کیا کرناٹک میں سرکاری اعداد وشمار سے زیادہ ہے مسلم آبادی ؟

01:10PM Sat 30 Apr, 2016

بنگلورو۔ کرناٹک میں مسلمانوں کی آبادی کیا سرکاری اعداد وشمار سے زیادہ ہے؟ کیا ریاست میں مسلمان دوسری بڑی اکثریت بن چکے ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جن پرحالیہ دنوں میں بحث ہورہی ہے۔ ملک کی آزادی کے بعد کرناٹک میں پہلی مرتبہ سماجی اور تعلیمی صورتحال کوجاننے کے لیے ریاست بھرمیں سروے کروایا گیا ہے۔ ریاستی کمیشن برائے پسماندہ طبقات کے تحت گزشتہ سال یہ سروے ہوا ہے۔ سروے کی رپورٹ مکمل ہوچکی ہے اوراگلے ماہ یہ رپورٹ حکومت کے سامنے پیش ہوسکتی ہے۔ لیکن رپورٹ کی پیشی سےقبل مبینہ طورپررپورٹ لیک ہونے کی خبروں سےبحث چھڑ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ریاست میں مسلمان آبادی کے لحاظ سے دوسرے نمبرپرہیں۔ مبینہ طورپرافشا ہوئی رپورٹ کے اعدادو شمارکچھ یوں ہیں۔ پسماندہ طبقات کمیشن کی سروے رپورٹ کرناٹک کی کُل آبادی6کروڑ11لاکھ دلتوں کی آبادی سب سےزیادہ ایس سی۔ ایک کروڑ8لاکھ مسلمان دوسرے نمبرپریعنی75لاکھ لنگایت طبقہ کی آبادی 59لاکھ وکلیگاطبقہ کی آبادی 49لاکھ کُربایعنی چرواہاطبقہ کی آبادی43.5لاکھ ایس ٹی42لاکھ، ایڈیگا14لاکھ برہمن طبقہ کی آبادی13لاکھ سروے رپورٹ کے اعداد وشمارکی حکومت نے تصدیق نہیں کی ہے۔ لیکن ریاست کی اعلیٰ ذاتیں وزیراعلی سدرامیا کی حکومت کوتنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ مسلم دانشورکہتے ہیں کہ مسلمانوں کی آبادی موجودہ سرکاری آنکڑوں سےکہیں زیادہ ہے۔ لیکن حکومتیں اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی آرہی ہیں۔ کرناٹک میں موجودہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق مسلمانوں کی آبادی13فیصد کے قریب ہے۔ دلتوں کے بعد لنگایت کوسب سے بڑا طبقہ سمجھا گیا ہے۔ لیکن افشا ہوئی رپورٹ کے اعداد وشمار اگر صحیح ثابت ہوئے توریاست میں نمایاں تبدیلی دیکھنے کومل سکتی ہے۔کرناٹک اقلیتی کمیشن کی صدر بلقیس بانو کہتی ہیں کہ افشا ہوئی رپورٹ کے آنکڑے اگرسچ ثابت ہوئےتومسلمانوں کےلیے یہ خوش آئند بات ہوگی۔