وزیر اعظم نے اپنی شہرت کیلئے ملک کے عوام کو مصیبت میں مبتلا کردیا :اسدالدین اویسی

03:59PM Mon 2 Jan, 2017

مجلس اتحاد المسلمین کارپوریشن میں آئے گی تو وہ بجٹ کی پوری رقم پسماندہ محلوں کی تعمیر و ترقی میں صرف کروائے گی ممبئی۔ (بھٹکلیس نیوز)ممبئی مجلس اتحاد المسلمین کے صدر شاکر پٹنی اور مجلس کے پر جوش کارکنان اور ارکان کی کوششوں اور ان کی سر پرستی میں آج اسدالدین اویسی کا ناگپاڑہ کا اجلاس کامیابی کے ساتھ ہمکنار ہوا ۔ممبئی کے مسلمانوں اور پسماندہ طبقات کو اسد الدین اویسی کی آمد کا برسوں سے انتظار تھا ۔آج ان کا انتظار ختم ہوا ۔جنوبی ممبئی کے ناگپاڑہ میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے موجودہ حکومت کی پالیسی اور اس کے مضمرات پر سخت تنقید کی ۔وہیں انہوں نے کانگریس ،راشٹر وادی اور سماج وادی کو بھی اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ۔ممبئی میں آئندہ منعقد ہونے والے الیکشن کے مد نظر انہوں نے اپنی تقریرمیں مقامی مسائل کو خاص طور سے فوکس کیا ۔انہوں نے شیواجی کے مجسمہ میں خطیر رقم خرچ کرنے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شیواجی کے نام پر سیاست کرنے والو یہ جان لو کہ شیواجی غریب عوام کا پیسہ اس طرح برباد کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دیتے ۔آج حالت یہ ہے کہ ممبئی میں بارش کے موسم میں گھروں میں پانی گھس جاتا ہے ۔گٹر کا پانی سڑکوں پر بہتا ہے ۔پتہ نہیں 37000 ہزار کروڑ روپئے کی خطیر رقم کس موڑھی میں بہہ جاتی ہے کہ عوام کو بنیادی سہولیات مہیا نہیں کرائی گئی ۔اویسی نے کہا کہ اگر آپ کے اتحاد اور بیداری کے ساتھ مجلس کے کارپریٹر کارپوریشن میں آجاتے ہیں تو آپ کے علاقوں میں ترقی یقینی ہے ۔انہوں نے شیواجی کی مذہبی رواداری کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شیواجی مسلمانوں پر بھروسہ کرتے تھے اور ان کے نام پر سیاست کرنے والے لوگ اور پارٹی مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کا کام کرتے ہیں ۔ میں یہاں اس لئے نہیں آیا ہوں کہ میں اپنی لیڈر شپ کو مضبوط کروں ۔میں اس لئے ممبئی آیا ہوں کہ ممبئی کے ہر علاقے میں آ پ کا اپنا لیڈر ہو ۔اس لئے متحد ہو کر اپنی لیڈر شپ اور اپنی پارٹی کو مضبوط کرو۔نوجوانوں اپنی آواز اپنی پارٹی کو لے کر آگے بڑھنا ہے ۔اسدالدین اویسی نے کہا کہ 37000ہزار کروڑ کے بجٹ میں مسلمانوں کی آبادی کے حساب سے ہم لڑ کر اپنا حصہ لیں گے ۔اب تک جو مسلم محلوں کے ساتھ تفریق برتی گئی ہے اسے مجلس کے کارپوریٹر ختم کریں گے ۔ہم پسماندہ محلوں کی صورت بدلیں گے ۔ انہوں نے مجلس پر فرقہ پرستی اور سیکولر ووٹوں کی تقسیم کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر میں 2009 اور 2014 کے پارلیمانی الیکشن میں کوئی مسلم ایم پی کامیاب نہیں ہوا ۔کیا وہاں مجلس اس وقت مجلس تھی ۔حالیہ پارلیمانی الیکشن میں یوپی میں بھی کوئی مسلمان منتخب نہیں ہو سکا ۔اس وقت بھی مجلس نے یوپی الیکشن میں حصہ نہیں لیا تھا ۔انہوں نے مسلمانوں سے بے خوف ہو کر رہنے اور اپنا دستوری حق لینے کے لئے زور ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ کب تک ہمیں ڈراتے رہیں گے ۔ہم اب نہیں ڈریں گے ۔اگر شیو سینا اور بی جے پی جیت جاتی ہے تو اس میں ہمارا کیا قصور ۔ مجلس اتحادلمسلمین کو ممبئی کارپوریشن میں پہنچائیں۔ ہم آپ کے علاقوں میں ترقی کرکے دکھائیں گے ۔مسلم علاقوں میں نہ راستے درست ہیں نہ ڈرینیج سسٹم ٹھیک ہے ۔پانی کی سپلائی بھی اچھی طرح نہیں ہوتی ۔ انہوں نے سیکولر پارٹیوں اور سکولرزم کے نمائندوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ یہ نہ سیکولر ہیں اور نہ ہی حق و انصاف کا ساتھ دہینے والے ۔انہوں نے مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ وارث پٹھان کو جب بھارت ماتا کا نعرہ نہیں لگانے کی وجہ سے اسمبلی کے اس سیشن میں شمولیت پر پابندی عائد کردی تو کانگریس اور دیگر نام نہاد سیکولر پارٹیاں شیو سینا اور بی جے پی کے ہی خیمے میں تھے ۔ اسدالدین اویسی نے نریندر مودی کی کل کی تقریر میں حاملہ خواتین کیلئے چھ ہزار روپئے دینے کے اعلان کو مضحکہ خیز قرار دیا کیوں کہ یہ تو فوڈ سیکورٹی ایکٹ میں یہ نکات موجود ہے لیکن وزیر اعظم نے اسے دینے سے انکار کیا اب اسی قانون کو اپنے کھاتے میں ڈالنے کیلئے وہ یہ اعلان کررہے ہیں ۔انہوں نے وزیر اعظم کے دیگر اعلانات اور نوٹ بندی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔وزیر اعظم نے کہا تھا چھ ملین گھر بنا کر دیں گے ۔لیکن ابھی تک صرف چھ ہزار ہی گھر بن پائے ہیں ۔وزیر اعظم کے نوٹ بندی کے فیصلہ پر انہوں نے کہا کہ 220 ملین افراد بے روزگار ہو گئے ۔انہوں نے اس فیصلہ کو صرف وزیر اعظم کی اپنی شہرت کی ہوس قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہندوستان کے کروڑوں غریب عوام کو تباہ کردیا ۔