ایودھیا معاملہ پر عدالت عظمی کا فیصلہ، متنازع زمین ہندوؤں کو دینے کا حکم

11:57AM Sat 9 Nov, 2019

سپریم کورٹ نے اترپردیش کے شہر ایودھیا میں بابری مسجد اور رام مندر کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے متنازع زمین ہندوؤں کے حوالے کرنے کا حکم دیتے ہوئے مسلمانوں کو پانچ ایکڑ متبادل زمین دینے کی ہدایت کی ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے اس اہم کیس کا فیصلہ سنایا۔

مذکورہ بینچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس ایس اے بوبڈے، ڈی وائی چندر چوڑ، اشوک بھوشن اور ایس عبد النذیر شامل تھے۔

چیف جسٹس آف انڈیا کے مطابق یہ متفقہ فیصلہ ہے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بابری مسجد خالی زمین پر تعمیر نہیں کی گئی تھی جب کہ جس جگہ یہ مسجد تعمیر کی گئی وہاں مسلمانوں کی پہلے کوئی تعمیر نہیں تھی۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹ کے مطابق اس جگہ پر پہلے مندر تھا لیکن محکمے نے یہ تصدیق نہیں کی کہ یہ مندر گرا کر بابری مسجد تعمیر کی گئی یا نہیں۔

عدالت نے حکم دیا کہ سنی وقف بورڈ کو مسجد کی تعمیر کے لیے ایودھیا میں متبادل جگہ دی جائے۔ عدالت نے متنازع زمین ہندوؤں کو دینے کا حکم دیتے ہوئے مندر کی تعمیر کے لیے تین ماہ میں ٹرسٹ قائم کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں چھ دسمبر 1992 کو بابری مسجد کو منہدم کرنے کے اقدام کو بھی غیر قانونی قرار دیا ہے۔
عدالتی فیصلوں پر ہندو تنظیموں کے کارکن خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔
عدالتی فیصلے پر اپنے ردعمل میں  وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ اس فیصلے سے ایک بار پھر عدلیہ میں عوام کا اعتماد مضبوط ہوا ہے۔ ان کے بقول اس فیصلے کو کسی کی جیت اور کسی کی شکست کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
نئی دہلی میں وائس آف امریکہ کے نمائندے سہیل انجم کے مطابق ہندو تنظیم راشٹریہ سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایودھیا میں مسجد کی تعمیر ہوتی ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ انہوں نے اس تنازع کے تمام فریقین کا شکریہ ادا کیا۔ صدر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین اسد الدین اویسی نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے کہا ہے کہ بھارت ہندو ریاست بننے جا رہا ہے۔ اسد الدین اویسی کا کہنا تھا کہ ہم پانچ ایکڑ زمین کے لیے نہیں بلکہ اپنے قانونی حق کے لیے لڑ رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے مسلمان اتنے کمزور نہیں کہ وہ اپنے وسائل سے مسجد تعمیر نہ کر سکیں۔ اسد الدین اویسی کے بقول آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کو یہ زمین لینے سے انکار کر دینا چاہیے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے توقعات کے برعکس قرار دیا ہے۔ بابری مسجد کمیٹی کے ظفریاب جیلانی نے بھارتی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے کر نظر ثانی کی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے مسلمانوں کو پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس بھی اس جگہ پر رام مندر تعمیر کرنے کے حق میں رہی ہے۔