المنصور ایجوکیشنل ٹرسٹ کے زیر اہتمام ڈاکٹر احسان عالم کی کتاب ’’مولانا ابوالکلام آزاداور ان کا نظریۂ تعلیم‘‘ کا رسم اجراء

03:00PM Mon 21 Nov, 2016

المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام الحراء پبلک اسکول کے احاطہ میں رسم اجراء کا عمل مکمل درابھنگہ (راست ) ۲۰؍ نومبر ۲۰۱۶ بروز اتوارڈاکٹر احسان عالم کی کتاب ’’مولانا ابوالکلام آزاداور ان کا نظریہ تعلیم‘‘کا رسم اجراء الحراء پبلک اسکول کے وسیع و عریض احاطے میں ہوا۔ڈاکٹر احسان عالم نے مختلف عنوانات کے تحت بہت سارے مضامین قلم بند کئے جو مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہوتے رہے۔ ان کی تحریر میں ایک خاص بات یہ ہوتی ہے کہ وہ جس عنوانات پر قلم اٹھاتے ہیں اسے سہل اور سلیس زبان میں بیان کر دیتے ہیں۔یہ باتیں المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ،دمری منزل (ڈاکٹر آفتاب حسین کمپلکس)سبھاش چوک کے زیر اہتمام ڈاکٹر احسان عالم کی کتاب ’’مولانا ابوالکلام کلام آزاد اور ان کا نظریۂ تعلیم‘‘ کا رسم اجرا ء کے موقع پر المنصور ٹرسٹ کے سکریٹری ڈاکٹر منصور خوشتر نے کہا۔ انہوں نے کہا کہ احسان عالم عام موضوع پر بھی اپنی پوری گرفت بنائے رہتے ہیں۔ یہ ان کی پانچویں کتاب ہے اور مستقبل میں اور بہت ساری امیدیں وابستہ ہیں۔ پروگرام کی صدارت سابق صدر شعبۂ اردو متھلا یونیورسیٹی پروفیسر شاکر خلیق نے کیا جب کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر آفتاب اشرف (ایسوسی ایٹ پروفیسر ام۔ال۔اس۔ ام ، دربھنگہ) نے ادا کیا۔ڈاکٹر آفتاب اشرف نے اپنے نظامت کے دوران احسان عالم اور ان کی کتاب سے متعلق کئی اہم باتیں کیں۔ مہمان خصوصی کے طور پر پروفیسر ایم کمال الدین مہمان اعزا زی پروفیسر عبدالمنان طرزی رہے۔ رسم اجراء کے بعدانور آفاقی نے اپنے مختصر گفتگو کے دوران کہا کہ احسان عالم ان دنوں تواتر سے لکھ رہے ہیں اور امید ہے وہ آئندہ بھی لکھتے رہیں گے۔ صفی الرحمن راعین نے کہا کہ ’’اس کتاب میں ڈاکٹر احسان عالم نے مولانا ابوالکلام آزاد کے تعلیمی نظریات پر تنقید کے کئے زاوئیے سے روشنی ڈالی ہے۔ مصنف نے اشتراکی، جمہوری اور اسلامی تعلیمی نظریات کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے اور دور حاضر کے تقاضات کے پیش نظر جدید سائنسی تعلیم اور سائنسی ایجادات کا مثبت استعمال کو دلائل اور وضاحت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ڈاکٹر بدر الدین صاحب نے اس کتاب کے مصنف کو ڈھیر ساری مبارک باد سے نوازا۔ احتشام الحق نے اپنے چند جملوں میں ڈاکٹر احسان عالم کے ادبی کاوشوں کی تعریف کی اور بہت ساری امیدیں ظاہر کیں۔ شکیل احمد سلفی نے مبارک باد کے ساتھ ڈاکٹر احسان عالم اور چند دیگر نوجوانوں مثلاً احتشام الحق اور ڈاکٹر منصور خوشتر سے دیگر امیدیں وابستہ کرتے ہوئے چند مفید مشوروں سے نوازا۔ پروفیسر عبدالمنان طرزی نے اپنے خطبہ میں کہا کہ ’’ ڈاکٹر احسان عالم کو میں بہت قریب سے جانتا ہوں ۔ وہ اپنے افکار و نظریات کے فنکارانہ اظہار میں بڑے سچے، مخلص اور کامیاب تو ہیں ہی ، اہم خوبی یہ ہے کہ وہ ابتدا سے انتہا تک اپنے موضوع سے فکری وابستگی نہایت محکم انداز میں قائم رکھتے ہیں۔ آپ کا اسلوب تعقید ، ابہام اور ژولیدگی سے قطعی طور پر پاک ہوتا ہے۔بیان کی سلاست ، موضوع سے برتاؤ کی صداقت ، مطالعے کی وسعت ، تنقیدی نکتہ سنجی اور فکری و فنی اوصاف شناسی کسی آبجو کے غنائی ،سنجیدہ اور مہذب بہاؤ کی طرح ہے۔ یہ ان کی نگارش کی نمایاں خوبیاں ہیں۔‘‘پروفیسر ایم کمال الدین نے کتاب اور کتاب کے مصنف کے سلسلہ میں چند باتیں کیں ساتھ ہی لوگوں کو یہ نیک مشورہ دیا کہ لوگ اردو کی جانب خصوصی توجہ دیں ۔ وہ ویسے بچوں کو اردو پڑھنے کی ترغیب دیں جو اس سے نابلد ہیں۔ ہفتہ میں ایک گھنٹہ ہی اپنا قیمتی وقت اگر بچوں کے اردو کی تعلیم پر لگادیں تو یہ ان کے لئے بڑی عمدہ بات ہوگی۔ پروفیسر شاکر خلیق نے اپنے صدارتی خطبہ میں ڈاکٹر احسان عالم کی صاف، سلیس ، سادہ انداز بیان سے لوگوں کو روبرو کراتے ہوئے انہیں مبارک باد پیش کیا۔ مستفیض احد عارفی نے اپنی گفتو میں بتایا کہ احسان عالم کے تمام مضامین کا اسلوب اور انداز بیان یکساں ہے یعنی سادہ اور صاف ہے۔رسم اجراء کے موقع پرانور آفاقی، ڈاکٹر منصور خوشتر، ایڈوکیٹ فردوس علی، عرفان پیدل، احتشام الحق، ڈاکٹر بدرالدین، مولانا مہدی رضا روشن القادری، زاہد حسین قادری، گلاب انصاری، ساجد قیصر انصاری، بدیع الزماں، ارمان، عبدالقیوم مریدی، انجینئر انور علی خاں، ڈاکٹر فاروق عظیم، حسین احمد رضا، اویس شہزادہ، منہاج عالم، طارق اظہر، محمد توصیف وغیرہ حضرات موجود تھے۔ کتاب اور مصنف کے تعلق سے ان حضرات نے کئی کارآمد باتیں پیش کیں۔