پرانی گردہلی میں آگ حادثہ کی تحقیقات کا حکم

12:36PM Sun 2 Apr, 2017

ریاستی وزیر جارج، میئر پدماوتی اورمقامی لیڈروں نے مقام واردات کا دورہ کیا۔ معاوضہ کا اعلان بنگلورو۔ (بھٹکلیس نیوز) حلقہ چامراج پیٹ کے پادرائن پورہ وارڈ نمبر136کی حدود میں آنے والے ونائکا نگر سکینڈ کراس پر واقع کرسیوں کے ایک کارخانہ میں لگی آگ کے حادثہ میں ہلاک ہوئے مہلوکین کے ورثا کو حکومت کی جانب سے فی کس 5؍لاکھ روپے معاوضہ جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کل رات بنگلور ترقیات وزیر کے جے جارج نے میئر جی پدماوتی کمشنر منجوناتھ پرساد، جے جے آر نگر وارڈ کے کارپوریٹر سیما الطاف خان، ان کے شوہر وکانگریس لیڈر بی کے الطاف خان ، بی بی ایم پی (فائنانس) شعبہ کے اسپیشل کمشنر منوج راجن، جوائنٹ کمشنر (ویسٹ) پالنگپا کے ہمراہ یہاں پہنچ کر معائنہ کیا اورمقامی پویس اور قائدین سے تفصیلات حاصل کیں۔ اس موقع پرکے جے جارج نے کہاکہ مذکورہ 4منزلہ عمارت میں جہاں کرسیوں کی فیکٹری کے علاوہ دینی مدرسہ بھی چل رہا ہے جمعہ کو مدرسہ کی چھٹی کی وجہ سے بڑا حادثہ ٹل گیا ہے ورنہ مزید جانوں کو خطرہ ہوسکتا تھ ۔انہوں نے افسران کو حکم دیا کہ وہ اس معاملہ کی مکمل جانچ کرکے انہیں رپورٹ پیش کریں۔ اس موقع پر انہوں نے اس حادثہ میں جل کر ہلاک ہونے والے شیموگہ کے قاری حفظ اللہ مشکواتی (35) اور مزدور محمد مہتاب (27) کی موت پر اپنے افسوس کا اظہارکیا۔ میئر جی ۔پدماوتی ، بی بی ایم پی اسپیشل اسٹانڈنگ کمیٹی کی چیرپرسن سیما الطاف خان نے بھی اس حادثہ پر اپنے دکھ کا اظہارکرتے ہوئے اس معاملہ کی جانچ کا حکم دیا۔ مقامی رکن اسمبلی بی۔ زیڈ ضمیر احمد خان ، پادرائن پورہ وارڈ کے کارپوریٹر عمران پاشاہ ان کے والد وسابق کارپوریٹر عارف پاشاہ نے بھی آگ حادثہ کی اطلاع پاکر فوری جائے وقوع پہنچ کر اپنے دیگر رفقاء ، مدارس اور مساجد کے ذمہ داران ومقامی مکینوں اور فائر سرویس عملہ کے ساتھ عمارت میں پھنسے افراد کو باہر نکالنے میں تعاون کیا۔ ضمیر احمد خان نے اس آگ حادثہ میں جل کر ہلاک ہونے والے دونوں مہلوکین کے لئے فی کس ڈھائی لاکھ روپیوں کا اعلان کیا اس کے علاوہ وہ وکٹوریہ اسپتال پہنچ کر دونوں لاشوں کے پوسٹ مارٹم کی کارروئای کے دوران موجود رہے۔ انہوں نے رنج وغم کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ مدرسہ دارالبقاء مدرسہ کے استاد قاری حفیظ اللہ مشکوٰتی جو شیموگہ کے رہنے والے ہیں اس مدرسہ میں گزشتہ کئی برسوں سے اپنی دینی خدمات انجام دے رہے تھے وہ دیگر افراد کو عمارت سے باہر نکالنے میں کامیاب رہے لیکن اپنی جان بچانے میں ناکام رہے۔ انہوں نے ان کے ورثا کو دلاسہ دیا۔ محمد مہتاب کی موت پر بھی گہرے افسوس کا اظہارکیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق مرحوم قاری حفیظ اللہ کا دوسال قبل صوفیا نامی عورت سے نکاح ہواتھا انہیں نعمان نامی ایک سالہ لڑکا بھی ہے۔ اور وہ گزشتہ ایک برس سے مدرسہ دارالبقاء میں اپنی خدمات انجام دے رہے تھے۔ مولانا محمد شافع سلمان مظاہری کے مطابق متوفی قاری حفیظ اللہ مشکوٰتی مسجد قباء کے زیراہتمام چل رہے مدرسہ دارالبقا جو اس مسجد کے احاطے میں چل رہا ہے پڑھارہے تھے۔ وہ کرسیوں کی فیکٹری میں بھی کام کررہے تھے ان کے ماتحت 15؍لڑکے کام کرتے تھے۔ مسجد قبا کے ذمہ داران اور مدرسین نے ان کی موت پر رنج وغم کا اظہارکیا ہے۔ رکن اسمبلی ضمیر احمد نے امبولینس کی سہولت مہیا کرتے ہوئے قاری حفیظ اللہ کی میت کو شیموگہ کے لئے روانہ کیا جب کہ مہتاب جن کا تعلق نئی دہلی سے ہے ان کے بڑے بھائی محمد عطاء اللہ کے ہمراہ میت دہلی روانہ کی گئی۔