عشرت جہاں فرضی انکاؤنٹرمعاملہ : ڈی جی ونجارااور این کے امین بری

12:33PM Thu 2 May, 2019

عشرت جہاں فرضی انکاؤنٹرمعاملہ میں ڈی جی ونجارااور این کے امین کو راحت مل گئی ہے۔ سی بی آئی کورٹ نے ان دونوں کو تمام معاملوں سے بری کردیا ہے ۔30اپریل کو سماعت کے بعد عدالت نے معاملے پر فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔۔ آج فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے ان دونوں کو فرضی انکاؤنٹر سے جڑے تمام مقدمات میں بری کردیاہے۔ عدالت نے ڈی جی ونجارااور این کے امین کے خلاف جاری تمام کاروائیوں کو بھی روکنے دینے کا حکم دیاہے۔ گجرات میں عشرت جہاں تصادم معاملہ سمیت کئی دیگر معاملات میں ملزم رہے سابق ڈی آئی جی ڈی جی ونجارا، جنہوں نے گذشتہ اسمبلی الیکشن سے قبل سرگرم سیاست میں داخل ہونے کی خواہش ظاہر کی تھی، نے کہا تھا کہ اب ان کی ترجیج تمام مجرمانہ مقدمات میں کلین چٹ حاصل کرنا ہےاوراس کے بعد ہی وہ سرگرم سیاست میں آنے کے بارے میں غورکریں گے۔ لوک سبھا الیکشن میں ان کے رول کے سلسلے میں جاری قیاس آرائیوں کے درمیان ڈی جی ونجارا نے کہا تھا کہ اب ان کی پہلی ترجیح بقیہ تمام مقدمات میں بری ہونا ہے۔ سیاست میں داخلہ اب ان کے لئے ثانوی معاملہ بن گیا ہے۔ انہوں نے یو این آئی سے کہا کہ وہ عوامی زندگی میں پہلے سے ہی ہیں اور کئی طرح کے سماجی اور سیاسی سرگرمیوں میں سرگرم ہیں۔ لیکن جہاں تک سرگرم سیاست میں آنے کی بات ہے تو اس سے پہلے انہیں کئی دیگر پہلووں پرغور کرنا ہوگا۔ ان کی پہلی ترجیح تمام مقدمات میں بری ہونے کی ہے۔ اس کے بعد وہ اپنی پسند کے مطابق کام کرسکتے ہیں۔ ڈی جی ونجارا نے مزید کہا کہ عوام کی خواہش ہے کہ وہ سیاست میں آئیں، لیکن اس طرح کی چھلانگ لگانے سے قبل وہ مجرمانہ مقدمات سے پوری طرح بری ہوجانا چاہتے ہیں۔ اور آج انہیں ایک کامیابی مل گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سہراب الدین شیخ تصادم معاملے میں تووہ پہلے ہی بری ہوچکے ہیں اور حال ہی میں ممبئی کی سی بی آئی عدالت کی طرف سے اس کے 22 دیگرملزمین کو بھی رہا کئے جانے سے ان کی یہ درست ثابت ہوئی ہے کہ تمام تصادم درست تھے۔ انہیں سیاسی رسہ کشی میں فرضی ثابت کیا گیا تھا، جس سے مستعدی سے اپنی ذمہ داری نبھانے والے پولیس اہلکاروں کو تکلیف اٹھانی پڑی۔