبہ میں حکومت کی کارکردگی بدترین مانی گئی۔ حکومت کو اس میں 5 کے اسکیل پر کل 2.15 کی ریٹنگ ملی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ووٹروں کی 10 سرکردہ ترجیحات کو دیکھنے سے صاف ہے کہ ہندوستانی ووٹر دہشت گردی اور مضبوط سیکورٹی اور فوجی قوت جیسے انتظامی ایشوز کے مقابلے میں روزگار اور صحت خدمات، پینے کا پانی، بہتر سڑکوں جیسی بنیادی سہولیات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔
اے ڈی آر نے یہ سروے اکتوبر 2018 سے دسمبر 2018 کے درمیان 534 لوک سبھا حلقوں میں 273487 ووٹروں کے بیچ کیا۔ اے ڈی آر نے کہا کہ یہ سنگین فکر کی بات ہے کہ ووٹروں کی 31 ترجیحات میں سے کسی بھی حکومت کا مظاہرہ اوسط یا اوسط سے اوپر نہیں رہا۔ سروے کے نتیجے میں کہا گیا ہے کہ ’’اس سے واضح اشارہ مل رہا ہے کہ ووٹر حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے۔ حکومت کو ترجیحات طے کرنی ہوں گی اور ان شعبوں پر زیادہ توجہ دینی ہوگی۔‘‘